مالاکنڈ کے ہسپتالوں کی ایمبولینسوں و آلات کی لاگت میں اضافہ

November 08, 2019
 

پشاور (خصوصی نامہ نگار) بڈنگ میں اضافی 147 ملین روپے زائد لاگت آنے کی وجہ سے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کی فنڈنگ سے مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف ہسپتالوں کے لئے 21ایمبولنسوں اور آلات کی خریداری تمام کارروائی مکمل کر۳نے کے باوجود تاخیر کا شکار ہوگئی ہیں، محکمہ صحت نے خریداری کے لئے مختلف آپشن پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں سیکرٹری صحت کی سربراہی میں پی ڈی ایم اے، محکمہ صحت ، ایم ایس سیدو ٹیچنگ ہسپتال اور مالاکنڈ ڈویژن کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کے اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ فی یونٹ قیمت میں کمی لانے کے لئے امدادی ادارے کی متعین کردہ ایمبولنس فیبریکیشن کے تناظر میں ریشنلائزیشن کے تحت نظرثانی کی جائے گی۔ 21 ایمبولنسوں اور آلات کی خریدای کے لئے محکمہ صحت کو147.453 ملین روپے اضافی درکار ہیں۔ میٹنگ منٹس کے مطابق ایمبولنسوں کی خریداری کے لئے فی یونٹ 6.557 ملین روپے کے حساب 137.69 ملین روپے کا پی سی ون منظور کیا گیا تھا، پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ ایمبولنسوں کی خریداری کی کارروائی مکمل ہے مگر اضافی لاگت کی وجہ سے سپلائی آرڈر زیر التواء ہے بڈنگ کے ذریعے 6.557 ملین روپے کی بجائے فی یونٹ 13.57 ملین روپے بولی آئی ہے۔یو ایس فنڈنگ کے تحت سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال کے لئے آلات کی خریداری بھی شامل تھی ہسپتال کے ایم ایس نے اجلاس کو بتایا کہ پی ڈی ایم اے نے ہسپتال کے لئے 324.425 ملین روپے کا فنڈ منظور کیا تھا جس میں چار ایمبولنسیں بھی شامل تھیں بڈنگ کی رو سے آلات اور چار ایمبولنسوں کی خریداری کے لئے اضافی 155 ملین روپے درکار ہوں گے۔ پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر نے اجلاس کو بتایا کہ اضافی فنڈ اس وقت نہیں دیا جاسکتا جب تک محکمہ صحت ضروری کارروائی کے لئے نظر ثانی شدہ پروپوزل جمع کرائے صحت کے شعبے کے لئے مجموعی طور پر چار اعشاریہ 1265 ملین ڈالر مختص کئے گئے تھے جن میں دو اعشاریہ 739 ملین ڈالر فراہم کئے گئے ہیں جبکہ ایمبولنس کی خریداری کے ایک اعشاریہ 2873 ملین ڈالرباقی ہیں۔ محکمہ صحت کے چیف پلاننگ افسر نے وضاحت کی کہ پی ڈی ایم اے کے ذریعے امدادی ادارہ پراجیکٹ کے لئے فنڈ دے رہا ہے محکمہ صحت اس پراجیکٹ کے لئے فنڈ نہیں دے سکتا ۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز آفس کے ڈائریکٹر پروکیورمنٹ نے اجلاس کو رائے دی کہ ایمبولنسوں کی فیبریکیشن کی ضرورت کے مطابق ریشنلائزیشن کے ذریعے فی یونٹ قیمت کم جاسکتی ہے جس پر پی ڈی ایم اے کے نمائندے نے کہا کہ کسی پیچیدگی سے بچنے کے لئے امدادی ادارے کے متعین کردہ فیبریکیشن کی تناظر میں اس پر نظرثانی کی جائے جس کی سیکرٹری صحت اور پراجیکٹ ڈائریکٹر نے تائید کی۔