• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امن معاہدے کی صورت میں برطانیہ اور فرانس یوکرین میں فوج تعینات کریں گے

تصویر سوشل میڈیا۔
تصویر سوشل میڈیا۔

برطانیہ اور فرانس نے اعلان کیا ہے کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو دونوں ممالک یوکرین میں اپنی فوج تعینات کریں گے۔ 

یہ اعلان برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے پیرس میں یوکرین کے اتحادی ممالک کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔

سر کیئر اسٹارمر کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے ایک اعلانِ نیت پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت یوکرین میں مختلف مقامات پر فوجی مراکز (ملٹری ہبز) قائم کیے جائیں گے۔ ان کا مقصد مستقبل میں کسی بھی ممکنہ روسی جارحیت کو روکنا اور یوکرین کی سلامتی کو یقینی بنانا ہوگا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بعد ازاں بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک یوکرین کو مضبوط اور قابلِ اعتماد سیکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنا چاہتے ہیں تاکہ جنگ کے بعد خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔

اجلاس میں شریک اتحادی ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا امن معاہدے کی نگرانی میں امریکہ مرکزی کردار ادا کرے گا۔ تاہم یوکرین کے ان علاقوں کے مستقبل پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا جو اس وقت روس کے کنٹرول میں ہیں۔

واضح رہے کہ روس اس وقت یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے فروری 2022 میں یوکرین کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگ کا آغاز کیا تھا، جو اب تک جاری ہے۔

روس کی جانب سے پہلے ہی خبردار کیا جا چکا ہے کہ یوکرین میں کسی بھی غیر ملکی فوج کی موجودگی کو ’’جائز ہدف‘‘ سمجھا جائے گا۔ تاہم پیرس میں ہونے والے ان حالیہ اعلانات پر روسی حکومت نے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔

ماہرین کے مطابق برطانیہ اور فرانس کا یہ اعلان یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین کے لیے اب تک کا سب سے مضبوط سیاسی اور عسکری اشارہ ہے، تاہم امن معاہدے، علاقائی تنازع اور روس کے ممکنہ ردعمل کے باعث اس منصوبے پر عمل درآمد ابھی کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
برطانیہ و یورپ سے مزید