Advertisement

ایک روزہ سیریز میں میزبان کا پلہ بھاری

September 24, 2019
 

آئی سی سی ون ڈے رینکنگ کی نمبر چھ ٹیم پاکستان کے لئے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ اس مرتبہ سری لنکا جیسی بڑی ٹیم کے خلاف مکمل سیریز اس کے ہوم گرائونڈ میں ہورہی ہے ،مہمان ٹیم پروگرام کے مطابق 25 ستمبر کو پاکستان پہنچ رہی ہے اور شیڈول کے مطابق 3 ایک روز ہ انٹر نیشنل میچز نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گی ،29اکتوبر 2017 کو یہی ٹیم پاکستان کے خلاف ابوظبی سے لاہور پہنچی تھی اور تیسرا ٹی 20 میچ کھیل کر پاکستان کے ویران میدانوں کو آباد کرنے کی نوید دے گئی تھی ، گرین شرٹس اب تک کھیلی گئی باہمی سیریز میں آئی لینڈرز سے کہیں آگے ہیں 17سیریز میں سے گرین شرٹس 11میں کامیاب رہے جبکہ آئی لینڈرز 6سیریز کی ٹرافی اٹھاسکے ،2مرتبہ شارجہ کپ کے نام سے دونوں میں باہمی مقابلے ہوئے ان میں بھی پاکستان کامیاب رہا اس طرح باہمی ٹکر کی 19 سیریز میں پاکستان 13میں جیتا ہے سری لنکا نے آخری سیریز 5برس قبل 2014 میں اپنے ملک میں جیتی تھی اس کے بعد سے قومی ٹیم مسلسل 2 سیریز سے ناقابل شکست ہے ۔ مجموعی مقابلوں میں بھی پاکستان نمایاں طور پر سر فہرست ہے اس نے 153میں سے 90جیتے جبکہ سری لنکا صرف58میچز اپنے نام کرسکا ایک میچ ٹائی رہا ،4میچز بے نتیجہ تھے ۔

سری لنکاگزشتہ 4 سال سے پاکستان کے خلاف سنگل ون ڈے کی فتح کا متلاشی رہا ہے اس دوران کھیلے گئے تمام 6میچز پاکستان کے نام رہے جبکہ اب تک کا 7واں وآخری میچ ورلڈ کپ کا تھا جو بارش کی نذر ہوگیا تھا ،۔نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پاکستان نے اب تک 39 میچ کھیلے ریکارڈ زیادہ بہتر نہیں 20 جیتے تو 17ہارے،2میچ بے نتیجہ تھے سری لنکا نے یہاں 12میں سے 5جیتے اور 7 ہارے ہیں ،1980سے 2009کے درمیان یہاں 11ٹیموں نے 46میچزمیں شرکت کی ،44فیصلہ کن رہے اور 2 میچز بے نتیجہ ختم ہوئے گرائونڈ کا ہائی ا سکور 374 اور کم اسکور 115 رہا،اتفاق سے سری لنکا نے 10 سال قبل یہاں پاکستان کے خلاف آخری 2 ون ڈے میچز کھیلے تھے 20 جنوری 2009کو پاکستان جیتا اور 21 جنوری 2009کو سری لنکا کامیاب ہوا اس کے بعد سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کوئی ون ڈے میچ نہ ہوسکا تاہم سری لنکا نے سیریز کا آخری میچ اسی سال لاہور میں کھیلا تھا اس کے بعد لاہور ہی میں 2015میں زمبابوے ٹیم نے 3 ون ڈے میچزکھیلے ۔پاکستان اس فارمیٹ میں سری لنکا کے خلاف ہائی اسکور9وکٹ پر371کر چکاہے جو4اکتوبر1996کو نیروبی میں بنا جبکہ سری لنکا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف 26جولائی 2015کوہمبنٹوٹا میں4وکٹ پر368کا بڑا مجموعہ سیٹ کرچکا ہے۔

دونوں ٹیموں کو ایک دوسرے کےخلاف 100سے کم مجموعے پر ہتھیار پھینکنے کا اعزاز حاصل ہے24جنوری 2009کولاہور میں پاکستان 75پر آئوٹ ہوا تو17اپریل 2002کوشارجہ میں سری لنکا78پر باہر ہوا ۔کسی بھی ایک سیریز کے ٹاپ ا سکورر ز میں محمد حفیظ پہلے نمبر پر ہیں، انہوں نے 2014 کی سیریز میں 448رنزکئے تھے ،سری لنکا کے لئے اروندا ڈی سلوا 318کرکے ٹاپ پر ہیں ۔انضما م الحق63میچز میں 2265 رنزکے ساتھ پاکستان اور سنتھ جے سوریا 82میچز میں2517رنزکے ساتھ اپنے ملک کے مجموعی ٹاپ اسکورر ہیں ،محمد حفیظ 140ور تلکرتنے دلشان 137کی ناقابل شکست اننگز کے ساتھ اپنےاپنے ملک کے بہترین انفرادی اسکورر ہیں ۔

بولنگ میںمرلی دھرن 65میچز میں96ور پاکستان کےوسیم اکرم 59 میچز میں 92شکار کے ساتھ اپنے اپنے کیمپ کے ٹاپ وکٹ ٹیکر بولرز ہیں،بولنگ کوچ وقار یونس کی 26 رنزکے عوض 6 اور پریرا کی 44رنزکے عوض 6وکٹ کی کارکردگی بہترین انفرادی گیند بازی کا ریکارڈ رکھتی ہے ،حسن علی نے اب تک کی آخری سیریز میں 14وکٹیں لیکر ایک سیریز میں زیادہ شکار کرنے کاریکارڈ اپنے نام کر رکھا ہے، نوید لطیف اور انضما م کی تیسری وکٹ پر 219رنزکی شراکت باہمی مقابلوں کی اب تک کی سب سے بڑی پارٹنر شپ ہے ،جے سوریا اور ڈی سلوا نے بھی اسی وکٹ پر 213رنزبنائے تھے ۔جے سوریا 82 اور شاہد آفریدی 72میچز کے ساتھ زیادہ میچوں میں نمائندگی کرنے والے پلیئر ہیں ، کپتانی کے طورپر رانا ٹنگا نے سب سے زیادہ 47 میچز میں قیادت کی مگر 19جیتے اور 27 ہارے جبکہ پاکستان کے لئے عمران خان نے سب سے زیادہ 26میچزمیں کپتانی کی اور 21جیتے اور صرف4ہارے ہیں،سرفراز احمد 6میچز سے ناقابل شکست ہیں پاکستان97ریٹنگ کے ساتھ آئی سی سی رینکنگ میںچھٹے اور سری لنکا کی 82کے ساتھ پوزیشن 8ویں ہے۔


مکمل خبر پڑھیں