Advertisement

تحریک آزادی میں سندھ کا کردار

August 20, 2019
 

دو حریت پسندوں کو پھانسی، ایک کو جلاوطنی کی سزا ملی

1600ء میں انگریز، تاجر وں کے بھیس میں ہندوستان داخل ہوئےاور 1613ء میں انہوںنے سورت کے مقام پر پہلی تجارتی کوٹھیبنائی۔ 1662ء میں بمبئی بھی اس کے حلقہ اثر میں آ گیااور یہ اثرات اتنے بڑھ گئے کہ حاکم ،محکوم اورمحکوم فرماں رواں بن گئے۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی شکست نے برطانیہ کا ہندوستان پر مستحکم کردیا لیکن آزادی کے متوالوں نے کبھی بھی برٹش راج کو تسلیم نہیں کیا اور وہ انگریز حکومت کے خلاف مسلسل جدوجہد کرتے رہے ۔بالآخران کا جہد مسلسل باآرور ثابت ہوا اور آج ہم ایک آزاد مملکت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔

آزادی کی تحریکوں کے آغازسے ہی سندھ کا اہم کردار رہا ہے ۔ اس خطے کے ہندو اور مسلمانوں نے کبھی بھی برطانوی سرکار کی حاکمیت کو قبول نہیں کیااور سندھ کے باسی اپنے لہو سے آزادی کی تحریک کش آبیاری کرتے رہے۔ پاکستان کے قیام میں سندھی اکابرین کی جدوجہد اور قربانیوں کا بہت بڑا حصہ ہے۔سندھ پر انگریزوں کے قبضے کے خلاف سب سےپہلا مجاہد ہوش محمد شیدی تھا، جس نےبرطانوی فوج کے خلاف لڑتے ہوئے ’’مرسوں مرسوں، سندھ نہ ڈیسوں‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئےجام شہادت نوش کیاتھا۔ کراچی کی ایمپریس مارکیٹ شہر کی خوب صورتی کی علامت ہے لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ مارکیٹ 1857ء کی جنگ آزادی کے مجاہدوں رام دین پانڈے اور اس کے ساتھیوں کی قبر پر تعمیر کی گئی تھی۔ 1857ء میں کراچی میں مقیم برطانوی فوج کی 21ویں رجمنٹ کے سپاہیوں نے رام دین پانڈے کی قیادت میں ایک منصوبہ تشکیل دیا، جس کے مطابق رات کے وقت اس رجمنٹ کے سپاہیوں نے ملیر کینٹ پر قبضہ کرنے کے بعد انگریز فوجی افسران کو قتل کرکے آزادی کا باقاعدہ اعلان کرنا تھا، لیکنبعض مخبروں نے اس کی اطلاع انگریز افسران کو دے دی جس کے بعد انگریزوں نےرام دین پانڈے اور اس کے ساتھ منصوبے میں شامل 14 باغی سپاہیوں کو گرفتار کرلیا۔13 اور 14 ستمبر 1857ء کی درمیانی شب ان باغیوں کو ایمپریس مارکیٹ کے مقام پر خالی میدان میں لا کرسرِعام پھانسی دی گئی جبکہ رام دین پانڈے سمیت دیگر 3 باغیوں کو توپوں کے مُنہ پر باندھ کر اڑا دیا گیا۔ بعد ازاں ان لاشوں کے ٹکڑے اکٹھے کرکے ایک گڑھے میں پھینک دیے گئے۔ جن باغیوں کو پھانسی دی گئی تھی اُن کی لاشوں کے بھی ٹکڑے کیے گئے اور اسی گڑھے میں پھینک دیا گیا۔ رام دین پانڈے اور اس کے ساتھی، کراچی کے شہریوں کے لیے ہیرو کا درجہ اختیار کرگئے۔ لوگ رات کے وقت آتے، اس میدان میں دیئے اور موم بتیاں روشن کرتے اور پھولوں کے گلدستے رکھ کر چلے جاتے۔ اس صورت حال سے انگریز سرکار کو خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ مقام آزادی کےشہداء کی یادگار نہ بن کر کسی نئی بغاوت کا پیش خیمہ ثابت نہ ہو، اس لیے یہاں ایمپریس مارکیٹ تعمیرکی گئی اورملکہ برطانیہ کی گولڈن جوبلی کے موقع پراس مارکیٹ کو اس سےمنسوب کرکےاس کا نام ’’ایمپریس مارکیٹ ‘‘رکھا گیا۔

روپلو کولہی جو سندھ سے منتخب ہونے والی موجودہ سینیٹر کرشناکماری کولہی کے پڑ دادا تھے ، ان کا یوم وفات ہرسال سندھ میں 22اگست کومنایا جاتا ہے۔ 1843ء میں انگریزوں نے سندھپر قبضہ کرلیا تھا لیکن انہیں تھرپارمیں کولہی برادری کی جان بسے سخت مزاحمت کا سامنا تھا،جس کی قیادت روپا جی گوہل یا روپلو کولہی کررہے تھے۔ 15 اپریل 1859ءکو روپلو کولہی نے نگر پارکر کے قریب جنرل ٹائروائٹ کی فوج پرشب خون مارا، جس کے نتیجے میں انگریز فوج کے درجنوں سپاہی مارے جب کہ جنرل وائٹ سمیت زندہ بچنے والے سپاہی فرار ہوگئے۔ جنرل ٹائر وائٹ نے حیدرآباد پہنچتے ہی کولہی باغیوں سے بدلہ لینے کی تیاریاں شروع کردیں، اور وہ جدید اسلحے کے ساتھ نگر پارکر پر حملہ آور ہوا۔ حریت پسندوں نے روایتی ہتھیاروں کی مدد سے کافی دیر تک انگریز فوج کا مقابلہ کیا، لیکن شکست کھائی۔ روپلو کولہی اپنے وفادار ساتھیوں کے ساتھ وہاں سے فرار ہوکر کارونجھر کی پہاڑیوں میں روپوش ہوگیا۔جنرل ٹائروائٹ نے اس کی تلاش جاری رکھی اور کچھ عرصے کے بعد اسے کارونجھر کی پہاڑی کے پاس ’’پگ وول ‘‘ کنوئیں پر اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ وہاں رات کے وقت پانی لینے آیا تھا۔روپلو کو گرٹار کرنے کے بعد اسے جنرل ٹائروائٹ کے سامنے پیش کیا۔ جنرل وائٹ کے حکم پرانگریز سپاہیوں نے روپلو پر ظلم و تشددکی انتہا کردی ، اس کی انگلیوں پر روئی لپیٹ کر انہیں تیل میں بھگوکرآگ لگا دی گئی، جس سے اس کی انگلیاں بری طرح جھلس گئیں ،اس سے اس کے ساتھیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس نےکچھ نہیں بتایا۔ تھک ہار کرجنرل ٹائرنے روپلو کو سزائے موت سنادی۔22؍اگست 1859کو اسے سخت فوجی پہرے میں نگر پارکر کے جنوب مشرقی علاقےسوئی گام کے مقام پر لایا گیا اور گردھارو ندی کے کنارے لگے ببول کے درخت کی ڈال پر لٹکا کر پھانسی دے دی گئی۔

سورہیہ بادشاہ، پیر صبغت اللہ شاہ راشدی

پیرصاحب پگارا پاکستان کی مقبول روحانی شخصیت ہیں لیکن تحریک پاکستان میں پیر پگارا کے لازوال کردار سے زیادہ تر لوگ ناواقف ہیں۔ پیر پگاراششم،پیر صبغت اللہ شاہ کا شمار سندھ کے دوسرے باغی رہنما کی حیثیت سے ہوتا ہے جنہیں آزادی کی جدوجہدکے جرم میں سولی پر چڑھایاگیا۔اپنے دادا ، پیر حزب اللہ شاہ المعروف ’’تخت دھنی ‘‘کےوصال کے بعد صبغت اللہ شاہ راشدی کی پگارا ششم کی حیثیت سے دستار بندی کی گئی اور انہیں ’’پگ دھنی ‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ پیر صاحب کے آباء و اجداد انگریزوں کے برصغیر پر قبضے کے خلاف تھے اور ہمیشہ برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کرتے رہے، پیر صبغت اللہ شاہ نے مسند نشین ہونے کے بعدانگریزوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں۔ انہوںنے اپنے مریدوں کو ’’حروں‘‘ کا نام دیا اور بنگال میں انہیںعسکری تربیت دلوا کر حرمجاہدین کے نام سے جہادی فورس بنائی جس کے بعد حروں نے انگریز حکومت کے خلاف جدوجہد کا آغاز کرتے ہوئےسانگھڑ کے قریب واقع مکھے کے جنگل میں متوازی حکومت قائم کی جسے گلو گورنمنٹ کا نام دیا گیا ۔ حروں کی تحریک کو برطانوی حکومت نے بغاوت کا نام دے کر پیر پگارا کو قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کرتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ اس مقدمے میںانہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ 1936ء میںانہیں رہا کیاگیا۔ رہائی کے بعد پیر جوگوٹھ پہنچتے ہی انہوں نے مجاہدین کی عام لام بندی کا اعلان کر دیا اور ’’کفن یا وطن‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئےعَلم جہادبلند کرکے میدا ن میں آگئے۔ انگریز سرکار نے 24 اکتوبر 1941ء کو پیر صاحب پگارا کو دوبارہ گرفتار کرکےسہیون کے مقام پرقید کردیا۔ حُر مجاہدین اپنےروحانی پیشوا کی گرفتاری پرمشتعل ہوگئے اور انگریزوں کے خلاف سندھ بھر میں کارروائیاں شروع کردیں ۔برطانوی حکومت نے سندھ میں مارشل لاء لگا کر ’’حُر ایکٹ‘‘ نافذ کردیا، جس کے تحت بے شمار بستیاں جلا ڈالیں اور تمام حروں کوگرفتار کرکے حراستی کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔دوسری جانب انگریز سرکار نے پیر صاحب پگار ا سےباغیانہ رویہ ترک کرکے انگریزحکومت سے تعاون کرنے کے عوض سکھر سے نواب شاہ تککے علاقے میں جاگیر پیش کی، لیکن پیر صاحب نےجواب میں ان سے ہندوستان چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ تنگ آکر برطانوی سرکار نے انہیں بغاوت کے جرم میں20 مارچ1943ء کو فجر کے وقت سینٹرل جیل حیدرآباد میں پھانسی کی سزا دے دی، اورعوامی ردعمل سے بچنے کے لیے ان کی میت کسی نامعلوم مقام پر دفنا دی گئی جس کا آج تک پتہ نہیں چل سکا۔ انگریزوں نے حروں کی بغاوت کو سختی سے کچل دیا اور ان کے فرزند شاہ مردان شاہ دوم کو تعلیم و تربیت کے لیے انگلینڈ بھیج دیا گیا۔ مردان شاہ، قیام پاکستان کے تین سال بعد وطن واپس آئے اور پیر پگارا ہفتم کی حیثیت سےاپنے والد کی جگہ مسند نشین ہوئے۔

پیر بھرچونڈی شریف

باب الاسلام سندھ کی ایک درگاہ بھرچونڈی شریف (سکھر)ہے جس کے جلیل القدر بزرگ ،حضرت پیر عبدالرحمنؒ نے تحریک پاکستان کوکامیابی سے ہم کنار کرانے میں فقیدالمثال کردار ادا کیا۔انہوں نے ایک دینی سیاسی جماعت ’’جماعت احیائےالاسلام‘‘ کی بنیاد رکھی جس میں ان کے ہزاروں مریدین اور متوسلین شامل ہوگئے۔اس وقت سندھ میں انڈین نیشنل کانگریس مقبول تھی۔انہوں نے اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اپنی ’’جماعت احیائے الاسلام‘‘ کو آل انڈیا مسلم لیگ اور قائداعظم محمد علی جناح کی کے لئے وقف کردیا۔ اس اقدام سے سندھ میں کانگریس کی مقبولیت کم ہوتی گئی اور سندھی عوام جوق در جوق مسلم لیگ میں شامل ہونے لگے۔ پیر بھرچونڈی کی جماعت کی طاقت اور مقبولیتِ اس قدر بڑھ گئی تھی کہ سندھ اسمبلی کے جو آٹھ ارکان مسلم لیگ میں شامل ہوئے‘ ان میں سے پانچ کو پیر عبدالرحمنؒ نے اپنی جماعت کی طرف سےمنتخب کروایا تھا۔ان کے اس اقدام سے نہ صرف سندھ اسمبلی کے اندر مسلم لیگ بڑی قوت بن گئی بلکہ سندھ دھرتی پر بھی مسلم لیگ کی جڑیں مضبوط ہوتی گئیں۔ 27اپریل 1941ء کو بنارس میں آل انڈیا سنی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں پیرصاحب بھرچونڈی شریف نے اپنے سیکڑوں مریدین کے ساتھ شرکت کیجس کے باعث دو قومی نظریہ کو حقیقی معنوں میں عوامی پذیرائی حاصل ہوئی ۔

مولانا عبیداللہ سندھی

ریشمی رومال کی تحریک کے حوالے سے ’’امام انقلاب ‘‘مولانا عبیداللہ سندھی کا آزادی کی تحریک میںبہت بڑا کردار ہے ۔وہ سیالکوٹ کے گاؤں’’چیاناوالی‘‘ کے سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے اور ان کا نام بوٹا سنگھ رکھا گیا۔ 15 اگست 1887 کو انہوں نے اسلام قبول کرکے اپنا نام عبید اللہ رکھا ۔مزید تعلیم کے حصول کے لیے وہ سندھ کے شہربھرچونڈی شریف میں مولانا حافظ محمد صدیق کے پاس آئے ۔ عبید اللہ نے مولانا حافظ محمد صدیق اور بھرچونڈی کے باسیوں کی محبت و خلوص سے متاثر ہوکر اپنے نام کے آگے سندھی لگا لیا اور عبیداللہ سندھی کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ 1889 میں وہ دیوبند مدرسہ دہلی میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد بن گئے جو ایک انقلابی لیڈر تھے۔ کچھ عرصے بعد مولانا عبیداللہ کو مولانا محمود الحسننےہدایت کی کہ وہ ہندوستان میں انگریز حکومت کے خلاف تحریک کا آغازکریں ۔ مولانا عبید اللہ نے اس مقصد کے لیے جمعیت الانصار پارٹی او ر اس کے ساتھ ہی’’ نظارت العارف ‘‘کے نام سے دوسری تنظیم 1913 میں دہلی میں قائم کی۔ کچھ عرصے بعدانہوں نے ’’ جنودل ریانہ ‘‘ کے نام سے ایک منظم فورس تشکیل دی ۔ایک دوسرے کو معلومات فراہم کرنے اورکسی بھی خطرے سے بروقت آگاہ کرنے کے لیے ریشمی رومال کو پیغام رسانی کا ذریعہ بنایا، جس پر ساری معلومات کاڑھ کر بھیجی جاتی تھیں ۔ رومال پر لکھی ہوئی تحریر ایک دوسرے تک پہنچانے کے لیےمخصوص اور قابل اعتماد لوگوں سےکام لیا جاتا تھا۔ان اقدامات کے بعد جمعیت الانصارکی طرف سے فیصلہ کیا گیا کہ ہندوستان سے انگریزوں کونکالنے کے لیے انقلابی جدوجہد کا آغاز کیا جائے جب کہ دوسری جانب افغانستان اور ترکی کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اس انقلابی تحریک کے دوران ہندوستان پر حملہ کردیں جس کے بعد انگریزوں کو ہندوستان سے بھگایا جاسکے۔ مولانا عبیداللہ سندھی اس مشن پر کام کرنے کے لیے افغانستان روانہ ہوئے تاکہ جوپلان بنایا گیا ہے، اس پر عمل درآمد شروع ہوسکے۔مولانا نے افغان حکومت کےسرکردہ افراد سے مذاکرات کے بعد ہندوستان کی آزاد جلاوطن حکومت کے قیام کا اعلان کردیاجس کا صدر راجہ مہندر پرتاب کو بنایا گیا اورخود وزیر اعظم بن گئے۔ مولانا نے مسلمان ممالک کی حمایت سے ہندوستان پر حملے کرنے کے لیے نقشے تیارکروائے اور سندھ میں جہادی مراکز قائم کیے جن کا دائرہ ہندوستا ن تک وسیع ہوگیا۔ اس سلسلے میں تمام ہدایات ایک ریشمی رومال پرکاڑھ کرانہوں نے عبدالخالق نامی شخص کے ہاتھ ہندوستان بھیجیں۔ جب ریشمی رومال پر کاڑھا ہوا پیغام ملتان پہنچا تو خان بہادر رب نواز کی مخبری پر رومال لانے والا شخص پکڑا گیا اور اس پر تحریر کردہ تمام منصوبہ انگریز سرکار پرطشت از بام ہوگیا، جس کے بعد انگریزو ں نے پورے ہندوستان اور سندھ میں کارروائیاں کرکے مولانا عبیداللہ سندھی کے تمام ساتھی گرفتار کرلیے ۔اس ناکامی کے بعد عبیداللہ افغانستان سے روس چلے گئے۔ 1923 میں وہ ترکی گئے جہاں پر ان کا بڑا پرتپاک استقبال کیا گیا، جس کے باعث انہیں کمال اتا ترک کی طرف سے سیاسی اور مالی مدد ملنے کی امید پیدا ہوئی، مگر پہلی عالمی جنگ میں شکست نے ترکی کو کمزورکردیا تھا، اس لیے وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکا۔کئی سال تک جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد سندھ کے وزیر اعظم اللہ بخش سومرو کی کوششوں سے برطانوی حکومت انہیں سندھ آنے کی اجازت دینے پر راضی ہوگئی جس کے بعد وہ وطن واپس آگئے اور پاکستان کے قیام سے تین سال قبل 1944ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔

شیخ عبدالمجید سندھی

شیخ عبد المجید سندھی نےجولائی، 1889ء میں سندھ کے تاریخی شہر ٹھٹھہ کے ایک ہندوگھرانے میں جنم لیا اور ان کا نام جیٹھ آنند رکھا گیا۔ 20 سال کی عمر میں انہوں جناب عبد الرحیم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا جنہوں نے ان کا نام عبد المجید رکھا، سندھ دھرتی سے دیرینہ تعلق ہونے کی بنا پر انہوں نے اپنے نام کے آگے ’’سندھی‘‘ کا اضافہ کردیا۔تبدیلی مذہب کے بعد، ہندوؤں کے احتجاج پر انہیں کچھ عرصے کے لیے لدھیانہ بھیج دیا گیا،جہاں سے وہ کراچی لوٹ آئے۔ کراچی کے حالات سازگار نہ پا کر وہ حیدرآباد منتقل ہو گئے۔ شیخ عبدالمجید ، سندھ دھرتی سے تعلق رکھنے والے معروف سیاستدان، مصنف اور صحافی تھے۔ انہوں نےمولانا عبیداللہ سندھی کی ریشمی رومال تحریک میں حصہ لینے کے پاداش میں تین سال اور تحریک خلافت میں انگریزوں کے خلاف تقریر کرنے کے الزام میں 2 سال قیدکی سزا کاٹی۔ 1937ء میں متحدہ ہندوستان کی سندھ اسمبلی کے پہلے آزاد انتخابات میں اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں بھی شامل رہے۔ 1924ء میں انہوں نے سندھی روزنامہ الوحید جاری کیا اور جس کے ذریعے سندھی مسلمانوں میں سیاسی شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جو تحریک پاکستان کی کامیابی کا موجب بنا۔

مولانا تاج محمود امروٹی

مولانا تاج محمود امروٹی بھی آزاد وطن کے قیام کی جدوجہد کرنے والوں کے ہراول دستےمیں شامل رہے۔ والد کے انتقال کے بعدوہ ان کی وصیت کے مطابق میرپور ماتھیلو کے گاؤں بھرچونڈی شریف میںحضرت مولانا محمد صدیق بھرچونڈی شریف کے پاس چلے گئے ۔کچھ عرصے بعد مولانا صدیق بھرچونڈی کی ہدایت پر اپنے گاؤں’’ دیوانی‘‘ کو چھوڑ کر شکارپور کےقریب گاؤں امروٹ شریف میں سکونت اختیار کی،جس کے بعد ’’امروٹی‘‘ ان کے نام کا لازمی جزو بن گیا۔ امروٹ شریف میں ان کے قائم کردہ دارالعلوم میں مولانا عبیداللہ سندھی نے سات برس تک درس وتدریس کا عمل جاری رکھا ۔ درس و تدریس کے علاوہ سیاسی میدان میں بھی انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ خاص طور پر " تحریکِ خلافت"، "تحریکِ ہجرت"، "تحریکِ ترک الموالات" اور"تحریکِ ریشمی رومال"میں بھرپور حصہ لے کرانہیں کامیاب بنایا۔ مولانا تاج محموامروٹی نے "جمعیت علمائے ہند " نامی سیاسی جماعت بنائی اور اس کے پلیٹ فارم سے بمبئی پریزیڈنسی سے سندھ کی علیحدگی کے لیے تاریخی جدوجہدمیں حصہ لیا۔

مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے قیام کی جدوجہد کرنے والوں میں سندھ کے چنددیگر رہنماؤں کا بھی بہت اہم کردار رہا ہے جن میں غلام مرتضے سید، المعروف جی ایم سید اور پیر علی محمد راشدی کا نام قابل ذکرہے۔پیر علی محمد راشدی تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن اور قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی رفقاء میں سےتھے۔ وہ تحریک پاکستان کی ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے تاریخی قرارداد پاکستان کی ڈرافٹنگ کا کارنامہ سرنجام دیا۔ انہوں نے 1938ء میں کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کانفرنس کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا تھا جس کی صدارت بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے کی۔ اس اجلاس میں برصغیر سے تعلق والے مسلم لیگ کے تمام اکابرین شریک ہوئے۔ اسی اجلاس میں شیخ عبد المجید سندھی نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا ، جس کے بعد قائد اعظم اور حاجی سر عبداللہ ہارون کی سربراہی میں ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی اورپیر علی محمد راشدی کو اس کمیٹی کا سیکریٹری مقررگیا۔ بعد ازاں قائد اعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے پیرعلی محمد راشدی کو مسلم لیگ کی خارجہکمیٹی کا سیکریٹری مقرر کیا۔پیر علی محمد راشدی، آل انڈیا مسلم لیگ کے صوبائی سیکریٹری بھی رہے۔

جی ایم سید، تحریک پاکستان کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ انہوں نے سندھ کی بمبئی سے علیحدگی اور پاکستان میں شمولیت کے حوالے سے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔تحریک خلافت میں بھی ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ قائد اعظم کی دعوت پر انہوں نے کراچی میں سرعبداللہ ہارون کی رہائش گاہ پر بابائے قوم سے ملاقات کرکے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔1941 ء میں جی ایم سید آل انڈیا مسلم لیگ کے مرکزی کونسل کےرکن جب کہ 1943 ء میں ان کو مسلم لیگ سندھ کا صدر مقرر کیا گیا۔23مارچ 1940کو لاہور میں مینار پاکستان پرہونے والے جلسے میں انہوں نے قرارداد پاکستان کی بھرپور حمایت کی۔ 1943میں انہوں نے سندھ اسمبلی سے برصغیر میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ مملکت کے قیام کی قراداد منظور کروائی۔ یہ متحدہ ہندوستان کی پہلی اسمبلی تھی جہاں قیام پاکستان کی قرارداد منظور ہوئی تھی جس کے نتیجے میں صرف 4 سال کے مختصر عرصے میں مسلمان علیحدہ وطن کے حصو ل میں کامیاب ہوئے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا تعلق بھی سندھ دھرتی سے تھا اور انہوں نے کراچی میں جنم لیا تھا۔ قائد کی ان تھک محنت اور بے مثل جدوجہد کے نتیجے میں مملکت خدادادکا قیام ممکن ہوا۔


مکمل خبر پڑھیں