سری لنکا کیخلاف سیریز، پاکستان کا اسکواڈ کا اعلان

December 07, 2019
 

Your browser doesnt support HTML5 video.

ہیڈ کوچ مصباح الحق کی پریس کانفرنس

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔

یہ اعلان چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، ان کا کہنا ہے کہ بہت ڈسکشن کے بعد ٹیم سلیکٹ کی ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ ٹیم کی سلیکشن پر مطمئن ہوں، اس سلیکشن میں 6 سلیکٹرز شامل ہیں، اس سے متعلق فیصلے تنہا میرے نہیں، ٹیم میں تسلسل چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے ٹیم میں بہت زیادہ تبدیلیاں نہیں کیں، پاکستان کرکٹ میں کوئی ون مین شو نہیں ہے، 6 سلیکٹرز بہت توجہ سے پلیئرز کی پرفارمنسز کو دیکھتے ہیں۔

سلیکشن کمیٹی اراکین کی میٹنگ

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ میرے پاس جادو کی چھڑی نہیں کہ سب جلد ٹھیک ہو جائے گا، نہیں چاہتے کہ پاکستان کرکٹ کا ستیاناس ہو۔

انہوں نے بتایا کہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان ٹیم میں مڈل آرڈر بیٹسمین فواد عالم اور فاسٹ بولر عثمان شنواری کی واپسی ہوئی ہے، جبکہ فاسٹ بولر محمد موسیٰ اور مڈل آرڈر بیٹسمین افتخار احمد کو اس 16 رکنی ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا ہے، حارث سہیل اور امام الحق کو سلیکٹرز نے ایک اور لائف لائن دے دی۔

یہ بھی پڑھیئے: عمران خان نے کرکٹ کا حشر کر دیا، جاوید میانداد

مصباح الحق نے بتایا کہ کرکٹ اسکواڈ 16 رکنی ہو گا جس کے کپتان اظہر علی ہوں گے، عابد علی، اسد شفیق، بابر اعظم، فواد عالم، حارث سہیل، امام الحق، عمران خان، کاشف بھٹی، محمد عباس، محمد رضوان، نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی، شان مسعود، یاسر شاہ، عثمان شنواری ٹیم میں شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ افتخار احمد کی جگہ فواد عالم کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جبکہ وقار یونس موسیٰ خان کے ساتھ کام کریں گے، بطور ٹیم جب پرفارمنس ٹھیک نہ ہو تو پریشانی ہوتی ہے۔

فواد عالم

مصباح الحق نے بتایا کہ فواد عالم کو صرف ایک سیزن کی وجہ سے شامل نہیں کیا، وہ کافی عرصے سے پرفارم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں ہم نے بولنگ میں اسٹرگل کی، وہاں نئے لڑکوں کو آزمایا، انہیں تھوڑا اور وقت دینا چاہتے ہیں، بولر بنانے میں وقت لگتا ہے، راتوںٕ رات نہیں ہو جاتا۔

چیف سلیکٹر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کو ٹھیک کرنے آیا ہوں، نہ کرسکا تو خود چھوڑ جاؤں گا، لوگ جو کہہ رہے ہیں کہتے رہیں، میں ایمانداری سے کام کررہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں آگے جانے کے لیے ہوم گراؤنڈ کے 4 ٹیسٹ اہم ہیں، سری لنکا اور بنگلادیش کے خلاف ہوم سیریز کا فائدہ اٹھانا ہوگا۔

مصباح نے کہا کہ نسیم شاہ اور شاہین آفریدی پاکستان ٹیم کا مستقبل ہیں، سمیع اسلم اچھا کھیل رہا ہے، عمران بٹ کے بارے میں بھی سوچا ہے، تمام کرکٹرز نظر میں ہیں، مستقبل میں دیکھیں گے کہ کس کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کی پرفارمنس کے ساتھ انٹرنیشنل تجربہ بھی دیکھتے ہیں، جب 2 سلیکٹرز ہر میچ میں ہوں تو اس سے بہتر سلیکشن نہیں ہو سکتی۔

مصباح الحق نے کہا کہ پی ایس ایل فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ سے وعدہ ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر بننے سے پہلےکا تھا، مجھ پر کسی کو اعتماد نہیں ہے تو مجھے کوئی عہدہ نہیں ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مجھ پر کام کا دباؤ نہیں ہے، جو کہتے ہیں وہ سیٹیں خالی کرانا چاہتے ہیں، جو تنقید کر رہے ہیں وہ اپنی توانائی ضائع کر رہے ہیں۔

مصباح نے کہا کہ انڈر-19 بہت بڑا ایونٹ ہے لیکن ٹیسٹ چیمپئن شپ بھی کم نہیں، ورلڈ کپ میں ابھی وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ نسیم شاہ ایسا بولر ہے جس کی ٹیسٹ میں بھی ضرورت ہے، جب آپ غلطی کرتے ہیں تو سب سے پہلے اس کے بارے میں خود سے پوچھتے ہیں۔

کوآرڈینیٹر سیلیکشن کمیٹی ندیم خان نے اس موقع پر کہا کہ تاثر تھا کہ مصباح الحق اکیلے کام کر رہے ہیں، تمام کام مشاورت کے ساتھ کیے جاتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سری لنکا کے خلاف 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز 11 دسمبر سے کرکٹ اسٹیڈیم راول پنڈی میں کھیلی جائے گی۔