• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی کمپنی کو نئی کلیکشن کا اردو میں نام رکھنے پر اشتہار واپس لینا پڑا

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)ملبوسات کی بھارتی کمپنی فیب انڈیا نے اپنی نئی کلیکشن کے ‘اردونام ‘ پر انتہاپسندوں کے مشتعل ہونے اورآن لائن تنقید کے بعد معذرت کرتے ہوئے اشتہار واپس لے لیا۔ دیوالی سے قبل لانچ کی جانے والی اس کلیکشن’ جشنِ رواج ‘ کے نام کو بنیاد بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر کمپنی پر پابندی عائد کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق فیب انڈیا نے کپڑوں کے اشتہارمیں دیوالی سمیت دیگر ہندو رسوم و رواج کو اجاگر کیا لیکن اس کا ٹائٹل اردو زبان میں رکھے جانے کی بناء پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور کمپنی کے بائیکاٹ کی آن لائن مہم چلا دی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹائمز آف انڈیا کی جانب سے رابطہ کرنے پر کمپنی کے ترجمان نے واضح کیا کہ یہ اشتہار دیوالی کے لیے ریلیز کیا گیا تھا بلکہ اس کا مقصد عام ہندوستانی روایات دکھانا ہے اور ’جشن رواج‘ کا مطلب بھی روایتوں کی تشہیر ہے۔فیب انڈیا کے مطابق ان کے دیوالی کلیکشن کی لانچ باقی ہے جسے ‘جھلمل دیوالی ‘ کا نام دیا گیا ہے۔فیب انڈیا پر دیوالی کا نام بدلنے سے لے کر ہندو تہواروں کے موقع پرسیکولرازم کی تبلیغ تک کا الزام عائدکیا گیا۔حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما تیجاسوی سوریا نے کمپنی پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘دیوالی جشن رواج’ نہیں ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ عالیہ بھٹ نے عروسی ملبوسات کی برانڈ مانیاورکے ‘ موہے فیشن ‘ کیلئے ایک اشتہارشوٹ کروایا تھاجس میں ہندومذہب میں شادیوں کے حوالے سے قدیم اوراہم ترین سمجھی جانے والی رسم ‘ کنیادان’ کی حیثیت پرسوال اٹھائے گئے ہیں۔شادی کے منڈپ پر دلہا کے ہمراہ بیٹھی عالیہ میکے میں ملنے والے پیاراور مان کے علاوہ اپنے ذہن میں آنے والے خدشات کو زبان دیتی ہیں۔

دل لگی سے مزید