تحریک انصاف کو درپیش چیلنجز

August 27, 2018
 

وطن عزیز میں انتقال اقتدار کا اہم مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔مرکز اور صوبوں میں نئی حکومتوں نے ذمہ داریاں سنبھال کر کام شروع کردیا ہے۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا تبدیلی کا نعرہ حقیقت میں بدل چکا ہے۔ اب عمران خان پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔اپوزیشن کی سیاست کرنے والے عمران خان اب حکومت میں ہیں۔اب لڑنے جھگڑنے کے بجائے کام کرنے کا وقت آگیا ہے۔عوام سے کئے گئے وعدو ں کی تکمیل عمران خان کے لئے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔معاشی بحران پر قابو پانا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ۔عمران خان نے اگر عوام سے کئے گئے وعدوں پر پچاس فیصد بھی عمل کردیا تو تحریک انصاف ایک حقیقت ناقابل تردید بن جائے گی۔حکومت سنبھالنے کے بعد یکے بعد دیگرے دو کابینہ اجلاسوں میں اہم فیصلے لئے گئے مگر کیا ان فیصلوں سے عام آدمی کوکوئی فائدہ ہوگا۔عمران خان اور ان کے وزراء کو اب ڈیلیور کرنا ہوگاوگرنہ حالات ان کے ہاتھ سے نکلنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں عمران خان کو بطور قائد ایوان صبرو تحمل کا مظاہر ہ کرنا ہوگا۔اپوزیشن کی غیر ضروری تنقید بھی برداشت کرنا ہوگی۔عمران خان یا تحریک انصاف کے کسی بھی رہنماکا سخت لب و لہجہ حکومت کے لئے نقصان دہ ہوگا۔حکومت چلانے کے لئے عمران خان کو اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔جس طرح بھٹو کے نواسے نے اسمبلی میں پہلی تقریر کی۔وہ سننے کے لائق تھی۔عمران خان کو بھی اسی طرز پر تقاریر کرنی چاہئیں۔بلاول بھٹو نے شائستہ لب و لہجے میں تلخ باتیں بھی کہیں مگر انداز پارلیمانی تھا۔حکومت میں آنے کے بعد برداشت سے کام لیا جاتا ہے ۔کچھ لو او ر کچھ دو کے فارمولے کو اپنا یا جاتا ہے۔حقائق یہ ہیں کہ پنجاب اور مرکز میں تحریک انصاف کی ایک کمزور حکومت ہے ۔کسی ایک بھی اتحادی کے ناراض ہونے سے سادہ اکثریت بھی کھونے کا ڈر ہے۔ایسے کنٹرولڈ مینڈیٹ میں آپ کسی کی ناراضی مول نہیں لے سکتے۔شائستہ لب ولہجہ اور سب کو ساتھ لے کر چلنے سے ہی کام چلایا جاسکتا ہے۔عمران خان کو حکومت چلانے کے لئے ضبط اور حوصلے کامظاہرہ کرنا ہوگا۔امید ہےکہ عمران خان معاملات حکومت میں عدم برداشت اور تلخی کو فروغ نہیں دیں گے۔ بلکہ حکمت و تدبر سے کارخانہ حکومت چلائیں گے۔عمران خان کے لیے سب سے بڑا چیلنج سرمایہ داروں کا اعتماد بحال کرنا ہے۔سرمایہ داروںمیں جو بے چینی اور خوف کی فضا ہے اسے ختم کرنا ہے۔ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے انتقامی کارروائیوں سے گریز کرنا ہےاورمسائل کو سلجھانا ہے۔بزنس مین اور صنعتکاروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنی ہیں۔موڈیز کی رپورٹ کوئی اچھا شکون نہیں ہے۔معاشی بحران بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔روپے کی قدر گرنے کی خبریں آرہی ہیں۔ایسے میں عمران خان کو کٹھن فیصلے کرنے ہونگے۔وگرنہ ڈالر بڑھے گا اور روپے کی قدر مزید کم ہوگی۔اسد عمر قابل آدمی ہیں مگر ان کی قابلیت کا اصل امتحان اب ہے کہ وہ معاشی کشتی کو اس گرداب سے کیسے نکالیں گے۔سرمایہ داروں کا اعتماد بحال کیسے کریں گے۔اسحاق ڈار کے لگائے گئے غیر ضروری ٹیکسوں سے عوام کی جان کیسے چھڑائیں گے۔اگر معاشی پالیسی تبدیل نہ کی گئی تو عمران خان مہنگائی کے طوفان کو نہیں روک پائیں گے۔اب بیانات سے نکل کر کارکردگی دکھانا ہوگی۔ عمران خان کو اپوزیشن سے ٹکراؤ کی پالیسی سے بھی اجتناب کرنا ہوگا۔ٹکراؤ سے مسائل میں اضافہ ہوگانہ کہ کمی آئے گی۔اپوزیشن کے صف اول کے رہنماؤں سے کشیدگی بڑھنے سے ملک میں ٹکراؤ کی صورتحال میں اضافہ ہوگا۔اپوزیشن کے احتجاج کا دائرہ کار بڑھے گا۔جب لوگ سڑکوں پر ہونگے اور آئے روز ملک جام ہورہا ہوگا تو ایسی صورتحال میں حکومت کے لئے اہداف کا حصول مشکل ہوجائے گا۔سرمایہ داروں میں اعتماد کی فضا ختم ہوگی۔ پنجاب کے نامزد کردہ وزیراعلیٰ کے حوالے سے بھی وزیراعظم عمران خان کو پالیسی واضح کرنا ہوگی۔عمومی تاثر ہے کہ جنوبی پنجاب کے کمزور وزیراعلیٰ بااختیار نہیں ہونگے اور اصل فیصلے پارٹی کے دیگر رہنما کریں گے۔ اگر پنجاب کا وزیراعلیٰ کمزور ہوگا یا پھر یہ تاثر بھی رہے گا کہ فیصلے کہیں اور ہورہے ہیں تو اس کے صوبے کے انتظامی امور پر اثرات بہت خطرنا ک ہونگے۔میری ذاتی رائے میں نئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو کام کرنے کا آزادانہ ماحول فراہم کرنا چاہئے۔پسماندہ علاقے کے وزیراعلیٰ کو اگر کام نہ کرنے دیا گیا تو پھر جنوبی پنجاب میں بدگمانی پیدا ہوگی۔اگر تونسہ جیسے دورافتادہ علاقے سے وزیراعلیٰ منتخب کیا گیا ہے تو پھر اس کو ڈیلیور کرنے کا پورا پورا موقع دیں۔اگر گورنر یا پھر تحریک انصاف کے چند رہنماؤں نے ذاتی پسند نہ پسند کی بنیاد پر وزیراعلیٰ پنجاب کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تو پھر پنجاب کےعوام کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

عمران خان کی حکومت ایک کمزور پچ پر کھڑی ہے۔ایسی صورتحال میں انہیں سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہئے۔ انکی کوشش ہونی چاہئےکہ اپوزیشن کے نعروں اور احتجاج کو نظر انداز کرکے اپنے دعدوں کی تکمیل پر توجہ دیں۔جلد از جلد انقلابی اقدامات کریں ۔کچھ ڈیلیور کریں تاکہ عوام کا ان پر اعتماد بڑھے۔جو باتیں انہوں نے پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران کی ہیں،یہ سب ایک مضبوط حکومت کی باتیں ہوتی ہیں۔کمزور حکومت جس نے ابھی ڈیلور کرنا ہو،وہ کبھی بھی اپوزیشن کی مخالفت کو مول نہیں لیتی۔اس طرح کے طرز عمل سے اور تو کچھ نہیں ہوتا البتہ آئے دن ٹکراؤ میں اضافہ ضرور ہوتا ہے۔عمران خان کا ٹارگٹ اپوزیشن نہیں بلکہ اپنے وعدے ہونے چاہئیں۔اگر انہوں نے اپنے وعدے پورے کردئیے تو پھر اسمبلی میں کی گئی تمام باتیں خود بخود پوری ہوجائیں گی۔لیکن اگر عمران خان ڈیلیور کرنے میں ناکام رہے تو پھر داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔جبکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کی ذمہ داری سب سے اہم ہے۔عمران خان کو اس پر خصوصی غور کرتے ہوئے مستقل مزاجی سے فیصلہ کرنا چاہئے۔اگر جہانگیر ترین یا شاہ محمود قریشی کو ضمنی انتخابات میں لاکر اس وزیراعلیٰ کو رخصت کرنا ہے تو پھر تبدیلی کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔پنجاب کے عوام نے بہت توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں ۔پنجاب 90فیصد پاکستان شمار ہوتا ہے۔اگر اس کا وزیراعلیٰ کمزور ہوگا تو پورا ملک کمزور ہوگا۔شہباز شریف جیسے مضبوط ایڈمنسٹریٹر کی جگہ لینے کے لئے تحریک انصاف کو بھرپور محنت کرنا ہوگی۔خیبر پختونخوا کی غلطیوں کو نہیں دہرانا ہوگا۔خیبر پختونخوا کی غلطیوں کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔میڈیا کی بھی پنجاب حکومت پر گہری نظر ہوگی۔اس لئے عمران خان کو سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہوں گے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں