رولا رپا

August 10, 2018
 

شاہراہ دستور پر پانچ چھ سو افراد کا ہجوم دیکھنے کے بعد پیپلزپارٹی کے سینئر اور سوبر رہنما نوید چوہدری نے فون کیا، کہنے لگے ’’آپ نے اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کے بارے میں جگتو فرنٹ تو لکھ دیا تھا آپ کو ایم آر ڈی کا اتحاد یاد نہیں رہا؟ آپ دیکھ رہے ہیں احتجاج....‘‘ نوید چوہدری کی خدمت میں عرض ہے کہ گیارہ بارہ جماعتوں نے جس احتجاج میں حصہ لیا، اس میں گیارہ بارہ سو افراد بھی شریک نہیں ہوئے۔ چار سو افراد تو میڈیا کے تھے، پچاس افراد اسپیشل برانچ اور دیگر اداروں کے سول کپڑوں میں تھے۔ باقی حساب آپ خود لگالیں اور پھر سوچیں کے لوٹ مار کرنے والی سیاسی جماعتوں کو لوگوں نے کس طرح مسترد کیا۔ اس احتجاج میں ہر سیاسی جماعت کے فوٹو مافیا کے چند افراد شریک ہوئے۔ جس سمندر کی توقع تھی وہ تو نہ آیا، عوام کا سمندر تو کیا د ریا بھی نہ آسکا بلکہ ایک برساتی نالہ ثابت ہوا ۔ جونہی ساون کی بارش ختم ہوئی، نالے سے پانی اتر گیا۔اب جگتو فرنٹ اور ایم آر ڈی

کی بات کرلیتے ہیں۔ جگتو فرنٹ میں بھی پاکستان کے مخالف شامل تھے۔ اس نام نہاد اتحاد میں بھی پاکستان کے مخالفین ہیں۔ اگریقین نہ آئے تو پھر احتجاج کرنے والوںکے نعرے سن لیں۔ وہ نہ ملیں تو مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر سن لیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے ایسے ہر جلوس سے نفرت ہے جس میں میرے ملک کے خلاف نعرے بازی ہو ۔ مجھے بعض رہنما اسی لئے اچھے نہیں لگتے کہ ان کے نظریات پاکستان کے حوالے سے درست نہیں ہیں ۔ کون نہیں جانتا کہ کس کس جماعت نے پاکستان کی مخالفت کی تھی۔ اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج نے بہت سے چہروں کو بے نقاب کردیا ہے۔ گویا بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ وہ جو 1947میں قیام پاکستان کے خلاف تھے، آج وہ استحکام پاکستان کے خلاف ہیں۔ ویسے معذرت کے ساتھ آپ کسی بھی مولوی کومسجد سے نکال دیں تو وہ شور شرابہ ضرور کرے گا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال سیاسی حالات میں ہے۔ ایم آر ڈی کی قیادت نوابزادہ نصراللہ خان جیسا معتبر اور وضعدار سیاستدان کر رہا تھا۔ایم آر ڈی کی تحریک خالصتاً جمہوری جذبے کے تحت چلائی گئی تھی۔ ایم آر ڈی کی تحریک کے پیچھے جذبہ تھا، کسی کا پیسہ نہیں تھا۔ ایم آرڈی جمہوریت کی بحالی کے لئے ایک کامیاب تحریک تھی۔ اس میں کرسی سے زیادہ نظریات کادخل تھا مگراب تو اقتدار پرستوں کا ایک ہجوم ہے۔ یہ ہجوم ملک کے خلاف نعرے بازی بھی کرتاہے، نفرت بھی پھیلاتا ہے۔ اس کی قیادت نوابزادہ نصراللہ خان کے پاس نہیں بلکہ ایک مولانا کے پاس ہے۔ مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں بس اتنا ہی کافی ہے کہ سربراہی مولانا صاحب کے پاس ہے۔ اس احتجاج میں سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ اس میں آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، میاں شہبازشریف اور اسفند یار ولی شریک ہی نہیں ہوئے۔ کیا احتجاج تھا کہ راجہ پرویز اشرف اور جاوید اخلاص ایک ساتھ احتجاج کر رہے تھے۔ راجہ پرویز اشرف نے حالیہ الیکشن میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ جاوید اخلاص کا شکست میں تیسرا نمبر تھا۔ جیتنے اورہارنے والے پتہ نہیں کس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں؟ سوشل میڈیا نے راجہ پرویز اشرف اور جاوید اخلاص کی تصویر کو خوب گھمایا ہے۔

میرے ایک دوست نے ابھی ایک لسٹ بھی دی ہے جس میں محمود اچکزئی کے درجن سے زائد رشتہ داروںکے نام ہیں۔ یہ تمام افراد پچھلے پانچ سال اقتدارکے مزے لوٹتےرہے۔ اب یہ تمام ایک دم بیروزگار ہوگئے ہیں۔ جس کے پندرہ رشتہ دار اکٹھے بیروزگارہوجائیں وہ رولا تو ڈالے گا، شور تو کرے گا۔

دھاندلی نہیں ہوئی۔ اس کی وضاحت کے لئے میں چار مثالیں پنجاب ہی سے پیش کرتا ہوں تاکہ آپ کو آسانی سے سمجھ آسکے۔ راولپنڈی ڈویژن میں ہر طرف پی ٹی آئی کی جیت نظرآئی مگر گوجرخان سے پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف قومی اسمبلی کے رکن بن گئے۔ دھاندلی انہیں ایم این اے بننے سے نہ روک سکی۔ مسلم لیگی ارسطو احسن اقبال نے پی ٹی آئی کے گلوکار سیاستدان کو ایک بڑے مارجن سے شکست دی۔ بڑا مارجن کم نہ ہوسکا۔ ضلع مظفرگڑھ سے پیپلزپارٹی کے تین ایم این اے بن گئے جہاں صرف ایک ایم این اے بننے کی توقع تھی۔ دھاندلی کے نہ ہونے کی مزید وضاحت کے لئے اگلی دو مثالوں کاجائزہ لینا بہت ضروری ہے۔ تیمور علی بھٹی جھنگ کے دیہی علاقے کارہنے والا ہے ۔ یہ نوجوان پی ٹی آئی سے وابستہ تھا مگر پی ٹی آئی نے اسےٹکٹ نہ دیا۔ یہ نوجوان آزاد کھڑا ہو گیا۔ تیمور علی بھٹی نے مخالف امیدوار کو 13ہزار ووٹوں کے مارجن سے ہرایا جبکہ پی ٹی آئی کا امیدوار تیسرے نمبر پر آیا۔ اگر تحریک انصاف سے اتنا ہی لاڈ تھاتو پھر تیمور بھٹی کیسے جیت گیا اور پی ٹی آئی کا امیدوار تیسرے نمبر پر کیسے آیا؟ کوٹ ادو کی مثال آپ کے سامنے ہے جہاں سے ایک نوجوان شبیر قریشی نے دس سال سے پی ٹی آئی کا پرچم تھام رکھا تھا مگر پارٹی نے اس نوجوان کو ٹکٹ کے قابل نہ سمجھا اور ٹکٹ سابق گورنر پنجاب ملک غلام مصطفیٰ کھرکودے دیا۔ شبیر قریشی معاشی حالت کابہانہ بناکرگھربیٹھ گیا مگر اس کے دوستوں نے نہ بیٹھنے دیا۔ خیر یہ نوجوان آزاد حیثیت میں امیدوار بن گیا۔ الیکشن ہوا توشبیر قریشی نے مصطفیٰ کھر کو شکست دے دی۔ ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ لوگوں نے عمران خان کے ٹکٹوں کے غلط فیصلوں کو مسترد کیا لیکن پی ٹی آئی فیس کو مسترد نہیںکیا۔ پی ٹی آئی نے جیتنے کے لئے کسی بڑے لیڈر کو ٹکٹ دیا مگر لوگوں نے اس نوجوان کو آزاد حیثیت میں جتوا دیا جس نے برسوں پی ٹی آئی کے لئے دھکے کھائے تھے۔ایسا جگہ جگہ ہوا۔ ملتان میں جس نوجوان نے شاہ محمود قریشی کو صوبائی نشست پر شکست دی وہ بھی پی ٹی آئی ہی کا تھا۔ اسی طرح فیصل آباد سے اجمل چیمہ اور لیہ سے ڈاکٹر رندھاوا آزاد حیثیت میں جیتے۔

جہلم سے تعلق رکھنے والے چوہدری فراز حسین حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انہوںنے ایک خوبصورت تبصرہ کیا ہے اور آخر میں پنجابی کاتڑکہ بھی لگا دیا ہے۔ فراز چوہدری کہتے ہیں ’’خان صاحب کو طاقتور لوگ لائے ہیں لیکن نواز شریف تین بار وزیراعظم پبلک سروس کمیشن کا امتحان دے کر بنا، صدقے تہاڈی سائنس دے‘‘

لگے ہاتھوں مستنصر حسین تارڑ کا تبصرہ بھی پڑھ لیں۔ تارڑ صاحب فرماتے ہیںکہ ’’مجھے ان دنوں صرف ’’خلائی مخلوق‘‘ سے شکایت ہے۔ اس نے یہ کیسی دخل اندازی کی کہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ، شیخوپورہ وغیرہ سے نون لیگ اکثریت سے جیت گئی؟؟ اور پیپلزپارٹی سندھ سے کامیاب ہوگئی۔ عمران خان کی یہ کیسی پشت پناہی کی کہ وہ سادہ اکثریت کے لئے دھکے کھاتا پھرتا ہے۔ یہاں تک کہ ایم کیو ایم کے دروازوںپر دستک دیتا ہے؟ ’’خلائی مخلوق‘‘ مجھے تم سے بہت گلہ ہے اگر تم نے بدنامی مول لینا ہی تھی تو عمران خان کے الیکشن ڈبے میں کم از کم دو سو نشستیں تو ڈال دی جاتیں مگر ’’خلائی مخلوق‘‘ اگر ہوتی تو ایسا ہوتا۔ الیکشن میں خلائی نہیں خدائی مخلوق تھی جس نے عمران خان کو ووٹ دیا۔ آپ چیک کرلیجئے۔ میرے انگوٹھے پر سیاہی کا ایک نشان ہے اور میں خدائی مخلوق ہوں.....‘‘

یہ تبصرہ ملک کے اس نامور لکھاری کا ہے جس کے سفرنامے لوگ شوق سے پڑھتے ہیں۔ جس کی تحریریں شاہکار ہیں۔ اب ڈاکٹر خورشید رضوی کے دویادگار اشعار؎


وہ نگیں جو خاتم زندگی سے پھسل گیا


تو وہی جو میرے غلام تھے، مجھے کھا گئے


میں وہ شعلہ تھا جسے دام سے تو ضرر نہ تھا


یہ جو وسوسے تہہ دام تھے، مجھے کھا گئے


(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں