عدّت میں نکاح کا حکم

November 08, 2019
 

تفہیم المسائل

سوال: ایک عورت کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی ،اُس عورت نے عدت پوری کئے بغیر دوسرے شخص سے نکاح کرلیا ،بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حاملہ تھی، بچے کی پیدائش پر موجودہ شوہر نے اُسے اپنا نام دے دیا ،اِس مسئلے کی بابت شرعی حکم بیان فرمائیں۔(پاکیزہ بانو ،کراچی )

جواب: اگر مذکورہ عورت کے سابق شوہر نے اُسے تین طلاقیں دی تھیں ،تو تین طلاقوں سے وہ ایک دوسرے پر حرام ہوگئے اور حاملہ عورت کی عدت وضعِ حمل ہے،اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے:ترجمہ:’’اورحاملہ عورتوں کی عدت (کی انتہا) ان کا وضع حمل ہے،(سورۃالطلاق:4)‘‘۔

وضعِ حمل سے قبل کسی شخص سے اُس کا نکاح نہیں ہوسکتا کیونکہ ایامِ حمل اُس کی عدت کے دِن ہیں اور عدت میں نکاح جائز نہیں ۔علامہ نظام الدین رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں :ترجمہ:’’ کسی شخص کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے شخص کی بیوی سے نکاح کرے اور اسی طرح ایّامِ عدت میں (مُعتدہ)عورت سے نکاح جائز نہیں ہے، ’’سراج الوہاج ‘‘ میں اسی طرح لکھا ہے ، (فتاویٰ عالمگیری ،جلد1،ص:280 )‘‘۔

علامہ ابن عابدین شامی نکاح فاسد کی بحث میں لکھتے ہیں : ترجمہ:’’ دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا ،ایک بہن (مُطلّقہ بیوی)کی عدت میں اُس کی بہن سے نکاح کرنا ،کسی عورت سے (اس کی ) عدت میں نکاح کرنا اور چوتھی بیوی کی عدت میں پانچویں سے نکاح کرنا (نکاحِ فاسد ہے )‘‘،(ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد4،ص:202، بیروت)۔

اگر اُس کا سابق شوہر سے حاملہ ہونا مُتحقق ہے تو شوہر ثانی سے چونکہ نکاح شرعاً متحقق ہی نہیں ہوا ،ا،س لئے یہ نکاح فاسد ہے۔بچے کا نسب شوہر کی طرف منسوب ہوگا اور وہ اس کا وارث بھی بنے گا اور اِن دونوں کا آپس میں ازدواجی تعلق حرام ہے ،اس پر دونوں اللہ تعالیٰ سے توبہ کریں۔وضع حمل کے بعد دونوں باہمی رضامندی سے نکاح کرسکتے ہیں۔