ماں ہمیں پاکستان بھیج کر لاپتا شوہر کی تلاش میں نکل پڑیں

September 09, 2018
 

تحریر…… عمّارہ ارشد (لاہور)

راوی…… مسز بی، اے چوہدری

آگ کا دریا، خون کی ندیاں، قیامتِ صغریٰ…بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ محض تمثیلات ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ بھلا کہیں آگ کے دریا اور خون کی ندیاں بھی ہوا کرتی ہیں…!! ہاں! ہوتی ہیں۔ کم از کم تاریخ تو یہی بتاتی ہے۔ زیادہ اوراق الٹنے پلٹنے کا تکلّف مت کیجیے، صرف ستّر، اکہتر برس پیچھے چلے جائیں۔ تقسیمِ ہند کے وقت ہونے والی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت نے جن المیوں کو جنم دیا، اُنھیں سُن کر پتھر آنکھیں بھی برسنے لگتی ہیں۔ مسلمان ایک، دو نہیں، کئی آگ کے دریا اور خون کی ندیاں عبور کر کے پاک سرزمین پر قدم رکھنے میں کام یاب ہوئے۔ اس سفر میں ہزاروں بے گناہ تہہ تیغ ہوئے، تو اَن گنت عفت مآب بہو، بیٹیوں پر بھی اِک قیامت گزر گئی۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک اَلم ناک باب ہے، جس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور مسلسل لکھا جارہا ہے تاکہ نوجوان نسل کو علم ہو سکے کہ ہمارے آباءو اجداد نے آزادی کی کیا قیمت چُکائی تھی۔ آئیے! اسی ہجرت کی ایک اور اَشک بار رُوداد سنیے۔

……٭…٭…٭…٭……

پاکستان کا قیام عمل میں آیا، تو مشرقی پنجاب کے ڈرے سہمے مسلمان بھی دیگر برادرانِ اسلام کی مانند سجدہ ریز ہوکر اس نعمتِ عظمیٰ پر شُکر بجا لائے۔ اُن دنوں کپور تھلہ شہر کی حالت، سِکھ ریاست ہونے کے باعث، بہت ہی زیادہ مخدوش تھی۔ ہندو، سِکھوں کو مقامی مسلمان آبادی پر حملوں کے لیے بھڑکا رہے تھے تاکہ مسلمان، مشرقی پنجاب سے نکل جائیں۔ سو، مسلمان آبادیوں پر منظّم حملے شروع کردیے گئے۔ بوڑھے، بچّے اور نوجوان قتل کیے جانے لگے اور جوان لڑکیاں اغوا کرلی جاتیں۔ گھریلو سامان اور مال مویشی بھی لُوٹ لیے جاتے تھے۔ میرے والد، ریاست کے ایک ممتاز عُہدے دار تھے۔ ریاست کا راجا، جگجیت سنگھ ایک معتدل اور روادار حکم ران تھا اور اُس کے مسلمان رعایا کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ اُس نے ایک خُوب صورت مسجد بھی تعمیر کروائی، جسے دیکھنے کے لیے لوگ دُور دُور سے آیا کرتے تھے، مگر بدقسمتی سے راجا اُن دنوں لندن میں تھا اور اُس کابڑا بیٹا، ٹکا راجا امورِ مملکت چلا رہا تھا، جو بھارت کی مرکزی حکومت سے مرعوب تھا۔ لہٰذا، وہ مسلمانوں کی کوئی مدد نہیں کرسکا۔ حالات دن بہ دن بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ بچّے اور عورتیں سرِشام مسلمان آبادی کے ایک مرکزی گھر میں جمع ہوجاتے، جب کہ کچھ مَرد تو اُن کی حفاظت کرتے اور کچھ اپنے، اپنے گھروں کی حفاظت کے لیے چلے جاتے۔ اسی دَوران کرفیو بھی لگنا شروع ہوگیا، مگر اس کے باوجود سِکھ جتّھے مسلمانوں کا مال اسباب لُوٹنے کے ساتھ اُنھیں قتل بھی کر رہے تھے۔ ان حالات میں مسلمانوں نے وہاں رہنا مناسب نہ سمجھا اور انخلا کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ مسلمانوں کی جانب سے ایک اجتماعی عرض داشت ٹکا راجا کے پاس پہنچائی گئی تاکہ اُنہیں لاہور جانے کے لیے خصوصی ٹرک اور حفاظت کے لیے فوجی دستے مہیا کیے جائیں۔ عرض داشت منظور کرلی گئی اور یوں تقریباً 28ٹرکوں پر مشتمل کارواں ترتیب دیا گیا، جو گھروں سے بچّوں، بوڑھوں اور عورتوں کو لیتا ہوا مرکزی سڑک(ٹھنڈی سڑک) پر جمع ہو گیا، مگر حفاظتی گاڑیاں نہ آئیں، اس لیے روانگی اگلے دن کے لیے ملتوی کردی گئی۔ ہم نے سوچا کہ جاتے جاتے ایک مرتبہ اپنا گھر تو دیکھ آئیں۔ جب ہم اپنے گھر پہنچے، تو یہ دیکھ کر حیران و پریشان ہوگئے کہ ہمارے سِکھ پڑوسی ملحقہ دیوار توڑ کر ہمارا سامان کھینچ کھینچ کر اپنے گھر منتقل کررہے تھے۔ چھتوں کے پنکھے غائب تھے۔ مَیں نے شور مچا دیا، مگر والد نے منہ پر ہاتھ رکھ کر میری آواز دبا دی تاکہ سِکھ حملہ نہ کردیں۔ ہم لوگ مایوسی کے عالَم میں دوبارہ اُسی مرکزی جگہ اکٹھے ہوگئے، جہاں رات میں ہوا کرتے تھے۔ ابھی رات کا پہلا پہر ہی گزرا تھا کہ پھر سے کال آئی کہ’’ ٹرانسپورٹ کا بندوست ہوچکا ہے اور ٹرک فلاں جگہ کھڑے ہیں، آئو اور اُن پر سوار ہو جائو۔‘‘ ہم سب ٹرکوں پر سوار ہوگئے۔ مرد، عورتوں اور جوان لڑکیوں نے گلوں میں قرآنِ مجید لٹکا رکھے تھے۔ رات کے اندھیرے میں قافلہ روانہ ہوا۔ مَیں، میرے ماں باپ، بزرگ نانا، 4بہنیں اور اکلوتا بھائی ساتویں ٹرک میں سوار تھے۔

ابھی ہم نے تھوڑا سا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ ٹرکوں کی ہیڈلائٹس میں دیکھا کہ سِکھ سڑک کے دونوں اطراف قافلہ لُوٹنے کے لیے کھڑے ہیں۔ اُنہوں نے گولیوں سے ٹائروں کو چھلنی کرکے قافلہ روک لیا۔ ہم لوگ خوش قسمتی سے اُس ٹرک میں تھے، جو آگے نکل چکا تھا۔ رُکے ہوئے ٹرکوں سے دِل دوز چیخوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ پھر اندھیری رات میں ایک ویران جگہ پر ہمارے 7ٹرک بھی رُک گئے اور اعلان ہوا کہ’’ سب لوگ یہاں اُتر جائیں، کیوں کہ ہمیں ریاست کی حدود سے آگے جانے کا آرڈر نہیں ہے۔ یہاں سے آگے لے جانے کے لیے دوسرے ٹرک آئیں گے۔ تب تک انتظار کریں۔‘‘ ہم اگلے آٹھ، دس روز وہاں بے یارو مددگار کُھلے آسمان تَلے پڑے رہے۔ کیمپ میں تعفّن کی وجہ سے سانس تک لینا دشوار تھا۔ نیز، ہیضہ بھی پھوٹ پڑا ۔ لاشیں گل سڑ رہی تھیں، کیوں کہ کفن دفن کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ اسی اثنا میں دیگر چھوٹے، چھوٹے قافلے بھی وہاں آ کر رُکتے رہے، حتیٰ کہ یہ کیمپ خاصا بڑا ہوتا چلا گیا۔ مرد نزدیک کے ایک کنویں سے پانی لے آتے۔ بعض لوگوں کے پاس بُھنے ہوئے چنے اور گُڑ تھا۔ کئی ایک کے پاس روٹیاں بھی تھیں اور ہم لوگ مانگ تانگ کر پیٹ کا دوزخ بَھرتے رہے۔ ہم سب بہت سہمے ہوئے تھے، کیوں کہ سِکھ کیمپ پر اچانک حملہ کرکے لُوٹ مار کرتے اور لوگوں کو قتل بھی کردیتے تھے۔ ایک روز سِکھ سپاہیوں نے اعلان کیا کہ’’ یہاں سے آدھے میل کے فاصلے پر ریل کی پٹری ہے۔جہاں لاہور جانے کے لیے ایک ریل گاڑی کھڑی ہے۔ آپ لوگ جلدی سے وہاں پہنچ جائیں۔‘‘ پریشان حال لوگ بتائی گئی سمت کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ چھوٹے بچّوں کو گود، سَر یا کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا۔ اس افراتفری کے عالم میں بوڑھے، بچّے اور بیمار، جو بھاگنے میں ساتھ نہیں دے سکتے تھے، راستے ہی میں گر پڑے۔ اُن کی آہ و بکا جنگل میں گونجتی رہی۔ وہ اپنے عزیزوں کا نام لے لے کرچیخیں مار رہے تھے۔ میری ماں نے بھائی کو گود میں اٹھایا ہوا تھا اور زور زور سے چِلّا کر ہم بہنوں کو تاکید کر رہی تھیں کہ’’ ساتھ ساتھ چلو۔ کہیں تعاقب میں آنے والے خون خوار سِکھ نہ لے جائیں۔‘‘ میری اور میری بہنوں کی عُمریں اُس وقت بالترتیب 16 ، 13، 11، 9 اور 6برس کی تھیں۔ مَیں نے اُس سال میٹرک کا امتحان دیا تھا۔ ماں تھک جاتیں، تو مَیں بھائی کو گود میں اٹھا کر بھاگتی۔ رات آدھی گزر چکی تھی اور موسلا دھار بارش منظر کو اور زیادہ بھیانک بنارہی تھی۔ کھیت، کیچڑ، دَلدل، پانی…جوتے نہ جانے کہاں ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ کٹی ہوئی فصلوں کے مڈھ پائوں کو زخمی کررہے تھے اور اُن سے خون رِس رہا تھا، تاہم ،ہم اپنے عزیزوں کے ہاتھ تھامے اور چھوٹوں کو گھسیٹتے ،ماں کی ہم راہی میں بھاگتے ہی چلے گئے۔ کافی دُور تک بھاگنے کے بعد خیال آیا کہ ہم غلط سمت آگئے ہیں یا پھر سِکھ سپاہیوں نے دھوکا دے کر بھاگنے پرمجبور کیا تاکہ لوگ عجلت میں پورا سامان ساتھ نہ لے جاسکیں اور وہ(سِکھ) اُنہیں سمیٹ سکیں۔ آخر کار تھک ہار کر اُسی جنگل میں رُک گئے۔ مجمعے کے اکابرین نے بلند آوازیں لگائیں کہ’’ جوانو!جن کے ہاتھ میں ڈنڈے، سوٹے ہیں، وہ باہر جا کر گھیرا ڈال لیں اور جن کے پاس بندوقیں ہیں، تان لیں تاکہ ماں، بہنوں کی حفاظت ہوسکے۔‘‘ اس کے باوجود، تھوڑی تھوڑی دیر بعد مجمعے سے آوازیں اٹھتی رہیں کہ’’ اوئے سِکھ لڑکیوں کو لے گئے۔‘‘ اُن لڑکیوں کی چیخیں دُور دُور تک سُنائی دیتی تھیں کہ ’’ہائے میں مرگئی۔‘‘ ماں نے ہمیں مجمعے کے درمیان میں رکھا تاکہ سِکھوں سے محفوظ رہ سکیں۔ تھوڑی دیر بعد پتا چلا کہ کچھ دُور ریلوے لائنز تو نہیں، البتہ سڑک ضرور ہے۔ یہ سُنتے ہی سب لوگ سڑک کی جانب دوڑ پڑے۔ سڑک پر ہم سے پہلے آنے والے قافلے پڑائو ڈالے ہوئے تھے، سو، ہم بھی اُن میں شامل ہوگئے۔ بھوک سے نڈھال تھے۔ ہم نے دیکھا کہ ایک نئے آنے والے قافلے کے پاس بُھنے ہوئے چنے، گُڑ اور کچھ روٹیاں تھیں۔ ماں نے ہم بچّوں کا واسطہ دے کر اور اُن کے آگے جھولی پھیلا کر ہمارے لیے کھانے کے لیے تھوڑا سا مانگا۔ اللہ اُس شخص کا بھلا کرے، اُس نے ترس کھا کر تھوڑا بہت ہمیں دے دیا۔ یہ خوراک ابھی ماں کی جھولی ہی میں تھی کہ ٹرکوں کی بڑی تعداد پر مشتمل ایک کانوائے آگیا، جو پہلے ہی مہاجروں سے بَھرا ہوا تھا۔ ماں بھاگ بھاگ کر کبھی ایک گاڑی کے پاس، تو کبھی دوسری گاڑی کی طرف ہمیں کھینچتے ہوئے لے جاتیں اور اللہ کا واسطہ دیتیں کہ’’ میرے بچّوں کو بھی پاکستان لے جائو۔‘‘ اس کانوائے میں پاکستانی فوج کی زیرِ نگرانی مسلمانوں کو جالندھر سے لاہور پہنچایا جا رہا تھا۔ ایک خدا ترس فوجی نے روتی ہوئی ماں کو تسلّی دی اور وعدہ کیا کہ’’ آپ اپنے بچّوں کو اِسی درخت کے نیچے کھڑا رہنے دیں۔ آپ لوگوں کو کل لے جائوں گا۔ آج معذرت چاہتا ہوں، گنجائش بالکل نہیں ہے۔‘‘ بہرحال، کانوائے لاہور کے لیے روانہ ہوگیا اور ہم نے روتے ہوئے، مایوسی کے عالم میں ماں کی جھولی سے گُڑ اور چَنے کھائے۔ ہمیں اس لیے بھی بار بار رونا آ رہا تھا کہ ہمارے والد اور بوڑھے نانا دھکم پیل میں ہم سے بچھڑ چُکے تھے۔ کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہیں کھو گئے ہیں یا اُنہیں سِکھوں نے مار دیا ہے۔ اُسی دوپہر پھر زور دار بارش شروع ہوگئی۔ آسمانی بجلی کی چندھیا دینے والی چمک اور خوف ناک گرج قیامت کا منظر پیش کررہی تھی۔ کُھلے آسمان تَلے اور نیچے گُھٹنوں گُھٹنوں پانی میں کھڑے لوگ، کلمۂ طیبہ کا ورد کررہے تھے۔ چند بڑے بڑے سانپ پانی میں بہتے ہوئے آئے، جنہیں نوجوانوں نے مار ڈالا۔ ہم بھی پانی میں کھڑے تھے۔ چھوٹے کیڑے ،مکوڑے اور کینچوے ہماری ٹانگوں پر چڑھنا شروع ہوگئے۔ مَیں مسلسل اپنے ہاتھوں سے اُنہیں جھٹک رہی تھی۔ ہمارے اکلوتے بھائی کو ماں نے کندھوں ہی پر اٹھائے رکھا کہ کوئی کیڑا مکوڑا نہ کاٹ لے۔ چھوٹی بہنیں کینچوئوں سے ڈر کر چیخیں مار رہی تھیں، اس لیے مَیں اُن سے بھی کینچوے اُتار اُتار کے پھینک رہی تھی۔ اسی اثنا میں دیکھا کہ ایک ٹرنک پانی میں بہتا ہوا ہمارے قریب سے گزرا۔ مَیں نے جھک کر اُسے پکڑ لیا اور بھائی کو اس کے اوپر کھڑا کردیا تاکہ پانی اور کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رہ سکے۔ رات یوں ہی گزر گئی۔

اگلے دن 10بجے وہی کانوائے واپس آیا۔ ہم بتائی ہوئی جگہ پر کھڑے تھے۔ فوجی جوان نے میری ماں کو تلاش کرلیا اور کہا’’ بہن جی! بچّے لے کر ٹرک پر سوار ہو جائو‘‘، مگر ماں نے روتے ہوئے کہا’’ خاوند اور والد ہم سے بچھڑ گئے ہیں۔ اگر زندہ ہوئے، تو ہمیں نہ پا کر مر جائیں گے۔ لہٰذا، مَیں یہاں اُن کا انتظار کروں گی۔ البتہ، میرے بچّے آپ کے سُپرد ہیں۔ مَیں سمجھتی ہوں کہ اکیلی اُن کی حفاظت نہیں کرسکوں گی۔ آپ ان کو پاکستان پہنچا دیں، وہاں تو سب مسلمان ہی ہوں گے۔ وہاں میرے کچھ رشتے دار بھی ہیں، وہ بھی کیمپس میں ہمیں ڈھونڈ رہے ہوں گے۔ اللہ کرے گا، تو آپس میں مل جائیں گے۔ اگر میں یہاں اکیلی مر بھی گئی، تب بھی مجھے سکون ہوگا کہ میرے بچّے تو پاکستان پہنچ گئے ہیں۔‘‘ یہ ایک ایسا منظر تھا، جو کبھی بھلایا نہیں جاسکے گا۔ ہماری سسکیاں اور ماں کے الوداعی کلمات آسمان کو ہلا دینے والے تھے۔ ماں ٹرک کے ساتھ نیچے کھڑی جھولی پھیلائے کہہ رہی تھیں’’ میرے بچّو! آپ کو اپنا دودھ بخشا اور اللہ کے سُپرد کیا، جو حفاظت کرے گا۔‘‘ فوجیوں نے ماں کو بہت تسلّی دی اور کہا کہ’’ انشاء اللہ ہم اپنی بہنوں کو کیمپ میں پہنچائیں گے۔ آپ فکر نہ کریں۔‘‘ قصہ مختصر، آہوں اور سسکیوں میں کانوائے روانہ ہوگیا۔ آج یہ داستان سُناتے ہوئے میرا جسم کانپ رہا ہے اور آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑیاں جاری ہیں۔ پیاری ماں فوت ہو چکی ہے۔ مجھے اِس وقت بھی ماں کا چہرہ اور وہ جھولی، جو ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے پھیلائی تھی، نظر آرہی ہے۔ ہمارے قافلے نے ابھی تھوڑی سی مسافت طے کی تھی کہ سڑک کے کنارے ایک جوان لڑکی بے ہوش پڑی نظر آئی۔ اُس کے پیٹ میں تلوار (کرپان) گھونپی گئی تھی، جس سے انتڑیاں باہر آگئی تھیں۔ زخم سے خون رس رہا تھا اور چیونٹیاں چمٹی ہوئی تھیں۔ اُسے دیکھ کر کانوائے رُک گیا اور فوجی جوانوں نے اُسے اٹھا کر ہماری جیپ میں ڈال لیا۔پھر انتڑیاں اندر دھکیل کر پیٹ کو اس کے دوپٹے ہی سے باندھ دیا۔ فوجیوں نے مجھے کہا’’ اس کے جسم سے چیونٹیاں نکال کر زخم صاف کرتی رہو۔‘‘ اگرچہ مَیں اپنے غم سے نڈھال تھی، پھر بھی بہت انہماک سے اس کام کو سر انجام دیتی رہی۔ چند گھنٹوں بعد ہم پاکستان کی سرحدی چوکی، واہگہ پہنچ گئے۔ لوگوں نے پاکستان کی مٹّی کو چوما اور اللہ تعالیٰ کے حضور شُکرانے کے سجدے ادا کیے۔ جو لوگ بال بچّوں کے ہم راہ پہنچے تھے، اُن کے خوشی سے آنسو بہہ رہے تھے، مگر ہم غم کے آنسو بہا رہے تھے۔ پہلے والد اور نانا میاں بچھڑے، پھر ماں بھی، جو اکیلا سہارا تھیں، بچھڑ گئیں۔ واہگہ میں لوگوں نے دیگیں پکا رکھی تھیں اور آنے والوں کو چاول کِھلا رہے تھے۔

ہمارا قافلہ واہگہ سے روانہ ہو کر والٹن کیمپ پہنچا، جو ایک بہت بڑا کیمپ تھا اور وہاں بے شمار فوجی بیرکس تھیں، جو مہاجروں سے بَھری پڑی تھیں۔ اُس فوجی کی قیادت میں ہم کیمپ پہنچے اور اُس نے ہی ایک بیرک کے کونے میں ہمارے لیے کچھ جگہ بنائی اور ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شُکر ادا کیا اور بلند آواز میں کہا’’ مَیں نے جو وعدہ اِن بچیوں کی ماں سے کیا تھا، شُکر ہے، اُسے پورا کردیا۔‘‘ پھر اُس نے ہمارے سَروں پر ہاتھ پھیرا اور واپس چلا گیا۔ اس کیمپ کے لائوڈ اسپیکرز پر اعلانات نشر کیے جارہے تھے کہ’’ فلاں کے رشتے دار کیمپ میں پہنچ چکے ہیں۔ اگر ان کا کوئی عزیز یا رشتے دار سُنے، تو آکر لے جائے۔‘‘ مَیں نے بھی ایک رقعے پر اپنے رشتے داروں کے نام اور پتے لکھے، جو پہلے سے پاکستان میں تھے اور لائوڈ اسپیکر کی جانب چلی گئی۔ اسی اثنا میں لائوڈ اسپیکر پر ہونے والے اعلان سے معلوم ہوا کہ میری ایک سہیلی اپنے کنبے کے ساتھ ہوشیارپور سے بیڈن روڈ، لاہور کے فلاں فلیٹ میں پہنچ چکی ہے۔ مَیں نے واپس آکر اپنی بہنوں سے اس سہیلی اور اعلان کا ذکر کیا۔ پھر ہم سب نے فیصلہ کیا کہ ان کے ہاں بیڈن روڈ چلے جائیں، لہٰذا ہم نے ایک تانگے والے سے کہا کہ’’ ہمارے پاس کرایہ نہیں ہے، کیا ہمیں مفت میں بیڈن روڈ پہنچا دو گے؟‘‘، اُس نے خوشی سے ہماری درخواست قبول کرلی۔ یوں ہم لوگ شام تک اُن کے گھر پہنچ چکے تھے۔ میری سہیلی اور اُس کے والدین ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے، لیکن جب ہمارے والدین کے بچھڑنے کا سُنا اور کپورتھلہ چھوڑنے سے اب تک کے واقعات کے بارے میں، جو ایک ماہ پر محیط تھے، پتا چلا، تو بہت رنجیدہ ہوئے۔ ہمارے پھٹے، پرانے کپڑے دیکھ کر آب دیدہ ہوگئے۔ اُنھوں نے ہمیں دوسرے کپڑے دیے، جو اگرچہ ناپ میں تو پورے نہیں تھے، مگر صاف ستھرے تھے۔ ہم وہاں ہفتہ بھر ٹھہرے۔ پھر ہمارے ماموں، ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے اعلان پر، جو مَیں نے نشر کروایا تھا، ہمیں لینے پہنچ گئے۔ ہمارے والدین تقریباً ایک ماہ بعد لاہور (مزنگ) کسی رشتے دار کے پاس پہنچے، اُنہوں نے بھی ریڈیو پر اعلان کروایا، جو کئی ایک عزیزوں نے سُنا۔ اس طرح وہ اعلان ہمارے ملاپ کا ذریعہ بنا۔ ہمارے ماموں اس سے پہلے روزانہ اسٹیشن پہنچ کر ہر آنے والی ٹرین میں پڑی لاشوں کو اٹھا اٹھا کر دیکھتے تھے کہ ہم میں سے کسی کی لاش ہی مل جائے، تو یقین آ جائے کہ ہم لوگ سِکھوں کے ہتّھے نہیں چڑھے، بلکہ مر گئے ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں