فیس ماسک سے کوویڈ۔19 کا پھیلائو روکا جا سکتا ہے، نئی تحقیقی رپورٹ

May 23, 2020

لندن (پی اے) ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیس ماسک پہننے سے کوویڈ۔19 کا پھیلائو روکا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرا کی جانب سے کی گئی ریسرچ کے مطابق چہرہ کو ڈھانپنے سے سانس کے اخراج کے فاصلہ میں 90 فیصد کمی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ خارج ہونے والے سانس کے ساتھ پانی کے بخارات بھی ہوتے ہیں، جس میں سے کچھ میں وائرس ٹریس کیا جا سکتا ہے، جس کے پیش نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ منہ اور ناک کو ڈھانپ کے کوویڈ۔19 کے پھیلائو کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے چہرہ ڈھانپنے کے 7 مختلف طریقوں کا جائزہ لیا جس میں میڈیکل گریڈ اور گھریلو ساختہ ماسک بھی شامل ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی طریقہ سے چہرہ ڈھانپا جائے، وہ کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے میں مددگار ہوگا۔ سکاٹش حکومت نے لوگوں کو فیس ماسک پہننے کی ہدایت 28 اپریل کو جاری کی تھی جبکہ برطانوی حکومت نے یہ سفارشات 11 مئی کو دیں۔ کسی نے بھی پالیسی کو لازمی قرار نہیں دیا۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے یوشر انسٹی ٹیوٹ پر سینٹر فار گلوبل ہیلتھ کے ایک سرجن ڈاکٹر فیلیسٹی مہنڈیل نے کہا ہے کہ یہ یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ گھریلو ساختہ فیس ماسک بھی سرجیکل ماسک کی طرح سانس کے اخراج کو دور اور اطراف میں پھیلنے سے روکتا ہے۔ تاہم یونیورسٹی پر انجینئرزکیزیر قیادت ایک ٹیم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ بعض ماسک اطراف اور عقبی جانب سے سانس کے اخراج کو نہیں روک سکتے۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرا کےسکول آف انجینئرنگ کی ڈاکٹر اگنازیو ماریہ، جنہوں نے پروجیکٹ کوآرڈینیٹ کیا تھا، کہا کہ میں عمومی طور پر چہرہ ڈھانپنے والے تمام اقسام کے ماسکس کے موثر ہونے سے متاثر ہوئی ہوں، بلاشبہ کسی بھی طرز کا ماسک وائرس کے پھیلائو کو روکنے میں معاون ہے۔