رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ ڈائیلاگ کا عمل ہمیشہ ہی پائیدار نتیجہ دیتا ہے۔
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے تحت قومی ڈائیلاگ سے خطاب میں شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی قومی سلامتی کے تصور کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ صلح حدیبیہ میں بھی ایسی شرائط بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں، ڈائیلاگ کا عمل ہمیشہ سے ہی پائیدار نتیجہ دیتا ہے۔
پی ٹی آئی ایم این اے نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، ڈائیلاگ صرف بانی چیئرمین کی رہائی کا نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ فوج کو پاکستان کی طاقت بننا ہے، پاکستان کو فوج کی طاقت نہیں بننا، میرا حلقہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ حلقہ ہے، یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
شیر افضل مروت نے یہ بھی کہا کہ نیلسن منڈیلا نے کتنا عرصہ جیل میں گزارا، ایک ہم ہیں، سیاسی مخالفت کو نکتہ عروج پر پہنچا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم کے بعد عدلیہ اپنی آزادی کھو چکی ہے ، حل بھی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ عمل کون کروائے گا؟
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ ڈائیلاگ بنیادی نظام پر ہونا چاہیے نہ کہ صرف بانی چیئرمین اور کوٹ لکھپت کے قیدیوں تک ہو۔
اُن کا کہنا تھا کہ میں پی ٹی آئی سے منتخب ہوا، میں نہ مانوں والی سوچ نے پارٹی کو اس حال پر پہنچایا ہے، آپ ن لیگ کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہتے، آپ کو اے این پی، پیپلز پارٹی اور فواد چوہدری سے کیا مسئلہ ہے۔