Advertisement

ہانگ کانگ: مصنوعی جزیرہ آباد کرنے کا منصوبہ

October 06, 2019
 

ہانگ کانگ کو دنیا کی مہنگی ترین ہاؤسنگ مارکیٹ قرار دیا جاتا ہے۔’’اینول ڈیموگرافیا انٹرنیشنل ہاؤسنگ افورڈیبلٹی سروے‘‘ میں مسلسل آٹھویں سال اس شہر کو دنیا کی مہنگی ترین ہاؤسنگ مارکیٹ قرار دیا گیا ہے۔ اس شہر میں جائیداد کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے شہریوں کو چھوٹی چھوٹی جگہوں میںرہنے پر مجبور کردیا ہے اور اب وہاں ایک ہی اپارٹمنٹ کو کئی حصوںمیں تقسیم کرکے رہنے کا رجحان عام ہورہا ہے، جسے ’کوفن ہومز‘ (تابوت گھر) کہا جاتا ہے۔ اس نام سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ’کوفن ہومز‘ کس طرح کے ہونگے۔

گھروں کی کمی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ہانگ کانگ اسپیشل ایڈمنسٹریٹو ریجن کی حکومت نے مصنوعی جزیرہ بناکر زمین حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ منصوبے کے تحت ہانگ کانگ حکومت شہر کے سب سے بڑے جزیرے کے ساتھ سمندر سے ایک ہزار ہیکٹر زمین حاصل کرے گی۔

یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد منصوبہ ہوگا اور نئے جزیرے کا رقبہ دبئی کے 560ہیکٹر پر محیط پام جمیرا سے دُگنا ہوگا۔ اس جزیرے پر ہانگ کانگ انٹرنیشنل ایئر پورٹ واقع ہے۔

سمندر سے زمین حاصل کرنے کے بعد توقع ہے کہ اس منصوبے پر کام کا آغاز 2025ء میں شروع ہوجائے گا، جب کہ 2032ء تک لوگ اس جزیرے پر رہائش اختیار کرلیں گے۔منصوبے کے تحت یہاں 2لاکھ 60ہزار سے 4لاکھ کے درمیان اپارٹمنٹ تعمیر کیے جائیں گے، جہاں تقریباً 11لاکھ افراد رہائش اختیار کرسکیں گے۔

اس منصوبے کے 70فی صد گھر عام لوگوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ اس جزیرے کو شہر کے دیگر حصوں سے مِلانے کے لیے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک بھی تعمیر کیا جائے گا۔

منصوبے کی لاگت

مصنوعی جزیرے پر گھروں کی تعمیر کے اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 80ارب ڈالر لگایا گیا ہے، اس طرح یہ ہانگ کانگ کا اب تک کا سب سے مہنگا منصوبہ ہوگا۔ ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو کیری لام کا کہنا ہے کہ یہ ایک انقلابی منصوبہ ہوگا، جس سے نہ صرف لوگوں کو رہنے کے لیے گھر میسر آئیں گے بلکہ اس کا ماحولیات پر بھی کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

کنزرویشن فنڈ

ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو کیری لام کی یقین دہانیوں کے باوجود ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کی جانب سے اس منصوبے کے ماحولیات پر منفی اثرات اور کئی سمندری حیات جیسے پِنک ڈولفن کی نسل ختم ہونے کے خطرے کا اظہار کیا ہے۔

ان تحفظات کی روشنی میں ہانگ کانگ کی حکومت نے 127ملین ڈالر مالیت کا ایک کنزرویشن فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو مصنوعی جزیرے پر تعمیرات کے دوران ماحولیات اور سمندری حیات کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔

ہانگ کانگ کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو اس طرح تیار کیا جائے گاکہ وہ طاقتور سمندری طوفانوں او رماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث سمندر کی سطح میں اضافے کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوگا۔

ہانگ کانگ کی حکومت زمین کی قلت کے باعث گزشتہ 150برسوںسے سمندر کی زمین بازیاب کرارہی ہے۔ 1990ء کے عشرے میں ہانگ کانگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی ایک مصنوعی جزیرے پر تعمیر کیا گیا تھا، جہاں حکومت اب تیسرا رَن وے تعمیر کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

مزید برآں، حال ہی میں ٹریفک کے لیے کھولا جانے والا دنیا کا سب سے بڑا سمندری پل ’’ہانگ کانگ- زہوئی- مکاؤ پل‘‘ مصنوعی جزیروں کے درمیان 6.7کلومیٹر طویل سمندری سرنگ پر مشتمل ہے۔

ہاؤسنگ بحران کی انتہا

ہانگ کانگ میں جائیداد کی انتہائی بلند اور ناقابلِ برداشت قیمتوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ سال وہاں گاڑی پارک کرنے کی ایک جگہ 6لاکھ 64ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی ہے۔ ہانگ کانگ کے امیر خاندانوں کا یہ حال ہے کہ وہ اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے بڑے اپارٹمنٹس میں سے 100اور 120فٹ کے کونے علیحدہ کرکے انھیں ’’مائیکرو فلیٹ‘‘، ’’نینو اپارٹمنٹ‘‘، ’’کوفن اپارٹمنٹ‘‘ اور ’’کیج ہوم‘‘ کے نام پر کرائے پر دے دیتے ہیں۔

ہانگ کانگ میں کام کرنے والے معروف آرکیٹیکٹ جیمز لا کہتے ہیں، ’’ہم اپنے شہروں میں رہنے کے لیے گھر خریدنے اور کرائے پر حاصل کرنے کے لیے واضح طور پر قوتِ برداشت کی کمی دیکھ رہے ہیں۔ یہاں کے اکثر لوگوں کے لیے ایک باقاعدہ اور مناسب گھر میں رہنا تقریباً پہنچ سے باہر ہوچکا ہے‘‘۔

ہاؤسنگ کے بحران سے نمٹنے کے لیے جیمز لا نے مائیکرو اور نینو اپارٹمنٹس سے آگے نکلتے ہوئے ایک O-Podگھر کا تصور دیا ہے۔ ’او-پوڈ‘ گھر ایک بڑے سائز کے پائپ کے اندر بنایا جاتا ہے، جہاں سکونت اختیار کرنے والے کو اندازاً 100مربع فٹ کی جگہ میسر آجاتی ہے۔ جیمز لا کہتے ہیں کہ ’’او-پوڈ‘‘ ایک ایسا گھر ہے جو کم وقت اور کم پیسوں میں تیار کیا جاسکتا ہے جب کہ اس کی منٹیننس لاگت بھی بہت معمولی ہے۔

جیمز لا کہتے ہیں کہ شہروں میں آبادی میں بے پناہ اضافے کے باعثہمیں چھوٹی چھوٹی جگہوں کو استعمال میں لانا ہوگا۔ وہ کہتے ہیں، ’’ہمیں ایسے آرکیٹیکچر کی ضرورت ہے، جو لوگوں کی ضرورتوں اور زمینی حقائق کا عکاس ہو‘‘۔


مکمل خبر پڑھیں