عام انتخابات اور ضابطہ اخلاق؟

July 06, 2018
 

عام انتخابات میں تقریبا تین ہفتے باقی رہ گئے ہیں لیکن ملک بھر میں ابھی تک پوری طرح الیکشن کا ماحول نہیں بن سکا۔ اگرچہ تحریک انصاف، متحدہ مجلس عمل، مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کے امیدوار انتخابی کارنر میٹنگز میں مصروف ہیں۔ چونکہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف لندن میں موجود ہیں اور اُن کی واپسی کے بظاہر آثار نظر نہیں آرہے اس لئے مسلم لیگ (ن) پورے اعتماد اور یکسوئی کے ساتھ انتخابی میدان میں نہیں اتر پائی۔ لگتا یہ ہے کہ 25جولائی تک انتخابی مہم میں سابق حکمراں جماعت گومگو کی اسی کیفیت کا شکار رہے گی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے الیکٹیبلز بھی پارٹی کی بجائے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس صورتحال میں مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف شدید بے چین اور مضطرب ہیں۔ لاہور سمیت پنجاب کو مسلم لیگ (ن) کا گڑھ سمجھا جاتا تھا مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ منظر نامہ تبدیل ہوچکا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ پانچ سالہ کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ نوازشریف کے پچھلے دور حکومت میں سڑکیں، پل اور میٹرو بسیں بنانے پر تو زور رہا مگر عوام کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آسکی۔ تعلیم اور صحت پر کسی نے توجہ نہیں دی جبکہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ حتیٰ کہ لوڈشیڈنگ کا عذاب بھی ختم نہ ہوسکا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کیلئے اقدامات خوش آئند ہیں۔ اس بار عام انتخابات کے موقع پر دھاندلی سے بچنے کیلئے پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر فوجی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ بھی قابل تحسین ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کیلئے شفاف اور منصفانہ انتخابات ناگزیر ہیں۔ ماضی میں 1970سے2013کے انتخابات تک جتنے الیکشن بھی ہوئے سب پر دھاندلی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق عام انتخابات کے موقع پر ڈھائی لاکھ فوجی اہلکار چاروں صوبوں میں پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر موجود ہونگے۔ یہ ایک اہم فیصلہ ہے، جسکے یقیناً اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ انتخابی قوانین پر سختی سے عمل درآمد ازحد ضروری ہے۔ تشدد کے ذریعے امیدواروں کو ہراساں کرنے اور انکی ریلیوں اور کارنرمیٹنگز کو درہم برہم کرنا، اسی طرح مختلف جماعتوں کے امیدواروں کا اپنی تشہیر کے لئے انتخابی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کروڑوں روپے خرچ کرنے پر الیکشن کمیشن کو جلد حرکت میں آنا چاہئے۔ کیونکہ اگر ان انتخابات میں بھی انتخابی قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا دھجیاں بکھیر کر من مانے نتائج حاصل کئے گئے تو ملک میں حقیقی جمہوریت کبھی قائم نہ ہوسکے گی۔ ملکی آئین میں شفاف انتخابات کی ضمانت دی گئی ہے۔ نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عدلیہ کے تعاون سے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کو ممکن بنائے۔ اگر2013کے انتخابات کی طرح اس بار بھی الیکشن متنازع ہوئے تو جمہوریت مستحکم نہ ہوسکے گی بلکہ کمزور جمہوریت کی وجہ سے مستقبل میں اداروں کے درمیان محاذ آرائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ احتساب اور انتخاب کو ساتھ ساتھ چلنا چاہئے۔ اس میں دورائے نہیں کہ کرپٹ عناصر کو آئندہ اسمبلیوں میں نہیں آنا چاہئے مگر اسکا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ احتساب کے نام پر کسی ایک پارٹی کو انتقام کا نشانہ بنایا جائے۔ احتساب سب کا اور بلا امتیاز ہونا چاہئے۔ نوازشریف فیملی کو بھی واپس آکر عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اگر مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپنے خود کو بے قصور سمجھتی ہے تو اسے راہ فرار اختیار کرنے کی بجائے عدالتی کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہئے۔ سندھ میں جب پیپلزپارٹی کے خلاف احتساب ہورہا تھا تو مسلم لیگ (ن) خاموش تھی لیکن اب وہ کرپشن مقدمات پر شور مچا رہی ہے۔ پاناما لیکس میں شامل436 پاکستانیوں کو بھی احتساب کے شکنجے میں لانا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ اسی طرح دبئی لیکس، پیراڈائز لیکس اور قرضے معاف کرانے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہئے، احتساب کے نام پر مذاق نہیں ہونا چاہئے۔ پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور دیگر پارٹیوں میں کرپٹ عناصر موجود ہیں تو ان کا قلع قمع کرنا ہوگا۔ اسی تناظر میں سینئر صحافی، شاعر اور ادیب جناب سعید آسی بھی اپنی حال ہی میں شائع ہونیوالی کتاب ”تیری بکل وچ چور“ میں لکھتے ہیں کہ موجودہ انتخابی نظام میں صرف دھن دولت والے مراعات یافتہ طبقات ہی کے لئے انتخابی عمل میں شریک ہونے کی گنجائش نکالی گئی ہے۔ سعید آسی کی کتاب میں تاریخی حقائق بیان کئے گئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے قائداعظم لائبریری باغ جناح لاہور میں مجھے بھی بطور مہمان سعید آسی کی کتاب ”تیری بکل وچ چور“ کی تقریب رونمائی میں شرکت کا موقع ملا۔ میں نے پروگرام سے اظہار خیال کرتے ہوئے عرض کیا کہ مضبوط جمہوریت سے ہی پاکستان ترقی وخوشحالی کی جانب رواں دواں ہوسکتا ہے۔ جناب سعید آسی ادب وصحافت کے میدان میں ایک نامور شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ ایک درددل رکھنے والے انسان ہیں جو ملک وقوم کے لئے تڑپ رکھتے ہیں۔
ہاں توبات ہورہی تھی 25جولائی کے انتخابات اور ضابطہ اخلاق کی! الیکشن میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی کھلم کھلا خلاف ورزی انتہائی قابل مذمت ہے۔ الیکشن کمیشن کو 5بڑی بے ضابطگیوں جن میں امیدواروں کی جانب سے عام انتخابات کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، ریٹرننگ افسران، ٹربیونل اور سرکاری افسران کی امیدواروں کے ساتھ مل کر انتخابی مہم میں شرکت، امیدواروں کو ہراساں کرنا شامل ہیں، کا فوری نوٹس لینا چاہئے۔ ملک میں صاف، شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے الیکشن کمیشن کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب تک ملک میں کرپٹ اور بدعنوان افراد برسراقتدار آتے رہیں گے اس وقت تک ملک و قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔ انتخابات کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کروایا جائے تاکہ شفاف قیادت میسر آسکے۔ الیکشن کسی بھی طور پر متنازع نہیں ہونے چاہئیں بصورت دیگر دھاندلی کی شکایات جمہوری تسلسل کی راہ میں رکاوٹ حائل کرسکتی ہیں۔ 2018کے انتخابات ملک میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں اور کرپٹ اشرافیہ کاراستہ روکا جائے۔ 70سال سے ملک وقوم ان بے رحم عناصر کے رحم وکرم پر ہیں۔ قوم کے پاس اپنی تقدیر بدلنے کا یہ ایک نادر موقع ہے، ہم حقیقی نمائندوں کا انتخاب کر کے اپنا مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں۔ ماضی میں برسراقتدار طبقے نے لوٹ مار کے علاوہ کچھ نہیں کیا، انہوں نے اپنے بینک بیلنس میں اضافہ کرنے کے لئے ملک و قوم کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ آزاد اور منصفانہ انتخابات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ الیکشن کمیشن کو اس ضمن میں سنجیدہ عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس وقت دنیا بھر کی نظریں پاکستان کے عام انتخابات پرلگی ہوئی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن 25جولائی کو آزادانہ اور منصفانہ الیکشن کروانے میں کامیاب ہوتا ہے یا پھر ماضی کی طرح ان انتخابات پر بھی سوالات اٹھیں گے؟
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں