Advertisement

موٹر سائیکل پر میت لے جانے والے دو افراد حادثے کا شکار

September 22, 2019
 

گزشتہ ہفتے میرپورخاص میں اندوہ ناک واقعہ پیش آیا جس میں ایمبولنس کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے معصوم بچہ کی لاش موٹر سائیکل پر لے جاتے ہوئے باپ اور بچے کا ماموںراستہ میں حادثہ سے دوچار ہوکر لقمہ اجل بن گئے۔بچہ کی لاش جب مزید دوجواں سال لاشوں کے ہمراہ گھر پہنچیں توعلاقے میں کہرام مچ گیا۔احزب اتلاف کی جماعتوں کے ساتھ حکومتی اکابرین بھی سیاسی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے ہلاک شدگان کے گاؤں جاپہنچے۔ واقعہ سے متعلق پولیس، سول اسپتال اورہلاک شدگان کے لواحقین سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق میرپورخاص ضلع کے تعلقہ سندھڑی کے گائوں ہمیر درس میں رہائشی غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے کیول بھیل کے دوسال کے بیٹے موہن بھیل کو ڈائیریا کی بیماری کے باعث علاج کے لیے سول اسپتال میرپورخاص لایا گیا،جہاں وہ جان بر نہ ہوسکا۔

کیول نے میت گاؤں لے جانے کے لیے اسپتال کی انتظامیہ اور ایمبولینس ڈرائیورکی منتیں کیں لیکن انہوں نے گاڑی کے پٹرول کی مد میں 2000روپے دینے کا مطالبہ کیا۔ اس کی جیب اس وقت دوتین سوروپے رکھے تھے،وہ دو ہزار روپے کہا ں سے ادا کرتا،تڑپا،اس نے کافی آہ بکا کی لکن اس کی شنوائی نہیں ہوئی ۔ مجبوراً وہ لاش کو اپنے 25سالہ برادر نسبتی رمیش بھیل کے ہمراہ موٹر سائیکل پر لے کر گھر کے روانہ ہوگیا۔صدمے کی وجہ سے اس کا برا حال تھا اور اس سے موٹرسائیکل نہیں سنبھالی جارہی تھی، جس کی وجہ سے موٹر سائیکل جب میرپورخاص شہر کی حدود سے نکل کر اولڈ میرپور تھانے کی حدود میں پہنچی تو ایک منی ٹرک نے اسے ٹکر ماری۔ حادثہ اتنا خوف ناک تھا کہ کہ رمیش بھیل نے موقع پر ہی دم توڑ دیا جبکہ کیول بھیل شدیدزخمی ہوگیا۔

لاشوں اور زخمی کو واپس سول اسپتال پہنچایا گیا،جہاں مناسب سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے سے کیول کو حیدرآباد روانہ کردیا گیا ،لیکن وہ راستے میں ہی موت کے منہ میں چلاگیا۔ ایک ساتھ تین لاشیں جب گھر پہنچیں تو علاقے میں کہرام مچ گیا۔،سوشل میڈیا پرمذکورہ واقعے کی کوریج کے بعدوزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پہلے واقعہ کی رپورٹ طلب کی،اور بعد ازاںواقعہ کے کرداروں مرکزی کردار،سول اسپتال کےمیڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور سول سرجن کو معطل کرنے کے احکامات جارہی کردیئے جبکہ ڈائیریکٹر ہیلتھ اور ڈپٹی کمشنر میرپورخاص نے بھی الگ الگ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دیں۔

اولڈ میرپور پولیس اسٹیشن میں حادثہ کی رپورٹ درج کرکے منی ٹرک کے ڈرائیور ضیاالرحمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ کراچی سے آئے ہوئے تحریک انصاف کے اراکین سندھ اسمبلی کے شدید احتجاج اور ٹائون پولیس اسٹیشن میں دھرنے کے بعد ایم ایس ڈاکٹر خلیل میمن،سول سرجن ڈاکٹر محمد اسلم انصاری ،ڈاکٹر عادل اور نامعلوم ایمبولنس ڈرائیور کے خلاف الگ سے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ہے۔ادھر غم زدہ خاندانسے اظہار ہمدردی کے لیے ،حکومتی اور اپوزیشن کے رہنماؤں نے اس مفلوک الحال جھونپڑپٹی کا رخ کرلیا ہے جہاں وہ عام دنوں میں آنا تک گوارہ نہیں کرتے۔ وہ منظر ناقابل بیان ہے جب ریوینو ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر نے مبینہ طور پر ایک بھگونا ہوئے پکے چاولہلاک شدگان کے ورثاء کے لیے بھیجے توبھوک سے نڈھال متوفی کیول کا معصوم بچہ خالی پلیٹ لہاتھ میں لیے اپنی باری کا انتظار کرتا رہا ۔

سندھ کے چوتھے بڑے شہر اور ڈویژنل ہیڈ کواٹر میرپورخاص میں واقع سول اسپتال المعروف ریفر سینٹر میں طویل عرصے سے بدانتظامی،ڈاکٹروں ، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ادویات کی نایابی، ضروری ٹیسٹس نہ ہونے کی سولتوں کی شکایات عام ہیںجب کہ حفظان کی صور ت حال بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ڈویزنل ہیڈکورٹر کا درجہ رکھنے والے اس شہر میں صوبائی وزیر،ارکان صوبائی اسمبلی،کمشنر وڈپٹی کمشنراور محکمہ ہیلتھ کے افسران موجود ہیں۔انہیں چاہئے کہ میرپور خاص کے عوام کے مسائل پر توجہ مرکوز کریں، شہریوں کو بنیادی خاص کر طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔


مکمل خبر پڑھیں