Advertisement

پیاز اور لہسن بریسٹ کینسر سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں

October 06, 2019
 

لندن ( جنگ نیوز ) پیاز اور لہسن ایسی سبزیاں ہیں جن کا استعمال ہر گھر میں ہوتا ہے اور انہیں صحت کے لیے فائدہ مند بھی مانا جاتا ہے اور اب ماہرین نے دریافت کیا گیا کہ یہ سبزیاں خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

بفالو یونیورسٹی اور پورٹوریکو یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں پہلی بار آبادی میں ان دونوں سبزیوں کے استعمال اور بریسٹ کینسر کے خطرے پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

ریسرچرز نے پتہ لگایا کہ جو خواتین لہسن اور ادرک کا استعمال کرتی ہیں، ان میں بریسٹ کینسر کامرض لاحق ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔تحقیق کے نتائج سے ماضی کے ان سائنسی شواہد کو تقویت ملتی ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ ان دونوں سبزیوں کا استعمال کینسر کے خلاف تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں پورٹو ریکو کی خواتین کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا جو پیاز اور لہسن کا بہت زیادہاستعمال کرتی ہیں جس کو وہ ایک چٹنی Sofrito کی شکل میں کھاتی ہیں جبکہ ان کا استعمال پکوانوں میں عام کیا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق پورٹو ریکو میں بریسٹ کینسر کی شرح براعظم امریکا میں سب سے کم ہے اور اسی لیے یہاں کی آبادی تحقیق کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان دونوں پر اس لیے توجہ مرکوز کی گئی کیونکہ یہ فلیونوئڈز اور آرگنو سلفر کمپاؤنڈ سے لیس ہوتی ہیں اور یہ کمپاؤنڈز یا مرکبات انسانوں میں انسداد کینسر جیسا کام کرتے ہیں اور جانوروں پر ہونے والی تجرباتی تحقیق میں اس کا فائدہ سامنے آیا ہے ۔ ریسرچکے مطابق ان دونوں کے سبزیوں کی چٹنی کا روزانہ کچھ مقدار میں استعمال بریسٹ کینسر کا خطرہ 67 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔

اگرچہ یہ تحقیق تجزیاتی تھی جس میں ان دونوں کے اس فائدے کے پیچھے موجود میکنزم کی وضاحت نہیں کی گئی مگر محققین کے خیال میں فلیونوئڈز اور آرگن سلفر کمپاؤنڈز ہی بنیادی وجہ ہیں۔ یہ ریسرچ جرنل نیوٹریشن اینڈ کینسر میں شائع ہوئی ۔ خیال رہے کہ خواتین میں ہلاکتوں کی دوسری سب سے بڑی وجہ چھاتی کا سرطان ہی ہے کیونکہ ہر 9 میں سے ایک خاتون میں اس جان لیوا مرض کا خطرہ ہوتا ہے۔غیرمصدقہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ہر 8 ویں خاتون کسی نہ کسی طرح بریسٹ کینسر میں مبتلا ہے، جب کہ سالانہ 40 ہزار خواتین اس مرض کے باعث ہلاک ہوجاتی ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں