| |
Home Page
اتوار 03 محرم الحرام 1439ھ 24 ستمبر 2017ء
September 13, 2017 | 11:27 pm
پنجاب یونیورسٹی شعبہ تاریخ کے تحت سی پیک پر بین الاقوامی کانفرنس

International Conference Held At Punjab University

International Conference Held At Punjab University

وہ بھی کیا وقت ہو گا کہ جب وہ لوگ جو پاکستان کا مذاق اڑاتے ہیں اسی پاکستان کا ویزا لینے کے لیے بےچین رہا کریں گے کیونکہ پاکستان اب دنیا کا مستقبل ہے اور یہ سب پاک چین اکنامک کوریڈور(سی پیک) کی بدولت ممکن ہو گا اور اس کے لیے اب صدیاں نہیں محض چند برس درکار ہیں۔

ہمارے دشمنوں کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ پاکستان پر سی پیک کے کیا ثمرات ہوں گے لیکن افسوس پاکستان کے چند عاقبت نااندیش لوگ دشمن کے پروپیگنڈے کے زیر اثر اس عظیم منصوبے پر تنقید کر رہے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی شعبہ تاریخ کے زیر اہتمام پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی پہلو کے موضوع پر تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

کانفرنس میں چین، برطانیہ، پولینڈ اور آسٹریلیا سے اپنے شعبوں کے نامور افراد نے شرکت کی، مزید برآں پاکستان بھر سے مختلف شعبوں کے ماہرین نے سی پیک کی افادیت پر روشنی ڈالی۔

نانجنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحبِ تحریر کے ساتھ

شعبے کے سربراہ اور ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چاؤلہ نامور تاریخ دان ہونے کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کے ان چند دانشوروں میں سے ایک ہیں جو سی پیک کے ثمرات سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ اس حوالے سے انتھک محنت کر رہے ہیں، ان کے مطابق سی پیک کے ثمرات سمیٹنے کے لیےقومی یکجہتی بے حد ضروری ہے۔

کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر ہائیر ایجوکیشن سید رضا علی گیلانی نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کے دو روپے ایک امریکی ڈالر کے برابر ہو جائیں گے، سی پیک پاکستان کی سماجی اور معاشی ترقی کی ضمانت ہے ذرا سوچیے کہ جب گورے پاکستان آنے کے لیے قطاروں میں لگے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اب تیسری دنیا کے ممالک میں شامل نہیں رہا، ہمیں اپنے آپ کو انڈر اسٹیمیٹ نہیں کرنا چاہیے، چند برس پہلے جب اس حوالے سے ایک سروے کروایا گیا تو اندازا ہوا کہ صرف ٹال ٹیکس سے اتنی آمدنی ہو سکتی ہے جتنا اس وقت پاکستان کا بجٹ تھا۔

چین کی نانجنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور وائس پریزیڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر زو چنگ باؤ جن کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کی یونیورسٹیوں کو مشترکہ فریم ورک تحت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں مختلف معاشی، سماجی اور جغرافیائی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے جس سے کانفرنس کے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر معین ناصر نے کہا کہ پاکستان اورچین سی پیک کے ذریعے ایک دوسرے کو ترقی دیں گے اور ہمیں پاکستان میں چین کے ترقیاتی منصوبوں کو سراہنا چاہیے۔

ڈاکٹر ظفر معین پاکستان کے سنہرے مستقبل کے حوالے سے بہت پرامید تھے، انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ہی اس منصوبے کا سب سے زیادہ فائدہ ہو گا، لوگوں میں اس حوالے سے آگاہی اور شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے، ایک وقت تھا کہ کوئی بھی ملک پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے تیار نہیں تھا لیکن چین نے 46بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے مختلف منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ چین نے روایتی یورپی اسٹائل میں پاکستان کی مدد نہیں کی بلکہ اس میں اس کا خلوص نظر آتا ہے، پنجاب یونیورسٹی سی پیک انٹیگریٹڈ اسٹڈی سینٹر  کے ذریعے سی پیک کا مثبت رخ بین الاقوامی برادری کے سامنے لایا جائے گا اور سی پیک کے خلاف ہونے والے منفی پروپگینڈے کو ختم کیا جائے گا۔

وارسا، پولینڈ سے شریک پرو فیسر ڈاکٹر اگنیسزکا نے کہا کہ پاکستان محل وقوع کے اعتبار سے بہت اہم خطے میں واقع ہے اور واحد اسلامی  ایٹمی ملک ہے، سپر پاورز اپنی پالیسی بناتے وقت اس حقیقت کو کبھی  نظر انداز نہیں کر سکتیں، سی پیک سے نہ صرف چین اور پاکستان بلکہ دنیا کے کئی ممالک استفادہ کریں گے۔

کانفرنس کے روح رواں پروفیسر ڈاکٹر اقبال چاؤلہ نے کہا کہ کانفرنس کے 9 سیشنز میں 5ممالک کے محققین نے اپنے مقالہ جات پیش کئے اور ملک بھر سے اسکالرز نے شرکت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانفرنس ایک دوسرے سے سیکھنے کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہوئی ہے اور مستقبل میں بھی ایسی کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا۔

کانفرنس میں نانجنگ یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے سربراہ ڈاکٹر زو وین، جی پی ایچ ای سی کے ڈی جی ڈاکٹر شاہد سرویہ، بینظیر شہید یونیورسٹی پشاورکی وائس چانسلر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ، ڈاکٹر منہاج الحسن، ڈاکٹر ناصرہ جدون، ڈاکٹر وسیم احمد، ڈاکٹر یعقوب بنگش، ڈاکٹر طاہر کامران ،ڈاکٹر سیف اللہ خان جنجوعہ، ڈاکٹر شفیق، ڈاکٹر عنبرین جاوید، ڈاکٹر فراز انجم، ڈاکٹر محبوب حسین، ڈاکٹر رخسانہ افتخار، ڈاکٹر نعمانہ کرن اور دیگر نے خطاب کیا۔

ملک بھر سے آئے ہوئے پی ایچ ڈی اور ایم فل اسکالز نے سی پیک کی افادیت پر مقالے پڑھے۔

سی پیک واقعی ایک گیم چینجر ہے اور یہ ہم پاکستانیوں کے لیے ایک چیلنج بھی ہے ہم نے یکجہتی کا مظاہرہ کر کے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانا ہے۔

(صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر 50کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی، محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں، حال ہی میں  بہترین میڈیا ایجوکیشنسٹ بھی قرار پائے ہیں)