پختونخواہ میں سختی کیے بغیر لاک ڈاؤن پر عملدرآمد ناممکن

May 07, 2020

وفاقی حکومت نے کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی ایمرجنسی صورت حال میں 18ویں آئینی ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں ردوبدل کا راگ الاپ کر ملک بھر خصوصا خیبر پختونخوا میں نہ صرف سیاسی طوفان برپا کردیا بلکہ صوبہ کی قوم پرست اور مذہبی جماعتوں میں نئی جان ڈال دی ہے،مولانا فضل الرحمان ، اسفندیارولی خان ،آفتاب احمد خان شیر پاو اور سراج الحق 18ویں ترمیم کو بچانے کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں اور انہوں نے آپس میں ہنگامی رابطے کرکےحکومتی اعلان کو ملکی یکجہتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دیاہے، عوامی نیشنل پارٹی نے تو اپنے کارکنوں کو لاک ڈاؤن کی پروا کئے بغیرسڑکوں پر نکلنے کی تیاریوں کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو 18 ویں ترمیم پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا خاموش انقلاب تھا کیونکہ ہر وقت ایک دوسرے کیخلاف برسر پیکار سیاسی جماعتوں نے پہلی مرتبہ اکٹھا ہوکر کسی قسم کی مزاحمت کے بغیر متفقہ طور پر اس کی منظوری دی تھی جو یقیناً ان کا ایک بڑا کارنامہ تھا،18 اپریل 2010کو پارلیمنٹ نے 25آئینی شقوں میں ردوبدل اور 10مختلف نوعیت کے پارلیمانی فیصلوں کو 18 ویں ترمیم کی صورت میں آئین پاکستان کا حصہ بنایاجس کے ذریعے اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے رضاکارانہ طور پر اپنے پاس موجود ایگزیکٹو اختیارات پارلیمان کو دیئے،ملک کے شمال مغربی سرحدی صوبہ کا نام خیبر پختونخوا رکھ کر صوبہ کے عوام کی شناخت کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوا۔

صوبوں کو صوبائی خود مختاری اور اپنے وسائل پر اختیار دیا گیا، 17 وفاقی وزارتیں صوبوں کو منتقل ہوئیں۔ بلکہ ردوبدل کی صورت میں صوبوں کا حصہ بڑھایا جائیگا اور مرکز کا حصہ کم کیا جائیگا، پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ ن اپنے پانچ سال اقتدار میں گزار کر رخصت ہوئی مگر اس نے نئے قومی مالیاتی ایوارڈ کا اجرا نہیں کیا بلکہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو توسیع دیتے ہوئے کام چلاتی رہی،تحریک انصاف کے دو سالہ اقتدار میں بھی ابھی تک صوبوں کے حصہ میں اضافہ ہوا نہ نئے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کیا جاسکا ہے، 18ویں ترمیم کے تناظر میں اگر خیبر پختونخوا کی بات کی جائے تو آس وقت کی صوبائی حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی مذکورہ ترمیم کو اپنا تاریخی کارنامہ گردانتی ہے کیونکہ اے این پی کی سیاسی تاریخ صوبہ کی شناخت،صوبائی خودمختاری اور صوبہ کے حقوق کی طویل جدوجہد سے عبارت ہے۔

قیام پاکستان کے بعد خدائی خدمت گار تحریک کے بانی خان عبد الغفار خان(باچا خان) اور ان کے ساتھیوں سے صوبہ کی شناخت اور حقوق کی جدوجہد اے این پی کے رہبر تحریک خان عبدالولی خان کو وراثت میں ملی،1973 کے آئین کی تشکیل کے وقت صوبہ کے نام کی تبدیلی اور صوبائی خودمختاری کے معاملات کنکرنٹ لسٹ میں شامل کئے گئے تاہم ضیاالحق کے 10 سالہ مارشل لا اور بعد ازاں غیر مستحکم جمہوری حکومتوں کی وجہ سے اس حوالے سے پیش رفت نہ ہوسکی، اب اگر موجودہ حالات میں18ویں ترمیم رول بیک ہوتا ہے تو باقی چیزوں کے علاوہ اے این پی کی طویل جدوجہد پر پانی پھر جائیگا اسی لئے حکومتی اعلان پراے این پی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آرہا ہے اور اس کے سربراہ اسفندیارولی خان نے خبردار کیا ہے کہ تاریخی اٹھارہویں آئینی ترمیم پاکستان کے استحکام اور اتحاد کا ضامن ہے۔

اگر اس کو چھیڑا گیا تو پھر کورونا وبا ہو ،لاک ڈاؤن یا کوئی دوسری آفت، اے این پی میدان میں نکلے گی جس کے بعد تمام بحرانوں کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہوگی،اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ میں ردوبدل یا اسکا خاتمہ بچوں کا کھیل نہیں ، ویسے بھی تین ووٹوں کی اکثریت والی سرکار کی کیا مجال کہ وہ 18ویں ترمیم کو رول بیک کرسکے، اپوزیشن جماعتیں ملکر اٹھارویں ترمیم کے خلاف ہر سازش کا مقابلہ کریں گی‘‘دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے اس مرتبہ اسفندیار ولی خان سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے حکومت کی جانب سے 18ویں ترمیم میں ردوبدل کے اعلان کے فوراً بعد نہ صرف اسفندیار ولی بلکہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ، میاں شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کی قیادت کیساتھ را بطہ کیا۔

مولانا فضل الرحمان نےبھی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر 18ویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو ملک میں بدترین سیاسی اور آئینی بحران پیدا ہوں گے،کورونا وبا کے نازک حالات میں 18 ویں ترمیم کو رول بیک کرنے اور اس میں ردوبدل کی باتیں ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگا کر اندھیروں میں دھکیلنے کی سازش ہے،ہم کسی کو عوام کو نئی مشکلات اور ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دیں گے"، اپوزیشن قائدین کے بیانات کے بعداگرچہ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کہہ چکے ہیں کہ ملکی حالات ایسے نہیں کہ 18 ویں ترمیم کے معاملہ کو چھیڑا جائے تاہم انہوں نے وفاقی حکومت کی اس خواہش کا ضرور اظہار کیا ہے کہ 10سال گزرنے کے بعد اس ترمیم کے اثرات کا تجزیہ کیا جائے اور اس میں پائی جانے والی کمزوریوں کا خاتمہ کیا جائے۔دوسری جانب ملک بھر کی طرح صوبہ خیبر پختونخوا بھی کورونا وائرس کے شدید حملوں کی زد میں ہے۔

تادم تحریرصوبہ میں موذی وائرس سے متاثرہ مریض3ہزار سے تجاوز کرچکے ہیں جبکہ اموات کی تعداد بھی تقریبآ 200تک پہنچ گئی ہے البتہ 1ہزار کے قریب مریض کورونا وائرس کو شکست دے کر صحت یاب ہوچکے ہیں ،صوبائی حکومت نے کورونا وائرس سے ہلاکتوں میں اضافہ کے بعد صوبہ بھر میں عام تعطیلات میں 15مئی تک توسیع کردی ہے ، تمام ریسٹورنٹس، فوڈ پوائنٹس، سیاحتی مقامات، بین الاضلاع اور شہروں کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ بھی تاحکم ثانی بند رہے گی، جیلوں میں قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی رہے گی، بازار،دکانیں اور تعلیمی ادارے بھی بند ہیں تاہم حکومتی اقدامات کے باجود صوبہ میں کورونا وبا روز بروز بڑھتی جارہی ہے جو انتہائی تشویشناک امر ہےاس لئے حکومت کو عوامی مقامات اور بازاروں میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کی پابندی پر سختی سے عمل کرنا ہوگا ،اب بھی جو لوگ لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں انہیں سمجھانے اور ان کے ساتھ نرمی کی مزید گنجائش نہیں بلکہ ان کے ساتھ سختی کا مظاہرہ ہی کارگر رہے گا۔