Advertisement

’’نماز‘‘ سے متعلق لوگوں کی بعض کوتاہیاں اور اُن کی اصلاح

September 27, 2019
 

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

اللہ اور اُس کے رسولﷺ پر ایمان لانے کے بعد سب سے پہلا اور اہم فریضہ ’’نماز‘‘ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر مسلمان پر عائد کیا گیا ہے، خواہ مرد ہو یا عورت ، غریب ہو یا مال دار، صحت مند ہو یابیمار، طاقت ور ہو یا کمزور، بوڑھا ہو یا نوجوان، مسافر ہو یا مقیم، بادشاہ ہو یا غلام، حالت امن ہو یا حالت خوف، خوشی ہو یا غم، گرمی ہو یا سردی، حتیٰ کہ جہاد وقتال کے عین موقع پر میدانِ جنگ میں بھی یہ فرض معاف نہیں ہوتا۔

قرآن وحدیث میں اس اہم اور بنیادی فریضے کو کثرت سے بیان کیا گیا ہے، مگر بڑے افسوس اور فکر کی بات ہے کہ نماز سے متعلق متعدد کوتاہیاں ہمارے اندر موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کی ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔

۱) نماز کی ادائیگی میں کوتاہی: بعض حضرات جو نماز نہیں پڑھتے،سمجھانے پر کہتے ہیں کہ جمعہ سے یا رمضان سے یا سال کی ابتداء سے نماز کا اہتمام کریں گے۔ حالانکہ کسی کو نہیں معلوم کہ کس وقت اس دار فانی (دنیا) کو الوداع کہنا پڑے۔ اگر ایسے وقت میں ملک الموت (موت کا فرشتہ) ہماری روح نکالنے آیا کہ ہمارا رب ہم سے نمازوں کا اہتمام نہ کرنے کی وجـہ سے ناراض ہے تو پھر ہمارے لئے انتہائی خسارہ اور نقصان ہے۔

موت کب آجائے، سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ (سورۂ لقمان، ۳۴) اور ہر گروہ کے لئے ایک میعاد معین ہے، سو جس وقت ان کی میعاد معین آجائے گی، اس وقت ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ (سورۃ الاعراف، ۳۴)

لہٰذا ان حضرات کو چاہئے کہ کسی دن یا کسی وقت پر اپنے ارادے کو ہرگز معلق نہ کریں، بلکہ سچے دل سے توبہ کرکے آج سے بلکہ ابھی سے نمازوں کا خاص اہتمام کریں ،کیونکہ نماز ‘ دین اسلام کا عظیم رکن ہے اور قیامت کے دن سب سے پہلے اسی نماز کا حساب لیا جائے گا۔ یاد رکھیں کہ جو شخص نماز میں کوتاہی کرتا ہے، وہ یقیناً دین کے دوسرے کاموں میں بھی سستی کرنے والا ہوگا۔

جس نے وقت پر خشوع وخضوع کے ساتھ نماز کا اہتمام کرلیا، وہ یقیناً پورے دین کی حفاظت کرنے والا ہوگا، جیسا کہ حضرت عمر فاروق ؓنے اپنے گورنروں کو حکم جاری فرمایا تھا کہ میرے نزدیک تمہارے امور میں سب سے زیادہ اہمیت نماز کی ہے، جس نے نماز کی پابندی کرکے اس کی حفاظت کی، اس نے پورے دین کی حفاظت کی اور جس نے نماز کو ضائع کیا، وہ نماز کے علاوہ دین کے دیگر ارکان کو زیادہ ضائع کرنے والا ہوگا۔

۲) نماز پر دنیاوی ضرورتوں کو ترجیح دینا: بعض حضرات سے جب نماز کے اہتمام کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ والدین کی خدمت، بچوں کی تربیت اور ان کی دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کوشش کرنا بھی تو ضروری ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ امور بھی ضروری ہیں ،مگر ان اعمال کے لئے نماز کو ترک کرنا یا نماز کی اہمیت کو کم سمجھنا کون سی عقل مندی ہے؟ حضور اکرم ﷺ اور صحابۂ کرامؓ نہ صرف فرض نماز کی پابندی فرماتے، بلکہ سنن ونوافل کا بھی خاص اہتمام فرماتے اور اپنے گھر والوں کے حقوق کما حقہ ادا کرتے،ان حضرات کی زندگیاں ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضوراکرم ﷺہم سے باتیں کرتے تھے اور ہم حضور ﷺسے باتیں کرتے تھے ،لیکن جب نماز کا وقت آجاتا تو آپﷺایسے ہوجاتے ،گویا ہمیں پہچانتے ہی نہیں اور ہمہ تن اللہ کی طرف مشغول ہوجاتے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓفرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اللہ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟آپﷺ نے ارشاد فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓکہتے ہیں میں نے کہا کہ اس کے بعد کون سا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: والدین کی فرماںبرداری۔ (بخاری ومسلم) یاد رکھیں کہ نماز میں کوتاہی کرکے گھر والوں کی دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنا دین نہیں،بلکہ دین اسلام کے منافی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں۔ (سورۃالمنافقون ۹) لہٰذا دنیاوی ضرورتوں کو نماز پر فوقیت نہ دیں، بلکہ نمازوں کو ان کے اوقات پر ادا کریں۔

۳) بیماری کے وقت نمازوں کی ادائیگی میں کوتاہی: بعض حضرات بیماری میں نماز کو بالکلیہ ترک کردیتے ہیں ،حتیٰ کہ نماز پڑھنے والا طبقہ بھی نماز کا اہتمام نہیں کرتا، حالانکہ صحت وتندرستی کی طرح بیماری کی حالت میں بھی نماز کو ان کے اوقات میں پڑھنا ضروری ہے،البتہ شریعت اسلامیہ نے اتنی اجازت دی ہے کہ شدید بیماری کی وجـہ سے مسجد جانا مشکل ہے تو گھر میں ہی نماز ادا کرلیں، کھڑے ہوکر نماز نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر نماز پڑھیں۔ بیٹھ کر بھی نماز پڑھنا مشکل ہے تو لیٹ کر، حتیٰ کہ اشارےسے بھی نماز پڑھ سکتے ہیں تو اسے ضرور ادا کریں۔

حضرت عمران بن حصین ؓفرماتے ہیں کہ میں مریض تھا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز پڑھنے کا مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کھڑے ہوکر نماز پڑھ سکو تو کھڑے ہوکر پڑھو، بیٹھ کر پڑھ سکو تو بیٹھ کر پڑھو، لیٹ کر پڑھ سکو تو لیٹ کر پڑھو ۔ (صحیح بخاری)

نبی اکرم ﷺ اور صحابۂ کرام ؓسخت بیماری کی حالت میں بھی جماعت سے نماز ادا کرنے کا اہتمام فرماتےتھے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓارشاد فرماتے ہیں کہ ہم تو اپنا حال یہ دیکھتے تھے کہ جو شخص کھلّم کھلّا منافق ہوتا وہ تو جماعت سے رہ جاتا یا کوئی سخت بیمار‘ ورنہ جو شخص دو آدمیوں کے سہارے سے گھسـٹتا ہوا مسجد جا سکتا تھا ،وہ بھی صف میں کھڑا کردیا جاتا تھا۔لہٰذا صحت ہو یا بیماری، خوشی ہو یا غم، تکلیف ہو یا راحت، سردی ہو یا گرمی سب برداشت کرکے نمازوں کا اہتمام کریں۔

۴) سفر میں نماز کی ادائیگی میں کوتاہی: سفر میں بھی نماز کا اہتمام کرنا ضروری ہے، مگر شرم یا لاپروائی کی وجـہ سے نماز پڑھنے والے بھی سفر میں نماز کا اہتمام نہیں کرتے ،حالانکہ حضور اکرم ﷺ اور صحابۂ کرام ؓسفر میں، حتیٰ کہ دشمنوں سے جنگ کے عین موقع پر بھی جماعت کے ساتھ نماز ادا فرماتے تھے۔

لہٰذا سفر میں بھی نماز کی پابندی کریں، پانی مہیا نہیں تو تیمم کرکے نماز ادا کریں، قبلے کا رخ معلوم نہیں اور کوئی شخص بتانے والا بھی نہیں تو غور و فکر کے بعد قبلے کا تعین کرکے اسی طرف نماز پڑھیں، کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی گنجائش نہ ہو تو بیٹھ کر ہی ادا کریں۔

۵) معمولی عذر کی وجـہ سے جماعت کی نماز کو چھوڑنا: بعض حضرات یہ سمجھ کرکہ فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا صرف سنتِ مؤکدہ ہے، معمولی عذرکی وجـہ سے فرض نماز مسجد میں جاکر جماعت کے ساتھ ادا نہیں کرتے،بلکہ دکان یا گھر میں اکیلے ہی پڑھ لیتے ہیں، حالانکہ علمائے کرام نے فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے کو جو سنت مؤکدہ اشد التاکید کہا ہے، اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ معمولی معمولی عذر کی وجـہ سے فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے میں کوتاہی کی جائے کیونکہ فرض نماز کی مشروعیت تو جماعت ہی کے ساتھ ادا کرنا ہے، صرف شرعی عذر کی وجـہ سے جماعت کی نماز کا ترک کرنا جائز ہے۔

۶) کھیل کود کی وجہ سے نماز میں کوتاہی: کھیلنا صحت کے لئے مفید ہے جس کی شریعت نے بھی اجازت دی ہے، مگر کھیلنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اذان کے وقت یا اس سے کچھ قبل کھیل بند کردیں، تاکہ وضو وغیرہ سے فارغ ہوکر نماز جماعت کے ساتھ ادا کرسکیں۔ شریعتِ اسلامیہ نے ایسے کھیل کی بالکل اجازت نہیں دی ہے جو نماز کے ضائع ہونے، حتیٰ کہ جماعت کی نماز کے فوت ہونے کا بھی سبب بنے۔

۷) خواتین کا وقت پر اور اطمینان سے نماز ادا نہ کرنا: بعض خواتین ‘ گھر کے مشاغل کی وجـہ سے نماز کو مستحب وقت پر ادا کرنے میں کوتاہی کرتی ہیں۔ حالانکہ اگر تھوڑی سی بھی فکر کرلیں تو نماز کو مستحب وقت پر ادا کرنا آسان ہوگا۔اللہ کو سب سے زیادہ محبوب عمل نماز کو وقت پر ادا کرنا ہے۔ نیز نماز کو شرعی عذر کے بغیر وقت پر ادا نہ کرنا نماز کو ضائع کرنا ہے۔

لہٰذا معمولی عذر کی وجـہ سے نماز کو ادا کرنے میں تاخیر نہ کریں ،بلکہ اذان کے بعد فوراً ہی گھر میں نماز پڑھ لیں۔دوسری کوتاہی‘ جو خواتین میں عموماً پائی جاتی ہے، وہ نمازوں کو اطمینان، سکون اور خشوع وخضوع کے ساتھ ادا نہ کرنا ہے، حالانکہ اصل نماز خشوع وخضوع والی ہے۔ لہٰذا نماز کو وقت پر اطمینان وسکون اور خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کریں۔

۸) ملازمین کو نماز کی ادائیگی کا وقت مہیا نہ کرنا: جن حضرات کے ماتحت‘ لوگ کام کرتے ہیں ،ان کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی ذات سے نماز کا اہتمام کرکے اپنے ملازمین کی بھی نماز کی فکر کریں، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ہر شخص سے اس کے ماتحت لوگوں کے بارے میں سوال ہوگا۔سرمایہ کار‘ نماز کا اہتمام کرنے والے ملازمین کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں اور انہیں نماز پڑھنے کی سہولت دیں اور نماز میں کوتاہی کرنے والوں کو سمجھاتے رہیں، تاکہ وہ بھی نمازوں کی پابندی کرکے دونوں جہاں کی کامیابی حاصل کرنے والے بن جائیں۔


مکمل خبر پڑھیں