Advertisement

’بیدل لائبریری‘ قدیم نادر و نایاب کتب و رسائل کے حوالے سے اپنی مثال آپ

October 24, 2019
 

ڈاکٹر تہمینہ عباس

کسی بھی قوم کی ترقی اور لوگوں کو بنانے میں کتب خانے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جس کی بے شمار مثالیں نہ صرف پاکستان میں بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی موجود ہیں۔ کراچی شہر میں گو کہ بے شمار لائبریریاں موجود ہیں جن میں انجمنِ ترقی اردو کراچی کا کتب خانہ، جامعہ کراچی کی محمود حسین لائبریری، ادارہ یادگار غالب لائبریری، لیاقت نیشنل لائبریری وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

کچھ کتب خانے طلبا کی کتابوں تک رسائی کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک کتب خانہ مشہور فارسی شاعر بیدل کے نام پر قائم’’بیدل لائبریری‘‘ہے جو بہادر آباد کے عقب شرف آباد میں واقع ہے۔ بیدل لائبری کا پورا نام شرف آباد بیدل لائبریری ٹرسٹ ہے۔

یہ کراچی میں اپنی نوعیت کی قابل قدر لائبریری ہے. قدیم نادر و نایاب کتب و رسائل کے علاوہ نئی مطبوعات اور پرانے اخبارات کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے۔

بیدلؔ نے آٹھ مغل بادشاہوں کا زمانہ دیکھا وہ ایک ایسے شاعر ہیں ،جنھوں نے عدم میں وجود کا تماشا دیکھا اور زندگی اور انسان کے وجود کو ابھارا. وہ عدم سے آفرینش تک کے مرحلوں کی تفہیم اور دید سے گز رے. انھوں نے حرف و معانی کا ایک گلشن تخلیق کیا اور اس میں نغمہ سرائی کی۔ اگر وہ گلشن نا آفریدہ رہتا تو وقت کی موج رواں پر بیدلؔ اپنا نام کیسے ثبت کرتے۔

عبدالقادر بیدل کے نام پریہ لائبریری کراچی میں ڈاکٹر ظفیر الحسن نے قائم کی۔وہ عظیم آباد پٹنہ میں پیدا ہوئے. ۱۹۴۷ میں پاکستان آئے اور حکومت پاکستان کے محکمہ سپلائز کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہوئے۔ فارسی میں پی۔ایچ ڈی کی. اردو ، فارسی اور انگریزی زبان پر عبور تھا۔ عشق عظیم آبادی نے محمد ظفیر الحسن عظیم آبادی کو پہلے بیدل ؔ اور پھر دل ؔ عظیم آبادی کا دل دادہ کیا۔ فارسی اور عظیم آباد کی محبت نے شیخ محمد عابد دل عظیم آبادی کا دوسو سال پرانا کلام جو نا پید ہو گیا تھا از سرنو مرتب کیا جو علمی تحقیق کا شہ پارہ ہے۔

مہر نیم روز، قومی زبان اور آگہی میں مضامین لکھے. ماہنامہ ساقی اور جدید اردو کا اشاریہ بھی ترتیب دیا. بیدل لائبریری چند افراد خصوصاً ڈاکٹر ظفیر الحسن، فیض احمد صدیقی اور اے کے نعمان کے جنون کی داستان ہے۔ ڈاکٹر ظفیر الحسن کی خواہش تھی کہ جس طرح بھارت میں خدا بخش لائبریری ہے، اسی طرح پاکستان میں بھی ایک لائبریری ہو۔ جولائی ۱۹۷۴ء میں ایک کمرہ اور ۳۰۰ کتب ورسائل سے شروع ہونے والی لائبریری اب اپنے دامن میں تقریباً ۸۵ ہزار سے زائد کتب و جرائد سمیٹنے ہوئے ہے لائبریری کا رقبہ ۱۲۵۰ مربع گز ہے۔

بیدل لائبریری میں فارسی اور اردو زبان میں مخطوطات موجود ہیں۔ ہندوپاک کے رسائل کے ذخائر لائبریری کی شناخت ہیں۔ تحقیق اور جستجو کے لیے دور دراز سے آکر اپنی تشنگی اور تحقیق ذوق کی تکمیل کرنے والے اہل علم بیدل لائبریری کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ لائبریری میں مختلف گوشے موجود ہیں۔

۱۔ لائبریری میں موجود ایم اے’ ایم فل اور اپی ایچ ڈی کے مقالے۲۔ اخبارات، روزنامہ جنگ، نوائے وقت، امت، ایکسپریس’ اسلام’ ریاست’ قومی اخبار’ ڈان، بزنس ریکاڈ، ملت، کاوش، جسارت کی فائل موجود ہیں۔

جن حضرات نے بیدل لائبریری کو کتب و رسائل عطیہ کیے ہیں۔ ان کے نام سے کتب خانے میں علیحدہ علیحدہ گوشے یا کتابوں کی الماریاں موجود ہیں۔ جن میں مندرجہ ذیل مقتدرہ شخصیات شامل ہیں۔ محمد حسن عسکری، ڈاکٹر اسلم فرخی، ڈاکٹر آصف فرخی، شہزاد منظر، تابش دہلوی، صبیح محسن، نعیم آروی، تقی حسن خسرو، ڈاکٹر شمیم رضوی، مہتاب ظفر، سید ابوالعاص، عصام عظیم آبادی، مطیع الامام، ابوزر عنایت اللہ، ڈاکٹر غلام سرور، امان اللہ، ایس ایچ ہاشمی، ایس منافی، سید قمر الدین، ہارون رشید، سیدعلی قدوائی، ڈاکٹر وفاراشدی، مولانا محمد جعفر شاہ پھلواری، جمیل زبیری، شفیع احمد، بشری رحمن، عذاقمر، صادق امام، سید حسن امامی وارثی، امیر علی امام، محمد رئیس، مرزا نظام بیگ، سید حسن مثنی ندوی، ایچ ایس صدیقی، ڈاکٹر محمد حسن، اجمل کمال، پرویز بلگرامی، طاہرہ کشفی، بلقیس شاہین، ڈکٹر سید محمد ابو الخیر کشفی، ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر، قرطاس یبلی کیشنز، سید صبیح الدین رحمانی، نسیم انصاری، احمد زین الدین، زواراکیڈمی، ملک نواز عوان، ناصر بغدادی، مدیر رضوی، زاہدہ حنا، ایچ بی خان، رفعت القاسمی، ڈاکٹر روبینہ ترین، ڈاکٹر طاہر تونسوی، رفعت القاسمی، احمد حسین صدیقی، احمد حسین، ثاقبہ رحیم الدین بتوسط شمائلہ اقبال، انیس ارحمان ایڈووکیٹ، لطیف الزاماں خان ، علی اقبال، طارق فضلی، شاہد حنا، ڈاکٹر ایوب قادری ، مسرت صدیق ،قیصر نجفی، شاہین، حیات نظامی.

ملکی اور غیر ملکی مشہور شخصیات نے بھی لائبریری کا دورہ کیا جن میں سید سلمان ندوی، سید صباح الدین عبدالرحمن، سید مصطفے کریم( برطانیہ)، کلیم عاجز، سید مرتضی حسین بلگرامی ( مسلم یونیورسٹی علی گڑھ)، ڈاکٹر قیوم الدین محمد یوسف پٹنہ، مشتاق احمد ( ڈائریکٹر بہار اردو اکیڈمی)سید شہاب الدین دسنوی ( سیکریٹری دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ)، مختار الدین احمد( صدر شعبہ عربی ڈین فیکلٹی آف آرٹس مسلم یونیورسٹی علی گڑھ)، پروفیسر سید محمد حسن(شعبہ اردو علی گڑھ یونیورسٹی گیا انڈیا)، محمد اسماعیل خدا بخش لائبریری، شمس قدر آزاد( پٹنہ) ، جمیل اختر( جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی)، پروفیسر احمد سجاد( شعبہ اردو دانچی یونیورسٹی بہار)، حمید اللہ قاسمی (مدرسہ قاسمیہ گیا، بہار)، سید کلیم اللہ شیر گھاٹوی( جمشید پور بہار)، ڈاکٹر کلیم سرامی (راجہ شاہی یونیورسٹی ، بنگلہ ڈیش)،محمد علی خان( صدر شعبہ اردو کالج آف کامرس پٹنہ)، ہلال احمد قادری( خانقاہ صبیحہ پھلواری شریف پٹنہ)، شمیم الدین احمد منعم (خانقاہ، منعمیہ قمربہ متین گھاٹ پٹنہ سٹی)، ڈاکٹر خلیل طوق آر(جامعہ استنبول، ترکی) شامل ہیں۔

یہ کتب خانہ اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ یہاں نہ صرف کراچی کے طلبہ آتے ہیں بلکہ دیگر شہروں کے اساتذہ اور طلبہ اکثر اوقات مختلف ماخذات تک رسائی کے لیے اس کتب خانے کا رخ کرتے ہیں۔ یہ کتب خانہ ایک مکمل جہاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔

ہر سال شعبۂ اردو میں تعلیم حاصل کرنے والے ان گنت طلبہ تحقیق کے سلسلے میں اس کتب خانے کا رخ کرتے ہیں۔ اسلامی تاریخ، علومِ اسلامیہ، سیاسیات اور مطالعہ پاکستان کے علاوہ اکثر اوقات انگریزی زبان و ادب کے طلبہ بھی اس کتب خانے میں استفادے کے لیے نظر آتے ہیں۔ ان طلبہ میں ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے علاوہ جامعہ کراچی، وفاقی اردو یونیورسٹی، محمد علی جناح یونیورسٹی، جناح یونیورسٹی فار ویمن کے علاوہ جامشورو یونیورسٹی، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی، پنجاب یونیورسٹی، بہاولپور ، اسلام آباد، گوجرانوالہ وغیرہ سے آئے ہوئے طلبہ بھی شامل ہیں۔

’’بیدل لائبریری‘‘ کی خاص بات یہاں کا ماحول ہے۔ بیدل لائبریری کے لائبریرین کا رویہ طلبہ کے ساتھ شفقت آمیز ہے۔ لائبریری کی کتابوں کا ریکارڈ مختلف رجسٹروں میں موجود ہے ۔ طلبہ کی خواہش پر منٹوں میں کتاب حاضر کر دیتے ہیں. انھیں اکثر اوقات رجسٹر دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہاں موجود تقریباََ تمام لوگوں کو چائے کا پوچھا جاتا ہے۔لائبریری آنے والا شاذ ہی کوئی شخص ایسا ہوگا ،جس نے یہاں چائے سے لطف نہ اٹھا یا ہو۔

رسائل سیکشن میں شرف آباد کے اکثر لوگ اخبار پڑھنے اور رسالے پڑھنے آتے ہیں۔رسائل سیکشن میں انٹر اور بی اے کے نصاب کی تمام کتب بھی موجود ہیں. اکثر اوقات شام میں طلبہ گھر کے شور ہنگامے سے بچ کر یہاں آجاتے ہیں اور اپنے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بیدل لائبریری کراچی کی ایک ایسی لائبریری ہے جو پاکستان کی مختلف جامعات کے اساتذہ اور محقیقین کے لیے بھرپور خدمات انجام دے رہی ہے۔ اکثر معروف اسکالرز اور صحافی حضرات کی علمی اور ادبی نشستیں بھی اس لائبریری میں منعقد ہوتی ہیں۔ غیر ملکی شخصیات کے اعزاز میں مختصر نشست کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔

اردو، اسلامک لرننگ، تاریخ اسلامی اور مطالعہ پاکستان کے محقیقین کے لیے یقیناً یہ ادارہ قابل قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں موجود کتب رسائل اور مخطوطات کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے اور اگر وسائل میسر ہوں تو بیدل لائبریری میں موجود کتب کو انٹر نیٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے، تاکہ جس طرح طلبہ کی اکثریت ریختہ ڈاٹ کام سے استفادہ کر رہی ہے اس کتب خانے سے بھی بھرپور استفادہ کیا جاسکے۔


مکمل خبر پڑھیں