دو کشتیوں کا سوار

August 13, 2018
 

عام انتخابات 2013ء کے بعد جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مرکز میں واضح اکثریت حاصل کرنیوالی جماعت مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کو قائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو حکومت بنانے کا موقع دینے کی بجائے وہ سب جماعتیں مل کر حکومت بنا لیں لیکن تب نواز شریف نے ان کی ایک نہ سنی اور اکثریت رکھنے والی پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کا موقع دیا۔ نواز شریف کا موقف تھا کہ عوام نے جس جماعت کو مینڈیٹ دیا ہے حکومت سازی کا حق بھی اسی کا ہے۔ حالیہ انتخابات میں خیبر پختونخوا سے پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی خصوصا خیبر پختونخوا میں روایت کے برعکس پشتون عوام کی طرف سے ایک ہی جماعت کو مسلسل دوسری بار دو تہائی اکثریت سے اقتدار سونپنے کے فیصلے نے نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو پانچ سال قبل اصول اور اخلاق کی بنیاد پرملکی سیاست میں نئی روایت ڈالنے کے فیصلے پر پچھتاوے میں مبتلا ضرور کیا ہوگا۔ یہاں مجھے مولانا فضل الرحمان کی وہ بات یاد آ رہی ہے جو انہوں نے تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت بننے کے بعد کی تھی کہ حکومتیں اکثریت کے بل بوتے پر بن تو جاتی ہیں لیکن چل صرف تدبر اور تجربے کی بنیاد پر ہی سکتی ہیں۔ تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا میں حکومت کرنے کے حوالے سے مولانا صاحب کا یہ قیافہ تو درست ثابت نہ ہو سکا البتہ اب عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تشکیل دیئے جانیوالے پاکستان الائنس فار فری اینڈ فیئر الیکشنز، کے مستقبل کے بارے میں ضرور خدشات جنم لے رہے ہیں کہ ضرورتوں اور مفادات نے مختلف سوچ کی حامل سیاسی جماعتوں کو بغض معاویہ میں ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا تو کر دیا ہے لیکن یہ اتحاد زیادہ دیرپا ثابت ہوتا نظر نہیں آتا۔ پاکستان الائنس میں شامل بعض جماعتوں کی قومی اسمبلی میں سرے سے نمائندگی ہی نہیں ہے جبکہ جے یو آئی ف ،عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی اور نیشنل پارٹی کے سربراہان اس اہم ایوان کا حصہ نہیں بن سکے تاہم نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو سینیٹ میں موجود ہیں۔ یہ امر فطری ہے کہ جس جماعت کے سربراہ قومی اسمبلی کا حصہ ہی نہیں ہیں انہیں اس ایوان سے کسی طور دلچسپی ہو ہی نہیں ہو سکتی، انکی بلا سے ایسی جمہوریت بھلے چھ ماہ نہ چل سکے۔ یہی وجہ ہے کہ الائنس میں پیش پیش مولانا فضل الرحمان نے سب سے پہلی تجویز ہی قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کرنیکی دی تھی تاہم اس تجویز کو پذیرائی نہ مل سکی اور چارو ناچار انہیں دیگر اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمنٹ کے فورم سے احتجاج بلند کرنے کے موقف کیساتھ چلنا پڑا۔ مولانا فضل الرحمان نے فیس سیونگ کیلئے اپوزیشن جماعتوں کواس بات پرقائل کر لیا کہ وہ پارلیمان کے باہر بھی سخت احتجاج کریں گی ،یہ بھی طے پایا کہ الیکشن کمیشن کے باہر 8 اگست کے احتجاج میں پاکستان الائنس میں شامل سیاسی جماعتوں کی تمام قیادت شرکت کرے گی۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے صدر شہباز شریف کی طرف سے احتجاج کی قیادت کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔ متفقہ فیصلے کے مطابق پاکستان الائنس میں شامل تمام جماعتوں کے مرکزی رہنما شاہراہ دستور پراکھٹے ہو گئے تاہم اعلان کے باوجود مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف لاہورسے اسلام آباد نہ پہنچ سکے۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے پارٹی صدر کی احتجاج میں عدم شرکت کیلئے موسم کی خرابی کا جواز گھڑنے کی کوشش کی لیکن احسن اقبال جیسے پروفیسر بھی شاہ زیب خانزادہ کی طرف سے اسی دن لاہور سے اسلام آباد کے درمیان پرواز کرنے والی فلائٹس سے متعلق بیان کردہ اعدادو شمار کا خاطر خواہ جواب نہ دے سکے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب سات دن بعد آنے والے دن کی ہر گھنٹے سے متعلق بھی موسم کی پشیں گوئی دستیاب ہے وہاں یہ بہانہ بنانا کہ احتجاج والے دن فلائٹ کے مخصوص گھنٹے میں ویدر سسٹم تھا اس پر یہ طنز بالکل بجا ہے کہ معاملہ موسم نہیں نیت کی خرابی کا تھا۔ شہباز شریف کی مرکز میں اپوزیشن کے احتجاج کے پہلے موقع پر ہی غیر حاضری نے پاکستان الائنس کے مستقبل پر بہت سے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں ،ان کے اس اقدام پر دیگر جماعتوں تو ایک طرف خود مسلم لیگ کے کارکنوں نے سخت نا پسندیدگی کا اظہار کیا ہے،یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بطور پارٹی صدر شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو مایوس کیا ہو بلکہ پارٹی قائد نواز شریف کی اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ لندن سے لاہور واپسی پر بھی ان کے لاہور ائیر پورٹ نہ پہنچنے کو شک سے نگاہ سے دیکھا گیا تھا۔ تب اس صلح جو رویے کو عام انتخابات کے باعث لیگی رہنماوں اور کارکنوں کو مقدمات میں الجھنے سے بچانے کی حکمت عملی قرار دیا گیا تھا لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ تب بھی مقصد بھرپور احتجاج یا بڑے بھائی اور بھتیجی سے اظہار یک جہتی نہیں بلکہ حاضری لگوانا اور خود کو محفوظ رکھنا تھا۔ اسی طرح عام انتخابات کے بعد جب پارٹی قائد نواز شریف کی واضح ہدایات کے باوجود پنجاب میں حکومت بنانے کی اندرون خانہ کوششیں کی گئیں تو ماڈل ٹاون میں منعقدہ پہلی پارلیمانی پارٹی میٹنگ میں مسلم لیگ ن کے رہنما بھی اس پھٹ پڑے تھے ۔ پارٹی رہنماوں کے تیور بھانپ کر شہباز شریف نے یہ اعتراف کرنے میں بھی عار محسوس نہ کی کہ ووٹ کو عزت دینے کا نواز شریف کا بیانیہ درست اور انکا مفاہمتی پالیسی پر چلنے کا بیانیہ غلط تھااور یہ عہد کیا کہ آئندہ نواز شریف کا بیانیہ ہی پارٹی کا بیانیہ ہو گا۔ شہباز شریف اب لاکھ تاویلیں پیش کریں لیکن ان کے مفاہمتی رویے کا نقصان لیگی کارکنوں میں مایوسی اور پاکستان الائنس میں آغاز ہی پر دراڑیں پڑنے کی صورت میں نمودار ہو چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس سے اگلے دن صوبائی دارلحکومتوں میں الیکشن کمیشن کے دفاتر کے بایر جو احتجاج کیا جانا تھا وہاں چند درجن سے بھی زیادہ کارکنان اکھٹے نہیں ہو سکے۔ مصلحت اور مفاہمت کے نام پر نظریہ ضروت پر چلنے والے شہباز شریف کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ووٹ کو عزت دینے کے بیانیے کے باعث کسی اور سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں بلکہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اپنی بیٹی سمیت اڈیالہ جیل میں اسیر ہیں، طبیعت کی خرابی کے باوجود جیل کی تنگ کوٹھری کی بجائے اسپتال میں قیام سے انکاری اس باپ بیٹی کی اس وقت طاقت مسلم لیگ ن اور اس کے کارکنان ہیں۔ ان کارکنان کو اس وقت ایک ایسی لیڈر شپ کی ضرورت ہے جو ان کے قائد کے بیانیے کو آگے لے کر چلے نہ کے ایک ایسے ایڈمنسٹریٹر کی جس کی دو کشتیوں پہ سوار ہونے کی پالیسی نواز شریف اور مریم نواز کی قربانی کو بھی گہنا دے۔ ترقی اور خدمت کے بیانیے پر عوامی تائید حاصل کرنے کے متمنی شہباز شریف کو تو عام انتخابات کے نتائج سے ہی سبق حاصل کر لیناچاہئے تھا کہ پنجاب کے عوام نے بھی اس بیانیے پر کان نہیں دھرے۔ صدر مسلم لیگ ن کو یہ بھی ذہن نشین رہنا چاہئے کہ الائنس میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت کرنے جا رہی ہے جبکہ اس کی قیادت کے خلاف مقدمات اسے ایک خاص نہج سے آگے احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ شاہراہ دستور پر کئے جانے والے پہلے احتجاج میں لگائے جانے والے نعروں اور تقاریر سے خود کو الگ کرنا اس کی واضح مثال ہے۔ دوسری طرف مولانا صاحب نے ابھی سے سینیٹ میں آئندہ چند دنوں میں برپا کی جانے والی تبدیلی میں اپنا حصہ مانگنا شروع کردیا ہے اس لئے وہ احتجاج کی قیمت بھی ساتھ ہی وصول کریں گے ،اس صورتحال میں اگر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے اپنا رویہ اور بیانیہ تبدیل نہ کیا اور خلوص نیت سے نواز شریف کے بیانیے کو نہ اپنایا تو یاد رکھیں دو کشتیوں کے سوار کبھی منزل تک نہیں پہنچا کرتے۔


(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں