کراچی (نیوز ڈیسک)سستے ڈرونز نے فضائی جنگ کا توازن بدل دیا۔ کم لاگت ڈرونز مہنگے جنگی طیاروں کیلئے چیلنج ، ایران نے ان سے دشمن کے دفاعی نظام کو دباؤ میں ڈالا۔ ایک میزائل کی قیمت میں درجنوں ڈرونزکی تیاری ممکن،امریکا مہنگے ہتھیاروں کے باعث بحران کا شکارہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران جنگ نے فضائی جنگ کی نوعیت کو یکسر تبدیل کر دیا ہے جہاں سستے حملہ آور ڈرونز نے مہنگے جنگی طیاروں اور جدید دفاعی نظاموں کی برتری کو چیلنج کر دیا ہے، امریکا “آپریشن ایپک فیوری” کے تحت جدید طیارے جیسے F-35 اور B-2 استعمال کر رہا ہے جبکہ ایران بڑی تعداد میں کم قیمت ڈرونز اور میزائل داغ کر دفاعی نظام کو مغلوب کرنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے، اندازوں کے مطابق ایک ڈرون کی قیمت 20 سے 50 ہزار ڈالر کے درمیان ہے۔