پیپلز پارٹی اور ’’مفاہمت‘‘ کی سیاست

September 08, 2018
 

سابق صدر آصف زرداری کو مفاہمت کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ تاہم آج کل مسلم لیگ(ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو شکوہ ہے کہ زرداری صاحب نے غیر مفاہمانہ طرز سیاست اختیار کر رکھا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا یہ ـ" الزام" حقائق کے منافی ہے ۔پیپلز پارٹی کی حالیہ سیاست پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زرداری صاحب مفاہمت کی ہی پالیسی پر کاربند ہیں۔ اور اس قدر سختی سے کہ اس مفاہمت کی خاطر انہوں نے اپنی جماعت کا نظریاتی اور جمہوری تشخص تک دائو پر لگا رکھا ہے ۔ انکی مفاہمت کا وزن البتہ اپوزیشن کے بجائے مخالف پلڑے کیلئے مختص دکھائی دیتا ہے۔

حالیہ انتخابات میں دیگر جماعتوں کی طرح پیپلز پارٹی نے بھی پری پول دھاندلی کے خلاف آواز اٹھائی۔ انتخابات کے بعد فارم 45 کی عدم دستیابی، اور کچرا کنڈیوں اور دیگر مقامات سے مہر شدہ فارمز کی مبینہ بازیابی پر بھی پیپلز پارٹی سراپا احتجاج رہی۔یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے بعد اسپیکر ایاز صادق کے گھر ، اپوزیشن کی تمام جماعتیں مل بیٹھیں اور طے ہوا کہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کیا جائے گا۔یہ فیصلہ بھی ہو ا کہ آئندہ حکومتی اتحاد کے مقابل اپوزیشن جماعتیں مشترکہ امیدوار میدان میں اتاریں گی۔ وزارت عظمیٰ کیلئے مسلم لیگ(ن)، اسپیکر کیلئے پیپلز پارٹی اور ڈپٹی اسپیکر کیلئے متحدہ مجلس عمل سے متفقہ امیدوار لانے کا فیصلہ ہوا۔ پیپلز پارٹی کا مشورہ تھا کہ وزارت عظمیٰ کیلئے شہباز شریف موزوں ترین امیدوار ہیں، لہذا انہیں انتخاب لڑنا چاہیے۔ لیکن جب مسلم لیگ (ن) نے شہباز شریف کو نامزد کیا اور انکی جیت کے امکانات دکھائی دینے لگے تو پیپلز پارٹی پیچھے ہٹ گئی۔ موقف اسکا یہ تھا کہ شہباز شریف ماضی میں زرداری صاحب کے خلاف سیاسی بیانات دیتے رہے ہیں، لہذا پیپلز پارٹی کو انکا نام کسی طور قبول نہیں ۔ حالانکہ سابق صدر آصف زرداری تو اپنی فراخ دلی کیلئے مشہور ہیں۔ انہیں تو ق لیگ ( جسے وہ قاتل لیگ کہتے تھے) کو شریک اقتدار کرنے اور پر ویز الٰہی کو ڈپٹی وزیر اعظم بنانے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی تھی۔شہباز شریف کیلئے مگر وہ کوئی گنجائش پیدا نہ کر سکے۔ اس بات کو بنیاد بناتے ہوئے پیپلز پارٹی نے وزیر اعظم کے چنائو کیلئے ووٹنگ سے اجتناب کیا۔ دلچسپ بات یہ کہ پنجاب میں شہباز شریف نامی کوئی شخص موجود نہیں تھا ،مگر وہاں بھی پیپلز پارٹی نے خود کو وزارت اعلیٰ کے انتخاب سے الگ تھلگ رکھا۔ پیپلز پارٹی کی " مفاہمت" نے کام دکھایا اور تحریک انصاف مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔

صدارتی انتخابات کے مرحلے پر بھی یہی عمل دہرایا گیا۔ امید کی جا رہی تھی کہ اپوزیشن جماعتیں مشترکہ امیدوار سامنے لائیں گی۔ پیپلز پارٹی نے مگریکطرفہ طور پر اعتزاز احسن کو صدارتی امیدوار نامزد کر دیا ۔ چند ماہ قبل اعتزاز احسن نے بیگم کلثوم نواز کی بیماری اور لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک میںانکے علاج کو جھوٹ ( اور سیاسی ڈرامہ ) قرار دیا تھا۔ پیپلز پارٹی بخوبی آگاہ تھی کہ اعتزاز احسن کے علاوہ پیپلز پارٹی کا کوئی بھی امیدوار، مسلم لیگ (ن) کیلئے قابل قبول ہوگا۔مسلم لیگ نے یوسف رضا گیلانی کا نام بھی تجویز کیا۔ مگر پیپلز پارٹی نہیں مانی۔ برسبیل تذکرہ یہ وہی اعتزاز احسن ہیں جنہیں پیپلز پارٹی نے سینٹ کا ٹکٹ تک نہیں دیا تھا۔ مگر انہیں صدر پاکستان بنانے پر ڈٹی رہی۔ سینیٹرپر ویز رشید کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن کو اگر مسلم لیگ (ن) کے ووٹ درکار ہیں تو وہ بیگم کلثوم نواز سے متعلق الزام پر میاں نواز شریف سے معذرت کریں ۔ پیپلز پارٹی نے مگر پرویز رشید کے اس مطالبے کو جاگیردارانہ( feudalistic )ذہنیت کا عکاس قرار دیا۔ (سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا کینسر جیسے موذی مرض کا مقابلہ کرتی خاتون کے بارے میں تضحیک آمیز باتیں بھی کسی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں یا نہیں؟) پرویز صاحب نے جو کچھ کہاا سکی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ مگر سچ یہ ہے کہ ہماری سیاست میں ایسے بیانات معمول کی باتیں ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بلاول بھٹو کھلے عام کہتے رہے کہ وہ نواز شریف کا فون اٹھائیں گے نہ ان سے ملاقات کرینگے۔پیپلز پارٹی کے اس فیصلے کے باعث تحریک انصاف اپنا صدر لانے میں کامیاب رہی۔چند ماہ پہلے سینٹ چیئرمین کے انتخاب کے وقت بھی پیپلز پارٹی نے یہی رویہ اختیار کیا تھا۔ مسلم لیگ(ن) کو اکثریت حاصل تھی مگر جوڑ توڑ کے ذریعے اسکا مینڈیٹ چھین لیا گیا۔ اس وقت بھی مسلم لیگ(ن) نے پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی کیلئے اپنی غیر مشروط حمایت پیش کی تھی، مگر زرداری صاحب نے صادق سنجرانی کو ترجیح دی۔ اس سے پہلے بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت گرانے میں بھی پیپلز پارٹی کا کردار تنقید کی زد میں رہا۔جناب آصف زرداری کے دست راست ڈاکٹر قیوم سومرو کی بلوچستان میں موجودگی میڈیا پر زیر بحث بھی آئی۔

ان باتوں کا مقصد یہ ہے کہ پیپلز پارٹی تو ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی جماعت کہلاتی ہے۔ جمہوریت کیلئے اسکی جدوجہد اور قربانیوں سے انکار ممکن نہیں۔ اب بھی پیپلز پارٹی میں ایسے جمہوریت پسند موجود ہیں، جو دور آمریت میں ڈٹ کر کھڑے رہے تھے۔ وہ آج بھی آئین کی بالا دستی اور آئینی حدود کی پابندی کی بات کرتے ہیں۔ جمہوریت اور جمہوری بالادستی کیلئے آواز اٹھاتے انکی زبان نہیں لڑکھڑاتی۔ مشکل مگر یہ ہے کہ شریک چیئرمین ، آصف زرداری (جنکے ہاتھ میں فیصلہ سازی کا اصل اختیار ہے) احتسابی اور تحقیقاتی شکنجے کی زد میں ہیں۔پینتیس ارب روپے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کیلئے جے۔آئی۔ ٹی قائم ہو چکی ہے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے گزشتہ دس برس کی آمدن کی تفصیلات طلب کر رکھی ہیں۔ انکے اثاثوں کی چھان بین کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ پانامہ لیکس فیصلوں میں معزز جج صاحبان کا کہنا تھا کہ " نواز شریف پر سرکاری عہدے کے غلط استعمال کا کوئی الزام نہیں " اور " استغاثہ کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہیں کر سکی" ۔ تاہم واقفان حال بتاتے ہیں کہ زرداری صاحب کے کیسز میں ثابت کرنے کیلئے بہت کچھ دستیاب ہے۔ ایسے میں آصف زرداری سیاسی نظریات بچائیں یا اپنی عزت سادات؟۔لہذا فی الحال پیپلز پارٹی کی سیاست اور سیاسی فیصلوں کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ سوچنے کی بات مگر یہ ہے کہ کیا یہ محض حسن اتفاق ہے کہ جب بھی ملکی سیاست میں فیصلہ کن موڑ آتا ہے ، آصف زرداری کے خلاف کرپشن مقدمات کی تلوار نیام میں سے نکل آتی ہے۔ عام انتخابات سے کچھ ہی روز پہلے میگا کرپشن اور منی لانڈرنگ کیس سامنے آجاتا ہے۔ زرداری صاحب کے قریبی دوستوں کی گرفتاریاں اور تحقیقات شروع ہو جاتی ہیں۔ انتخابات کے بعد جب دھاندلی کی تحقیقات کے حوالے سے پارلیمانی کمیشن بنانے کیلئے اپوزیشن پارٹیوں کا الائنس بنتا ہے اوروزارت عظمیٰ کیلئے مشترکہ امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ ہوتا ہے تو ایف۔آئی۔ اے متحرک ہو جاتی ہے، وارنٹ نکلتے ہیں اور گرفتاریاں عمل میں آتی ہیں۔ صدارتی انتخابات کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے توآصف زرداری کی نیب اورعدالتی پیشیوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔

محرکات کچھ بھی ہوں ، پیپلز پارٹی کیلئے غو ر طلب بات یہ ہے کہ کیا اسکی فیصلہ سازی یونہی متاثر ہوتی رہے گی؟ سیاست مفادات کا کھیل سہی۔ مگر اصول اور نظریات بھی کم اہم معاملات نہیں ہوتے۔ سیاسی مبصرین تسلیم کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نےاچھی انتخابی مہم چلائی ، جسکے باعث پیپلز پارٹی کی انتخابی کارکردگی بھی 2013 کے مقابلے میں بہتر رہی۔ انہوں نے قائد ایوان کے انتخاب کے بعد پارلیمنٹ میں بھی سب سے موثر خطاب کیا۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ موجودہ حالات میں بھی پیپلز پارٹی کی جمہوری روایات کو قائم رکھنے کی کو شش کرینگے اور یہ تاثر زائل کریں گے کہ پیپلز پارٹی نے بظاہر اپوزیشن میں رہتے ہوئے حکومتی اتحاد کے ساتھ پس پردہ مفاہمت کر رکھی ہے۔ اگر معاملات بلاول بھٹو کی گرفت میں رہے تو یقیناََ بھٹو اور بے نظیر کی پارٹی گو مگو کی کیفیت سے نکل آئے گی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں