• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کو بڑا دھچکا: علی لاریجانی کی شہادت سے اسٹریٹجک قیادت کا ایک عہد ختم

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

ایران کے سینئر سیاستدان اور سابق اسپیکر پارلیمنٹ علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے، جس کے بعد ایران اپنی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی ایک مضبوط اور تجربہ کار آواز سے محروم ہو گیا۔

لاریجانی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے قریبی مشیر اور قابلِ اعتماد ساتھی سمجھے جاتے تھے، وہ ایران کی سیکیورٹی پالیسی، ایٹمی مذاکرات اور خطے میں سفارتی حکمتِ عملی کے اہم معماروں میں شمار ہوتے تھے۔

انقلابی پس منظر سے اقتدار کے ایوانوں تک

علی لاریجانی 1958ء میں عراق کے مذہبی شہر نجف میں پیدا ہوئے، ایرانی انقلاب 1979ء کے بعد وہ تیزی سے ابھر کر سامنے آئے اور ایران عراق جنگ میں پاسدارانِ انقلاب کا حصہ بنے، بعد ازاں وہ ایران کے سرکاری میڈیا (IRIB) کے سربراہ، وزیرِ ثقافت اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔

ایٹمی پالیسی کے معمار

بطور چیف نیوکلیئر مذاکرات کار، لاریجانی نے ایران کے متنازع ایٹمی پروگرام کا بھرپور دفاع کیا ہے، وہ اس پالیسی کے حامی تھے کہ ایران عالمی دباؤ کے باوجود اپنی ایٹمی صلاحیت کو برقرار رکھے۔

2015ء کے عالمی معاہدے میں بھی ان کا اہم کردار رہا، تاہم بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی نے اس پالیسی کو شدید دھچکا پہنچایا۔

حالیہ جنگ اور آخری مؤقف

28 فروری کو شروع ہونے والے امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد علی لاریجانی نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ دشمن ایران کو کمزور اور تقسیم کرنا چاہتا ہے، انہوں نے اندرونی احتجاج کے خلاف بھی سخت وارننگ جاری کی تھی۔

علی لاریجانی کی شہادت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران پہلے ہی سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد قیادت کے بحران سے گزر رہا ہے اور پاسدارانِ انقلاب کا کردار مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

ایک دور کا اختتام

علی لاریجانی کو ایران کے اندرونی نظام کے ماہر کے طور پر جانا جاتا تھا، جو ناصرف طاقت کے ایوانوں میں اثر رکھتے تھے بلکہ مغربی دنیا کے ساتھ مذاکرات میں بھی اہم کردار ادا کرتے تھے۔

ان کی شہادت ایران کے لیے صرف ایک سیاسی نقصان نہیں بلکہ اسٹریٹجک سوچ اور سفارتی مہارت کے ایک مکمل دور کا خاتمہ بھی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید