• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وقت کے ساتھ زندگی گزارنے کے انداز میں بدلاؤ اور ڈیجیتل ٹیکنالوجی نے بچوں کی متوازن پرورش اور شخصیت سازی کو ایک بہت بڑا چیلنج بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دورِ جدید میں اینگزائٹی صرف بڑوں کا ہی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اکثر بچے بھی اس کا شکار ہیں۔ 

آج کے اکثر بچے بھی کسی نہ کسی وجہ سے نظر نہ آنے والی یا غیرمحسوس اینگزائٹی میں مبتلا رہتے ہیں اور اس فکرمندی کے بچوں کے مزاج اور طویل مدت میں مجموعی شخصیت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اینگزائٹی کے شکار بچوں کا دل اُن باتوں میں نہیں لگتا، جن میں عام بچے عموماً خوشی محسوس کرتے ہیں۔

بچوں کو اینگزائٹی سے کس طرح محفوظ رکھا جائے؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے برطانیہ کی ریڈنگ یونیورسٹی کی پروفیسر کیتھی کریسویل کی حالیہ تحقیق میں کچھ ایسی ترکیبیں بتائی گئی ہیں، جو بچوں کو اس صورتِ حال سے نکالنے میں معاون و مددگار ہوتے ہیں۔

کچھ بھی بلاجواز نہیں ہوتا

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے بچے کی کیا عمر ہے، آپ اس کے خوف یا فکر مندی کو مسترد نہ کریں۔ بچے سے یہ کہنا کہ’ اُس کا خوف بلاجوازہے‘ اور ’ویسا ہونے والا نہیں‘دُرست حکمتِ عملی نہیں ہے، اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے یہ تسلیم کریں کہ بچہ جس خوف کو محسوس کر رہا ہے وہ دُرست ہے، اُس سے بچے کو مدد ملے گی۔

بچوں کی مدد کریں

فرض کریں آپ کا بچہ کتوں سے ڈرتا ہے اور آپ گلی میں کسی کتے کو دیکھ کر بچے کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنا رستہ تبدیل کر لیتے ہیں تو آپ ایک لحاظ سے بچے کو یہ پیغام دیں گے کہ اُس کا خوف دُرست ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ آپ بچے کو مجبور کریں کہ وہ اُس بات کا سامنا کرے جس سے وہ بہت زیادہ خوف زدہ ہوجاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں درست حکمت عملی یہ ہوگی کہ اس کی مدد کریں کہ وہ آہستہ آہستہ اس خوف سے نبردآزما ہونا سیکھے۔

بچوں کو سمجھیں

اگر بچے کی اینگزائٹی زیادہ بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے تو پھر غور سے دیکھیں کہ وہ کونسی صورت ہوتی ہے جب وہ زیادہ پریشان ہوتا ہے۔ اس ترکیب کے پسِ پردہ اصل آئیڈیا یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کے خوف کی کیفیت کو سمجھیں، نہ کہ ان سے پوچھیں کہ وہ خوف زدہ تو محسوس نہیں کر رہے۔

بچوں کو موقع دیں

بچوں کو کسی بھی مسئلے کا حل بتانے کے بجائے والدین کو چاہیے کہ وہ ان کی بات کو سنیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے خوف یا فکرمندی، جس کی وجہ سے اُس میں اینگزائٹی پیدا ہوتی ہے، کو اچھی طرح بلا جھجک بیان کریں۔ ممکن ہے کہ اس کا خوف غلط فہمی کی وجہ سے ہو۔ جب تک آپ یہ نہیں سمجھیں گے کہ بچے کے خوف کی وجہ کیا ہے آپ اُس وقت تک اُس کی مدد نہیں کرسکیں گے۔

درجہ بہ درجہ آگے بڑھیں

آپ بچے سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ اس کے ساتھ ماضی میں ایسے کیا واقعات پیش آئے ہیں جن کی وجہ سے وہ یہ سوچتا ہے کہ اس کا خوف حقیقت میں بدل سکتا ہے۔ کیا یہ محض خوف ہے یا اس کا حقیقت سے بھی کوئی تعلق ہے۔ آپ کو مختلف قسم کے سوالات آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ کرنے ہوں گے۔ پھر اس طرح کے سوالات کریں کہ اگر ایسا ہوا تو وہ اس سے کس طرح نمٹے گا۔

بچوں کے ساتھ گفت و شنید کریں 

اگر کسی ڈرامے یا فلم کو دیکھتے ہوئے کوئی خوف زدہ کرنے والا منظر آئے تو آپ بچے سے پوچھیں کہ اس خطرے سے کس قسم کی بد ترین بات یا حادثہ ہو سکتا ہے۔ پھر آپ اس سے یہ بھی پوچھیں کہ اس منظر میں بہترین بات کیا ہو سکتی ہے (یہ کہ ان کی ایکٹنگ اتنی اچھی تھی کہ اس کی وجہ سے اسے ہالی وڈ کی کسی فلم میں اداکاری کا موقع مل سکتا ہے)۔ امکان اس بات کا ہے کہ بچہ اپنے آپ کو ان دو انتہائی باتوں کے درمیان کہیں پائے گا۔

بہتری ایک بتدریج عمل ہے

ریڈنگ یونیورسٹی سے وابستہ والدین کے ایک جوڑے کو یہ سکھایا گیا کہ وہ اپنے بچے کو 10اقدامات ایسے سکھائیں کہ وہ جس بات سے خوف زدہ ہوتا ہے اور اگر اس بات کا اُسے سامنا کرنا پڑ جائے تو اُس سے کس طرح نمٹے گا۔ اس طرح بات کرنے سے بچے میں اعتماد پیدا ہوگا۔ والدین کو اپنی نظر نتائج پر نہیں بلکہ بچے کی کوششوں پر رکھنی چاہیے۔ 

ہر کوشش پر بچے کی تعریف کریں اور اکثر انعام بھی دیں، اس طرح والدین جب بچے کی کوششوں کو سراہیں گےتو ان میں پیچیدہ حالات سے نمٹنے کا حوصلہ پیدا ہوگا۔ بچوں کی شخصیت سازی اور انھیں ان دیکھے خوف سے نکالنا ایک وقت طلب کام ہے، اس پر کام کریں اور نتائج حاصل ہونے کا انتظار کریں۔

حکمتِ عملی

بعض اوقات بچوں کا فکرمند ہونا یا گھبرانا معمول کی بات ہوتی ہے، لیکن اگر ان کی گھبراہٹ ان کو کافی پریشان کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ روز مرّہ کا کام بھی نہیں کرسکتے ہیں تو پھر مشاورت کرنا بہتر ہو گا۔ ایسی صورت میں کتابیں پڑھیں، جن میں ان مسائل کے بارے میں بہتر حکمت عملی بیان کی گئی ہو یا اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ضروری سمجھیں تو ڈاکٹر سے ’کاگنیٹو بیہیویئرل تھراپی‘ کے بارے میں دریافت کریں۔ 

ایک بات یاد رکھیں کہ آپ بچے کی زندگی سے ہر قسم کا خوف یا ہر قسم کی گھبراہٹ ختم نہیں کرسکتے، آپ کا اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ آپ بچے میں زندگی کی بے یقینیوں سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ بطور والدین آپ کی کامیابی یہ ہوگی کہ اپنے بچوں کو ہر قسم کے ڈر و خوف سے نمٹنے کےلیے تیار کریں۔