دوستی کا حق!

September 04, 2018
 

یار تم نے اپنا گھر بہت خوبصورت بنایا ہے۔

بھئی تم جانتے ہو اس پر میری کتنی دولت اور کتنا وقت صرف ہوا ہے۔

اس کا نقشہ تم نے کہاں سے حاصل کیا تھا۔

حاصل کیا تھا؟ تمہارا دماغ چل گیا ہے۔ یہ نقشہ ایک بین ا لاقوامی شہرت کے ماہر تعمیرات سے بنوایا تھا۔ چالیس لاکھ روپے تو صرف اس کی فیس ادا کی تھی۔

چالیس لاکھ روپے صرف نقشے کی فیس کے طور پر ادا کئے تھے؟

ہاں اس میں حیرانی کی کون سی بات ہے تم جانتے ہو اس مکان کی تعمیر پر کتنی لاگت آئی ہے؟

کتنی لاگت آئی ہے۔

چلو چھوڑو تم سن کر بیہوش ہوجائو گے بس اتنا جان لو کہ اس میں جو کچھ تمہیں نظر آرہا ہے وہ سب کا سب امپورٹڈ اسٹف ہے۔

کیا تم اس گھر میں خوش ہو۔

کیا مطلب خوش کیا بہت خوش ہوں۔

یہ تو تم بھی جانتے ہو کہ تم نے یہ گھر رزق حلال سے نہیں بنایا۔

ہاں جانتا ہوں مگر پھر۔

کیا تمہارا ضمیر تمہیں ملامت نہیں کرتا۔

ضمیر، ضمیر انسان کو گناہوں سے نہیں روکتا، قانون پر عملدرآمد روکتا ہے، سو کبھی کبھی میرا مزا بھی کراکرا ہوجاتا ہے۔

اگر تم اینٹی کرپشن والوں کی نظروں میں آگئے۔

تو کیا ہوگا؟

پکڑے جائو گے اور کیا ہوگا۔

تم بھی بہت بھولے ہو، کوئی اور بات کرو۔

کیا تم نے کبھی سوچا کہ اتنے کروفر سے رہنے کے باوجود معاشرہ تمہیں اچھی نظروں سے نہیں دیکھتا۔

کون سا معاشرہ؟

ارے بھئی وہی معاشرہ جس میں تم رہتے ہو، جس میں تمہارے عزیز و اقرباء تمہارے محلے دار تمہارے دوست احباب بھی شامل ہیں۔

یہ سب تو مجھے دیکھ کر سجدے میں چلے جاتے ہیں۔

یہ سب کچھ اوپر اوپر سے ہے، اندر سے وہ لوگ تمہیں پسند نہیں کرتے۔

اندر کی بات جب تک اندر ہی رہے اس سے ہمیں کیا نقصان پہنچتا ہے۔

اچھا چلو ضمیر کو بھی چھوڑو اینٹی کرپشن والوں کو بھی چھوڑو، معاشرے کو بھی چھوڑو، تم یہ بتائو کہ مذہب پر ایمان رکھتے ہو۔

ہاں نمازیں پڑھتا ہوں ، روزے رکھتا ہوں، ہر مہینے باقاعدگی سے گیارہویں شریف کا اہتمام کرتا ہوں۔

لیکن اگر تمہارے رزق میں حرام کی ملاوٹ ہے تو ان میں سے کوئی چیز تمہارے کسی کام نہیں آئے گی۔

یار کیوں مجھے ڈراتے ہو۔

نہیں اس میں ڈرانے والی کوئی بات نہیں ،میں امر واقعہ بیان کررہا ہوں۔ ان لوگوں کے لئے سخت وعید ہے جو حرام مال سے اپنے لئے گھر بناتے ہیں اور دنیا کی آسائشیں خریدتے ہیں۔

یار تم کیوں مجھے خوفزدہ کرنے پر تل گئے ہو۔

تمہیں خوفزدہ نہیں کررہا، صرف بطور دوست اپنا فریضہ انجام دے رہا ہوں۔ تم جانتے ہو کہ قبر جو پہلے ہی بہت تنگ ہوتی ہے ایسے لوگوں کے لئے اور زیادہ تنگ ہوجائے گی۔

اور.....اور کیا ہوگا؟

اور یہ کہ دوزخ کے فرشتے ایسے بدبختوں کو جلتے ہوئے الائو میں پھینک دیں گے اور جب ان کے جسم جل کر راکھ ہوجائیں گے تو انہیں نیا جسم عطا کیا جائے گا اور اس کے بعد دوبارہ آگ کے الائو میں ڈال دیا جائے گا اور یہ عمل کروڑوں سال تک جاری رہے گا۔

کیا تم یہ سچ کہہ رہے ہو؟

میں نے اس معاملے میں جھوٹ بول کر خود جہنم کی آگ میں جلنا ہے۔ تم اب عمر کے آخری حصے میں ہو، طرح طرح کے عوارض میں گرفتار ہو کسی بھی وقت سانس تمہارا ساتھ چھوڑ سکتا ہے کیوں چند لمحوں کی آسائش کے لئے خود کو کروڑوں سال کے عذاب میں ڈالتے ہو، قارون کتنا امیر آدمی تھا لیکن جب وہ مرا تو اس کا مال و دولت اس کے کام نہیں آیا اس وقت وہ پڑا دوزخ کی آگ میں جل رہا ہوگا۔

تم نے میری آنکھیں کھول دی ہیں، تم میرے محسن ہو، مجھ سے اب اس گھر میں ایک لمحے کے لئے بھی نہیں رہا جارہا تم مجھے بتائو میں کیا کروں؟

خدا کا شکر ہے کہ تم نے میری باتوں کو دھیان سے سنا اور ان کا اثر بھی قبول کیا۔ اب تم اس عذاب سے اسی صورت میں نکل سکتے ہو کہ اپنے رزق حلال میں سے ایک چھوٹی سی کٹیاخرید کر یا کرائے پر لے کر اس میں رہو یقین جانو تمہیں اس کٹیا میں زیادہ سکون ملے گا۔

اور موجودہ گھر کا کیا کروں؟

یہ تم میرے نام کردو، میں تمہاری خاطر سارے عذاب سہہ لوں گا آخر حق دوستی تو ادا کرنا ہی پڑتا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں