Advertisement

انفیکشن کنٹرول شعبہ کیوں نہیں؟

October 10, 2019
 

وطن عزیز میں ریاستی سطح پر شہریوں کو صحت و تعلیم کی معیاری سہولتوں کی فراہمی میں کوتاہی و غفلت برتنے کے باعث امراض پر بروقت قابو پانا ممکن نہیں ہوتا یہی وجہ ہےکہ ملک میں طرح طرح کی بیماریاں اور وائرس پھیلتے جارہے ہیں۔ ایسے میں ایک اخباری رپورٹ میں سندھ کے سرکاری اسپتالوں کے حوالے سے یہ انکشاف کہ کسی بھی اسپتال میں انفیکشن سے بچائو کا شعبہ سرے سے موجود ہی نہیں، نہایت تشویشناک امر ہے جس کی بہرطور ذمہ داری صوبائی محکمہ صحت پر عائد ہوتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں متعدی امراض کے پھیلائو کو روکنے کے نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے انفیکشن کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ نتیجے کے طور پر مریض ایک بیماری کے علاج کیلئے اسپتال آتے ہیں اور جاتے وقت مختلف بیماریوں کے اثرات اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ دوسری طرف صوبائی وزیر صحت کا کہنا ہے کہ صورتحال کے تدارک کیلئے کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جو طبی عملے کو تربیت دیں گی جبکہ بڑے طبی مراکز میں انسی نیریٹرز بھی نصب کئے گئے ہیں تاکہ استعمال شدہ اشیا کو تلف کیا جاسکے۔ دیکھا جائے تو ملک بھر کے اسپتالوں میں معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی کی کم و بیش ایک سی صورتحال ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر موثر حکمت عملی وضع کرکے اس کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔ بین الاقوامی قوانین صحت اور ترقی یافتہ ملکوں میں انفیکشن سے بچائو کیلئے اپنائے گئے طریق کار بھی اس ضمن میں مددگار و معاون ثابت ہوں گے۔ وہاں اسپتالوں میں باقاعدہ انفیکشن کنٹرول کے شعبے ہوتے ہیں جہاں امراض کے پھیلائو کے اسباب پر غور کرتے ہوئے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔ ڈرپ اور انجکشن لگانے کا درست طریقہ، دستانے پہننا، بار بار ہاتھ دھونا اور سوئی تلف کرنے سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے عملے کو ٹریننگ دی جاتی ہے اور ان اصولوں پر عمل نہ کرنے والوں کیخلاف فوری ایکشن بھی ہوتا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں