Advertisement

پہلے 2 ماہ میں جمع ریونیو میں25 فیصد اضافہ کیا گیا،حفیظ شیخ

September 04, 2019
 

Your browser doesnt support HTML5 video.

پہلے 2 ماہ میں جمع ریونیو میں25 فیصد اضافہ کیا گیا،حفیظ شیخ

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ مالی سال کے پہلے دو ماہ میں جمع ریونیو میں 25 فیصد اضافہ کیا گیا، 644 ارب کے ہدف میں سے 580ارب روپے کے ٹیکس جمع کیے۔

وفاقی وزرائے عمر ایوب، خسرو بختیار، مشیر عبدالرزاق داود سمیت دیگر پر مشتمل وزیراعظم عمران خان کی معاشی ٹیم نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ گزشتہ سال کے 19 لاکھ ٹیکس فائلر میں 6 لاکھ کا اضافہ ہوا، جو اب 25 لاکھ تک پہنچ گئے، ٹیکس دینےوالوں کی تعداد میں 27فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس گزاروں کو 2015ء سے آج تک کا ٹیکس، ری فنڈ بڑا فیصلہ ہے، انکم ٹیکس پر ایک لاکھ روپے تک کا ری فنڈ فوری ادا کیا جائے گا۔

مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ ٹیکس وصولیاں مقررہ اہدا ف کے مقابلے میں 90 فیصد پر آئیں جبکہ ایکسپورٹ ریفنڈ میں ایف بی آر اہلکاروں کا کردار ختم کردیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گردشی قرضے میں 28 ارب روپے کی کمی لائی گئی، ان قرضوں میں ہر ماہ 38 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا تھا، آٹے کی قیمت کنٹرول میں لانے کے لیے ایک دو روز میں اسٹیک ہولڈرز سے میٹنگ کی جائے گی۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ پاور سیکٹر میں چوری پکڑنے سے 100ارب روپے بچائے گئے، ایل این جی پلانٹس کی پرائیویٹائزیشن سے 300ارب کا اضافہ ہوگا، دو سیلولر کمپنیوں سے ایک دو روز میں حکومت کو 70ارب روپے ملے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2 سے 10ارب کے پراجیکٹ کی منظوری پی ڈی ڈبلیو میں ہی کرانے کا فیصلہ کیا، 10ارب سے بڑا پراجیکٹ ایکنک میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔

مشیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ ایکنک میں 5789 ارب روپے کے پراجیکٹس منظور کیے گئےجبکہ حکومت نے تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل کیا۔

پانچ سال کے دوران زرعی شعبے میں ترقی نہیں ہوئی بلکہ منفی میں تھی، توقع ہے زرعی شعبے میں ترقی ساڑھے 3 فیصد ہوگی، معیشت کےلیے ٹارگٹ 4اعشاریہ2 رکھا ہے جو آسانی سے حاصل کرلیں گے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا کہ جی آئی ڈی سی لانے کا مقصدکھاد کی قیمتوں میں کمی کرنا ہے، جی آئی ڈی سی پر سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ قبول ہوگا۔


مکمل خبر پڑھیں