• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحۂ گل پلازا: لواحقین کی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ سے ملاقات، انصاف کی دہائیاں

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

سانحۂ گل پلازا کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سربراہ نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی ہے، لواحقین نے انصاف کا مظالبہ کر دیا۔

سربراہ کمیشن جسٹس آغا فیصل نے کہا ہے کہ آپ سب شہداء کے لواحقین ہیں، ہم چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائیں، ہمیں واقعے میں شہادتوں کا بہت افسوس ہے، کمیشن کا مقصد مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہے، مالی نقصان کی بھرپائی ہو جاتی ہے، جانی نقصان کی نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ آپ کے لیے کچھ سوالات تیار کیے ہیں، اس سلسلے میں آپ کی معاونت چاہتے ہیں، اگر آپ چاہیں تو یہاں جواب دیں یا ہائی کورٹ آ جائیں، بہت سے لواحقین یہاں نہیں ہیں، چاہیں گے کہ تمام لواحقین اپنے بیانات دیں، تاکہ تمام حقائق تک پہنچنے میں آسانی ہو، ہم عوام اور حکومت سب سے معلومات مانگ رہے ہیں، چاہتے ہیں کہ ریسکیو ورکرز تک بھی رسائی ملے، تمام معلومات کی بنیاد پر جوابات تیار کرنے ہیں۔

جاں بحق شہری عبدالحمید کی والدہ شہناز نے کہا کہ میری بیٹے سے بات ہوئی تھی کہ رات تک گھر آ جائے گا، ساڑھے 10 بجے بات ہوئی تو پتہ چلا آگ لگ گئی ہے، کہہ رہا تھا بس نکل رہا ہوں، پھر وہ ایک بچے کو بچانے کے لیے رک گیا تھا، ہمیں ٹکڑوں میں لاشیں ملی ہیں۔

جاں بحق شہری عبدالعزیز کے بھائی کا کہنا ہے کہ میں ساڑھے 10 بجے وہاں پہنچا تھا، اس وقت وہاں ایک فائر بریگیڈ کی گاڑی پہنچی تھی، ہماری آنکھوں کے سامنے سب کچھ ہو رہا تھا، ریسکیو کے لیے آخر میں آئے، تب تک ایک ہی گاڑی تھی۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ جائے وقوع پر ایمبولینسز موجود تھیں؟ کس چیز سے آگ بجھائی جا رہی تھی؟ کیا گل پلازا کے دروازے کھلے تھے؟ آپ نے کیا دیکھا دروازے کھلے تھے یا بند تھے؟

عبدالعزیز کے بھائی نے کہا کہ ایمبولینسیں موجود تھیں لیکن اندر کوئی نہیں گیا، پانی یا کیمیکل تھا لیکن آگ بجھ نہیں رہی تھی، جب آگ پر قابو ہوا تو عمارت گرنا شروع ہو گئی تھی، لوگ کہہ رہے تھے کہ دروازے بند تھے، گل پلازا کے صدر کہہ رہے تھے کہ دروازے کھلے تھے۔

 جاں بحق شہری عارف کے والد حفیظ نے گفتگو میں کہا کہ عقبی حصے میں دھواں شدید تھا، ریسکیو والے بھی اندر نہیں جا سکتے تھے، اندر سے بچاؤ کی آوازیں آ رہی تھیں، دھواں تھا تو نظر نہیں آ رہا تھا، ہمیں کہا گیا کیوں خودکشی کرنا چاہتے ہو عمارت گرنے والی ہے، 23 جنوری کو ڈی این اے کی مدد سے بیٹے کی شناخت ہوئی، واقعے کے دن سوا 10 بجے جب آگ لگی تو رابطہ ہوا تھا، فون پر یہی بتایا کہ مارکیٹ میں آگ لگ گئی ہے، آگ لگنے کے بعد ہمیں امید نہیں تھی کہ کچھ بچا ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈی این اے میچ ہوا تو بس تابوت بنا ہوا دے دیا گیا، فائر بریگیڈ اور ریسکیو والے موجود تھے لیکن پانی کی قلت تھی، واقعے کے 2 گھنٹے بعد ٹینکر آیا، ریسکیو آپریشن صبح شروع کیا گیا تھا، اگر رات میں ہی ریسکیو شروع کر لیتے تو بہت سے جانیں بچ سکتی تھیں، عمارت کی کھڑکیوں پر لوگوں کے ہاتھ اور فون کی لائٹ نظر آ رہی تھی، میں نے رات 2 بجے تک وہاں دیکھا تھا۔

جاں بحق شہری حیدر علی کے والد محمد ہادی نے کہا کہ بیٹا دبئی کراکری کے ساتھ دکان پر کام کرتا تھا، واقعے کا ٹی وی سے پتہ چلا، 12 بجے وہاں پہنچا، گورنر سندھ موجود تھے، بظاہر ایسا لگتا ہے آگ حادثہ نہیں، اتنی بڑی آگ خود سے نہیں لگ سکتی، 4 دن تک بیٹا لاپتہ تھا، میں گھر نہیں جا سکتا تھا کہ گھر والے پوچھتے کہ بیٹا کہاں ہے؟ ہمیں حکومت سے صرف انصاف چاہیے، اے سی نے کہا کہ حلف نامے پر دستخط کروا کر لے آؤ، حلف میں کہا گیا تھا کہ آپ کا بیٹا واقعی یہاں موجود تھا، ڈی این اے کے ذریعے میرے بیٹے کی شناخت ہوئی تھی۔

 اے سی گارڈن کا کہنا ہے کہ ایسوسی ایشن نے کہا کہ بیٹا یہاں کام کرتا تھا، ڈی سی نے متنازع کیسز میں حلف نامے طلب کیے، ان کا نام حکومت کو بھیجی گئی فہرست میں شامل نہیں۔

قومی خبریں سے مزید