Advertisement

سیاسی ڈائری:بے بس حزب اختلاف شور و غوغا کے سوا کچھ نہ کر سکی

November 08, 2019
 

اسلام آباد(محمد صالح ظافر خصوصی تجزیہ نگار)حکومت نے صدارتی آرڈیننسز کو باضابطہ قانون کا درجہ دلانے کے لئے جمعرات کو قومی اسمبلی میں تمام قواعد و ضوابط کوپامال کرتے ہوئے غیرمعمولی عجلت میں منظوری حاصل کی جس کی ملک کی پارلیمانی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی اس دوران بے بس حزب اختلاف شور و غوغا کے سوا کچھ نہ کر سکی یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب وفاقی دارالحکومت کی شہ رگ پر آزادی مارچ کے کثیر شرکاء دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اور حکومت ان کے سامنے بے بس ہو کر ایک کے بعد دوسرے مذاکرات کار کی صلاحیتوں کو آزما رہی ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو سرکاری حلقوں کا دعویٰ تھا کہ قائد ایوان وزیراعظم عمران خان ایوان سے خطاب کریں گے اور آزادی مارچ کے حوالے سے قومی اسمبلی کواعتماد میں لیں گے وہ اجلاس شروع ہونے سے قبل ہی پارلیمنٹ ہائوس آ گئے انہوں نے اپنی پارلیمانی پارٹی سے کمیٹی روم میں خطاب کیا اور اپنے پارلیمانی چیمبر میں آ کر بیٹھ گئے وہ کلوز سرکٹ سے اجلاس کی کارروائی دیکھ رہے تھے جو نصف گھنٹہ کی تاخیر سے شروع ہوئی۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے حزب اختلاف کو باور کرا دیا تھا کہ وہ ان کے اسیر ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کر چکے ہیں اس طرح حکومت نے عملاً حزب اختلاف کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ پروڈکشن آرڈر کے اجراء کا مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کے باعث قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس مسلسل ہلڑ بازی کا شکار ہوتے رہے ۔


مکمل خبر پڑھیں