Advertisement

کراچی کو وفاق کی جانب سے ریلیف دیں: سندھ حکومت کا مطالبہ

November 07, 2019
 

گرچہ بظاہر ملک گیر سیاست کا پہیہ اسلام آباد میں آزادی مارچ اور دھرنے کے گرد گھوم رہا ہے تاہم سندھ میں بھی اس کے آفٹرشاکس محسوس کئے جارہے ہیں دھرنے میں بڑا حصہ سندھ جے یو آئی کے کارکنوں کا بھی ہے مارچ سے قبل کہاجارہاتھا کہ مارچ میں مدارس کے طلبہ ہوں گے تاہم کراچی کے تمام چھوٹے بڑے مدارس آبادہے کئی سے ممکن ہے کہ ایک قلیل تعداد نے دھرنے میں شرکت کی ہو تاہم دھرنے میں عام عوام کی بڑی تعداد سند ھ سے ہے لاڑکانہ ضمنی انتخاب کے بعد پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے سندھ کے کئی شہروںمیں بڑے بڑے جلسے کئے جس میں انہوں نے حکومت کو ہدف تنقید بنایا ان کے عوام رابطہ مہم کا سلسلہ جاری ہے انہوں نے اس جلسوں کے ذریعہ اپنے کارکنوں کومتحرک کیا ۔

کہاجارہا ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک جانب حکومت مخالف تحریک چلارہی ہے تو دوسری جانب ممکنہ بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں میں بھی جتی نظرآرہی ہے پی پی پی کے جلسوں کو اس رنگ میں دیکھاجارہا ہے ادھر حکومت کی حلیف جماعت ایم کیو ایم نے بھی وفاقی حکومت سے شکوہ شکایات کی ہے ایم کیو ایم نے موجودہ سیاسی حالات میں حکومت کا میانہ روی سے ساتھ دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ احتجاج اپوزیشن کا حق ہے تاہم اس احتجاج کی آڑ میں سسٹم کو خطرات سے دوچار ناکیا جائے ۔

حکومتی وزراء کی جانب سے گزشتہ ہفتے ملک کے مختلف حصوں میں ترقیاتی منصوبوں کے اعلان کے بعد کراچی کے میئروسیم اختر نے کہاہے کہ کھربوں روپے ٹیکس دینے کے باوجود کراچی کے حصے میں نہ کوئی میگا پروجیکٹ اور نہ ہی کوئی ترقی کا منصوبہ ہے ایف بی آر کے سروے نے ہماری بات کو سچ ثابت کردیا کہ ملک میں سب سے زیادہ ریونیوکراچی ہی سے جمع ہوتا ہے مگر کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے حکومتی سطح پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی کراچی اس خراب صورتحال میں اتنا زیادہ ریونیوجمع کرنے والا شہر ہے اگراس کے بنیادی مسائل حل اور انفراسٹرکچر کو بہتر کردیں تو ریونیو میں کتنا اضافہ ہوگا اس سروے رپورٹ سے پالیسی سازوں کو اندازہ ہوجانا چاہیئے۔

ایف بی آر کی جانب سے ملک کے بڑے شہروں سے ریونیو جمع کرنے کے حوالے سے کئے گئے سروے رپورٹ کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے میئرکراچی وسیم اختر نے کہاکہ ایف بیآر نے ملک کے بڑے شہروں ، مارکیٹوں میں کئے جانے والے سروے کے لیے چند مارکٹیں منتخب کی گئی ہیں۔ کراچی کی مارکیٹوں صدر، طارق روڈ، کلفٹن، گولیمار، ڈی ایچ اے، گلستان جوہر سے 30.87 بلین روپے ریکارڈ ریونیو اور ٹیکس فائلرز کی تعداد 85.020 ہے جبکہ لاہور کی انارکلی، مال روڈ، حفیظ سینٹر، لبرٹی وغیرہ سے 567 ملین روپے اور فائلرز کی تعداد 3,925 ہے۔

اس قسم کا شکوہ پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال نے بھی کیا ہے انہوں نے کہاہے کہ کراچی ملک بھر میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے کے باوجود لاوارث ہے، کراچی کی صرف 6 مارکیٹوں میں 85020 فائلرز موجود ہیں جنہوں نے تقریباً 30.87 بلین روپے ٹیکس ادا کیا ہے لیکن اس کے باوجود یہاں کے مسائل پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔ کراچی کی ترقی ناصرف ملک کے معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ ملکی دفاع کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ عوام موجودہ وفاقی، صوبائی اور شہری حکومتوں سے مایوس ہوچکی ہے۔ اس لیے کراچی کی معاشی اور دفاعی اہمیت کے تناظر میںچیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ کو کراچی کی ترقی کے لیے اپنا کردارادا کرنا ضروری ہوچکا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم 2014کے عام انتخابات کے بعد کراچی کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکاری تھی ان کے بڑے بڑے امیدوار ان کے اکثریتی علاقوں سے نتائج کے مطابق ہارگئے تھے اور پی ٹی آئی کے امیدوار کے حق میںنتائج آئے تھے تاہم ایم کیو ایم نے کراچی کے وسیع تر مفاد اور کراچی کو خصوصی پیکیج دینے کی شرط پر ناصر ف نتائج کوتسلیم کیا بلکہ وہ حکومت کا حصہ بھی بنے تاہم سوا سال گزرنے کے باوجود کراچی کو فاق کی جانب سے ریلیف نہیں دیا گیا جس کا احساس کراچی کے شہریوں اور سیاسی جماعتوں کو بھی ہے کہاجارہا ہے کہ اگر کراچی کو جلدریلیف نہیں دیا گیا تو ممکنہ طور پر ایم کیو ایم اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرسکتی ہے جس کا عندیہ ایم کیو ایم کے رہنما دیتے آئے ہیں۔

ادھر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کراچی کامختصر دورہ کیا تاہم انہوں نے اپنے دورے کے دوران کسی بڑے اجتماع سے خطاب نہیں کیاانہوں نے اپنا دورہ کراچی محدود رکھا سراج الحق گاہے بہ گاہے کراچی کا دورہ کرکے کارکنوں کو متحرک رکھتے ہیں جبکہ گزشتہ ہفتہ جماعت اسلامی نے حافظ نعیم کو ایک بار پھر کراچی کے امیر کی ذمہ داری سونپی منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کراچی کے مسائل اجاگر کرتے رہیں گے حافظ نعیم جماعت اسلامی کے نوجوان رہنما ہے اور اپنے سابقہ دور امارت میں انہوں نے کارکنوں کو خاصہ متحرک رکھا امید کی جارہی ہے کہ ان کی قیادت میں جماعت اسلامی کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں سرپرائز دے گی ادھرسندھ ہائیکورٹ نے پبلک ٹرانسپورٹ میں من مانے کرائے ختم کرکے سیکریٹری محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ کو فوری طور پر قانون کے مطابق کرائے طے کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر محکمہ ٹرانسپورٹ نے کرایوں کو طے نہ کیا توتوہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے۔


مکمل خبر پڑھیں