گھر میں بنائیں..... حسین باغیچہ

December 04, 2019
 

کچھ خواتین کو باغبانی کرنے کا بہت شوق ہوتا ہے ۔چاہیے ان کاگھر چھوٹا ہی کیوں نہ ہو لیکن وہ اپنے اس شوق کو پورا کرنے کی لازمی کوشش کرتی ہیں ،مگر بعض ا ن کو پودوں کا انتخاب کرنے میں تھوڑی بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔کیوں کہ باغ لگانے کے لیے بہتر ین پودوں کاانتخاب کرنا ضروری ہے ۔

لیکن ان کا انتخاب کرتے وقت یہ خیال رکھنا چاہیے کہ پودے طاقت ور تندرست اور خوش نما ہوں اور وہ کسی قسم کی بیماری کاشکار نہ ہوں ۔ان کی عمر ایک سال سے کم ہونی چاہیے ،تا کہ ایک تو ا ن کی گاچی آسانی سے جڑیں کاٹے بغیر نکالی جاسکیں ۔دوسرے ان کی نر م جڑیں جلد پھیل سکتی ہیں ۔ پودوںکے تنے صاف ہونے چاہییں زخمی اور ٹیڑھے میڑھے تنوں والے پودوں سے گریز کرناچاہیے ۔

پودوں کی آب پاشی

ان سب چیزوں کے بعد آبپاشی کا نظام قائم رکھنا نہایت ضروری ہے ایسا نظام کہ جس سے پانی کا ایک ایک قطرہ پودوں کے کام آسکے، کیوں کہ پانی ہی پودوں کی غذا ہے جو زمین کے تمام غذائی اجزاءکو تحلیل کرکے پودوں کو پہنچاتا ہے ۔پانی ہی پودوں میں رس پیدا کرکے ان کی سرسبزی اور شادابی میں اضافہ کرتا ہے۔پودوں کی آب پاشی کے لیے تین طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ان میں سب سے پہلا اور قدیم طریقہ پودوں کو ایک نالی سے ملا دینے والا طریقہ ہے۔اس طریقے میں صرف تنے کو پانی ملتا ہے۔ چناں چہ نالی والی جگہ تو گیلی ہوجاتی ہے لیکن ایسی جڑوں کو پانی نہیں ملتا اس کے علاوہ پانی کے بہاؤ کی وجہ سے کھاد بھی ایک پودے سے دوسرے پودے تک بہہ جاتی ہےاور پہلے پودے کھاد سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر ایک پودے کو کوئی بیماری ہوجائے تو وہ پانی کے ساتھ بہہ کر دوسرے پودوں تک پہنچ جاتی ہے،اس طریقے کی خامیوں کو دیکھ کر ایک نیا طریقہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اس طریقے میں پودوں کے گرد چھوٹے چھوٹے دور بنادیے جاتے ہیں اور ان دوروں کو آپس میں پانی کی نالی کے ذریعے ملا دیا جاتا ہے یہ طریقہ گو نالی سسٹم سے بہتر ہے ،مگر اس میں بھی کئی خرابیاں موجود ہے صرف ایک فائدہ ہوتا ہے کہ پودوں کی جڑیں دور کی وسعت کے مطابق پھیل جاتی ہے۔تیسرے طر یقے میں پودوں کی دو قطاروں کے درمیان پانی کی نالی بنائی جاتی ہے اور ہر پودے کے اردگرد جڑوں کے پھیلاؤ تک دور بنایا جاتا ہے پھر ہر دور کو ایک چھوٹی نالی کے ذریعے بڑی نالی سے ملادیا جاتا ہے ۔اس طرح بڑی نالی میں جب پانی چھوڑا جاتا ہے تو وہ ہر پودے کو آسانی سے مل جاتا ہے۔اس طر ح جڑیں بھی آسانی سے پھیل جاتی ہیں اور ہر پودے کو علیحدہ علیحدہ کھاد بھی دی جاسکتی ہے ۔

پھل دار پودے لگانے کا طر یقہ

ان پودوں کو لگانے کے لیے سب سے پہلے گڑھے کھودے جاتے ہیں ۔ان کو کھودنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک نوزائیدہ پودے کے لیے ایسی نرم اور زرخیز جگہ تیا ر کی جائے ،جس میںوہ بخوبی نشوونما پاسکے اور اس کی جڑیں باآسانی دور تک پھیل سکیں ۔یادرکھیں زمین کی حالت کے مطابق ہی گڑھے کھودے جاتے ہیں ۔بعدازاں ان کو دوہفتوں کے لیے

کھلا چھوڑ دیناچاہیے ،تا کہ گڑھے کی دیواروں تک سورج کی روشنی آسانی سے پہنچ جائے اور مٹی میںکیمیائوی تبدیلیاں بھی پیدا ہوجائیںجو کہ بعد میں پودوں کے لیے مفید ثابت

ہوتی ہیں ،پھر اس میں نہر یا دریا کی مٹی سے بھر دیں اگر وہ دستیاب نہیں ہوتو گوبر کی کھاد بھی استعمال کی جاسکتی ہے ۔اس کے بعد گڑھے کے درمیان میںایک چھوٹا سا گڑھا کر کے پودے کو گاچی یا جڑ سمیت گڑھے میں رکھ کر چاروں طر ف سےا چھی طر ح دبا دیں ۔چند دنوں بعد پھل نمودار ہونے لگیں گے ۔