Advertisement

حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے

November 06, 2019
 

امیر مینائی

حلقے میں رسولوں کے وہ ماہِ مدنی ہے

کیا چاند کی تنویر ستاروں میں چھنی ہے

کہہ دے میرے عیسٰی سے مدینے میں یہ کوئی

اب جان پہ بیمارِ مَحَبّت کے بنی ہے

محبوب کو بے دیکھے ہوئے لوٹ رہے ہیں

عشّاق میں کیا رنگِ اویسِ قرنی ہے

گھر سے کہیں اچھا ہے مدینے کا مسافر

یاں صبحِ وطن شامِ غریب الوطنی ہے

معراج میں حوروں نے جو دیکھا تو یہ بولیں

کس نوک پلک کا یہ جوانِ مدنی ہے

اِک عمر سے جلتا ہے مگر جل نہیںچُکتا

کس شمع کا پروانہ اویسِ قرنی ہے

عشّاق سے پوچھے نہ گئے حشر میں اعمال

کیا بگڑی ہوئی بات مَحَبّت سے بنی ہے

یاد احمدِ مختار کی ہے کعبۂ دل میں

مکّے میں عیاں جلوہِ ماہِ مدنی ہے

کس شوق سے جاتے ہیں مدینے کے مسافر

محبوب وطن سے کہیں یہ بے وطنی ہے

کہتا ہے مسافر سے یہ ہر نخلِ مدینہ

آرام ذرا لے لو یہاں چھاؤں گھنی ہے

آغوشِ تصوّر میں بھی آنا نہیں ممکن

حوروں سے بھی بڑھ کر تری نازک بدنی ہے

اللہ کے محبوب سے ہے عشق کا دعوٰی

بندوں کا بھی کیا حوصلہ، اللہ غنی ہے

آنکھوں سے ٹپکتا ہے مری، رنگِ اویسی

جو لختِ جگر ہے وہ عقیقِ یمنی ہے

میں اس کے غلاموں میں ہوں جو سب کا ہے آقا

سردارِ رسل سیّدِ مکّی ،مدنی ہے

اعدا نے جہاں مانگی اماں رُک گئی چل کر

شمشیرِ حُسینی میں بھی خلقِ حَسَنی ہے

ہر دل میں ہے محبوبِ الٰہی کی تجلّی

ہر آئینے میں عکسِ جمالِ مدنی ہے

مقتل ہے چمن، نعش پہ حوروں کا ہے مجمع

کیا رنگ میں ڈوبی مری خونیں کفنی ہے

پہنچی ہیں کہاں آہیں، اویسِ قرنی کی

باغوں میں مدینے کے ہوائے یمنی ہے

کچھ مدح پڑھوں روضہِ پُر نُور پہ چل کر

یہ بات امیر اب تو مرے دل میں ٹھنی ہے


مکمل خبر پڑھیں