پہلی مرتبہ انجکشن کے ذریعے انسولین لگانے کی گائیڈلائن جاری

August 11, 2018
 

پاکستان میں ذیابطیس کے مریضوں کی تعداد 3کروڑ 50لاکھ سے زائد ہے جن میں سے صرف 4سے 5لاکھ مریض اپنی شوگر کنٹرول کرنے کے لئے انسولین کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں ذیابطیس کے مریض شوگر بڑھ جانے کے نتیجے میں اپنی ٹانگوں سے محروم ہوجاتے ہیں اور کچھ عرصے میں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔

دوسری طرف غلط انسولین ا ستعمال کرنے والے مریضوں کو آگہی نہ ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات اپنے ہاتھوں اور پیروں سے محروم ہونا پڑتا ہے ، ان خیالات کا اظہار عالمی اور پاکستانی ماہرین نے گائیڈ لائن نیشنل ایسوسی ایشن آف ڈائیبیٹیز ایجوکیٹرز آف پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ ڈائیبیٹیزکانفرنس کے دوران کیا۔

کانفرنس سے بیلجیم سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر کرسٹین وین ایکر،تھائی لینڈ کے ڈاکٹر گلاپار سیری واسدی، انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز فیڈریشن مینا ریجن کے سربراہ پروفیسر عبد الباسط، تنزانیہ سے تعلق رکھنے والے ماہر امراض زیابطیس ڈاکٹر ذوالفقار جی عباس، کانفرنس کے چیئرمین پروفیسر زاہد میاں،متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے پروفیسر حمید فاروقی ،پروفیسر بلال بن یونس ، مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر طارق فیاض، پروفیسر جمال ظفر ،ڈاکٹر عصمت نواز، ڈاکٹر سیف الحق، ڈاکٹر مسرت ریاض ، ڈاکٹر ظفر عباسی،ڈاکٹر ارم غفورنے بھی خطاب کیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنزانیہ کے ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر ذوالفقار جی عباس کا کہنا تھا کہ دنیا کی ایک بہت بڑی آبادی ذیابطیس کا شکار ہوکر پاؤں کٹنے کے خدشات سے دور چار ہے،انسولین کا استعمال ذیابطیس پر کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔جن لوگوں کے پاؤں میں شوگر کی وجہ سے زخم ہوجائیں انہیں انسولین کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ ان کی ٹانگوں کو کٹنے سے بچایا جا سکے۔

کانفرنس کے چیئرمین پروفیسر زاہد میاں نے اعداد و شمار کی مدد سے بتایا کہ پاکستان میں سالانہ دو لاکھ 70ہزار مریض پاؤں اور ٹانگیں کٹنے کی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتے ہیں ، خوش قسمتی سے ان میں سے 80فیصد افرادکے اعضاء کو علاج اور آگہی کے ذریعے ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ ایسے جوتے تیار کر رہا ہے جس کے نتیجے میں پاؤں کی بہتر حفاظت ہو سکتی ہے اور یہ جوتے یورپین مشینوں کے ذریعے تیار کیے جانے کے باوجود نہایت ارزاں قیمت پر مریضوں کو مہیا کیے جاتے ہیں۔

انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز فیڈریشن مینا ریجن کے سربراہ پروفیسر عبد الباسط کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے طول و ارض میں ایک سو پندرہ فٹ کلینک قائم کیے ہیں ،جہاں پر ذیابطیس میں مبتلا مریضوں کو علاج کی سہولتیں فراہم کرکے ان کے اعضاء کو کٹنے سے بچایا جا تا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کانفرنس کا مقصد زیابطیس کے نتیجے میں ہونے والی باہ کاریوں سے آگہی پھیلانا ، ضرورت مند مریضوں کو انسولین کے استعمال کی طرف راغب کرنا ، انسولین کو استعمال کرنے کی آگہی فراہم کرنا اور غلط طریقوں سے انجکشن لگانے کے ممکنہ تباہ کاریوں سے مریضوں کو بچانا ہے ۔

بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبٹالوجی اینڈ انڈوکرائینالوجی سے وابستہ ڈاکٹر مسرت ریاض کا کہنا تھا کہ انسولین ایک جان بچانے والا محلول ہے جس کے ذریعے پوری دنیا میں ہر سال لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں ۔بد قسمتی سے پاکستان میں انسولین استعمال کرنے والوں یی تعداد بہت کم ہے ان میں سے بھی مریضوں کی اکثریت انسولین کو غلط طریقے سے لگاتی ہے ۔

انہوں نے اس موقع پر انسولین لگانے کی سفارشات (گائیڈلائن) پیش کیں اور ڈاکٹروں سے درخواست کی کہ وہ اپنے مریضوں کو Forum for injection techniques گائیڈ لائینز سے آگاہ کریں۔


مکمل خبر پڑھیں