• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علامہ اقبالؒ کے خطوط کی روشنی میں ان کی شخصیت کا مطالعہ

حسنین عباس

علامہ اقبال ہماری تاریخ کی وہ عظیم علمی اور فکری شخصیت ہیں جن کے آثار علمی نے ہر لحاظ سے ہماری اجتماعی رہنمائی کی ہے۔ علامہ کی شاعری اور نثر پر مبنی فلسفیانہ افکار کا مطالعہ کیا گیا ہے تاہم علامہ کے لکھے گئے خطوط ہماری تحقیق میں وہ توجہ حاصل نہیں کر سکے جو انہیں دی جانی چاہیے تھی۔ علامہ کے خطوط جو انہوں نے اپنے زمانے کے مشاہیر کو لکھے جن میں قائد اعظم اور سید سلیمان ندوی جیسی قد آور شخصیات شامل ہیں نہ صرف ہمیں علامہ اقبال کے فکری اور عملی رجحانات سے آگاہ کرتے ہیں بلکہ اس دور کے مسائل اور ان مسائل کے حل کے لئے علامہ اقبال کی مساعی کو بھی ہمارے سامنے لاتے ہیں۔ جب بھی کسی شخصیت کے خطوط کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو ان خطوط کے مطالعے سے اس شخصیت کے فکر و احساس اور رویوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ کیوں کہ خطوط ایک لحاظ سے نجی معاملہ ہے لہٰذا ان میں انسان کی طبیعت کے وہ پہلو نمایاں جاتے ہیں جو عام طور پر دوسری تحریروں میں نظر نہیں آتے۔ 

خطوط باہمی رابطہ کی سطح کے بدلنے کے ساتھ ساتھ لب و لہجہ اور مضمون کے تنوع کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ علامہ اقبال جہاں قائداعظم کو خط لکھتے ہیں وہاں عصری سیاسی امور اور مسائل کے ساتھ ساتھ برصغیر کے مسلمانوں کے حال اور مستقبل کے معاملات کو بھی زیر بحث لاتے ہیں۔ سید سلیمان ندوی کو جب خط لکھتے ہیں وہاں دینی افکار اور فقہی مسائل موضوع باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح علامہ اقبال نے جو خطوط مولانا غلام قادر گرامی کو لکھے ان میں دوستی کی بے تکلفانہ فضا اور شعروسخن کے مسائل ملتے ہیں۔ سید نذیر نیازی کو لکھے گئے خطوط میں علامہ اقبال کی بیماری اور حکیم نابینا کے ساتھ علاج معالجہ کے معاملات کی تفصیلات نظر آتی ہیں۔ خاں نیاز الدین خاں کو لکھے گئے خطوط میں دوستانہ مراسم کے علاوہ کبوتروں کا تذکرہ اور اس طرح کے دیگر شخصی، دینی اور روحانی معاملات کی تفصیلات ملتی ہیں۔

علامہ اقبال نے جو خطوط اپنے مختلف احباب کو لکھے ان کے پیش نظر یہ امر نہیں تھا کہ ان خطوط کی طباعت کا مرحلہ بھی آ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بعض خطوط میں غیر معمولی بے تکلفی نظر آتی ہے۔ لیکن جب خواجہ حسن نظامی نے ان کے کچھ نجی خطوط ایک مجموعے میں چھاپ دئیے تو علامہ اقبال اس بات پر مضطرب ہوئے۔ جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ بعض احباب ان کے خطوط محفوظ رکھتے ہیں اور کسی نہ کسی دن ان کی اشاعت کی نوبت آسکتی ہے تو یہ اضطراب اور بڑھا۔ انہوں نے خاں نیاز الدین خاں کے نام ایک خط میں لکھا : مجھے یہ سن کر تعجب ہوا کہ آپ میرے خطوط محفوظ رکھتے ہیں۔ 

خواجہ حسن نظامی بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ کچھ عرصہ ہوا جب انہوں نے میرے بعض خطوط ایک کتاب میں شائع کر دیئے تو مجھے بہت پریشانی ہوئی۔ کیونکہ خطوط ہمیشہ عجلت میں لکھے جاتے ہیں اور ان کی اشاعت مقصود نہیں ہوتی۔ عدیم الفرصتی تحریر میں ایک ایسا انداز پیدا کر دیتی ہے جس کو پرائیویٹ خطوط میں معاف کر سکتے ہیں مگر اشاعت ان کی نظر ثانی کے بغیر نہ ہونی چاہیے اس کے علاوہ میں پرائیویٹ خطوط کے طرز بیان میں خصوصیت کے ساتھ لاپرواہ ہوں۔ امید ہے آپ میرے خطوط کو اشاعت کے خیال سے محفوظ نہیں رکھتے ہوں گے۔ علامہ اقبال نے نیاز الدین خاں کو یہ خط 19 اکتوبر 1919 کو لکھا۔

لیکن علامہ اقبال کے خطوط کو محفوظ رکھنے کا یہ عمل جاری رہا حتیٰ کہ خود علامہ اقبال نے بھی بعض احباب کے خطوط محفوظ رکھے جیسا کہ انہوں نے اپنے خطوط میں اکبر الہ آبادی کے خطوط کو محفوظ رکھنے کا خود بھی ذکر کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر علامہ اقبال کی یہ خط محفوظ نہ ہوتے علامہ اقبال کی شخصیت اور خیالات کے بہت سے گوشے ہم سے پوشیدہ ہوتے۔ خواجہ حسن نظامی اکبر الہ آبادی، مہاراجہ کشن پرشاد ،غلام قادر گرامی اور خان نیاز الدین خان کے نام خطوط کا سلسلہ علامہ اقبال کے حالات شخصیت اور معاملات کے بارے میں بہت سی تفصیلات پر مشتمل ہے ۔

خواجہ حسن نظامی کے ساتھ ان کی خط و کتابت خاصی بے تکلفانہ ہے۔ اسرار خودی کے مباحث میں علامہ اقبال اور حسن نظامی کے درمیان بہت تلخی پیدا ہوگئی تھی جو بعد میں اکبر الہ آبادی کی کوششوں سے دور ہوئی اس کے بعد غالباً جو خطوط لکھے گئے ہیں وہ نایاب ہیں اکبر الہ آبادی کے نام علامہ اقبال نے اپنے خطوط میں جس ارادے اور عقیدت کا اظہار کیا ہے وہ اردو کے ان دو بڑے شاعروں کے روابط پر روشنی ڈالتا ہے علامہ اقبال نے لاہور میں اپنی فکری تہائی کا اظہار بھی بہت درد مندی کے ساتھ کیا ہے جو اس دوران علامہ اقبال کی ذہنی کیفیت کا نقشہ ہمارے سامنے لاتا ہے۔ 

اسرار خودی کی تخلیق کے محرکات اور پھر اس کی طباعت کے بعد تصوف کی بحث میں علامہ اقبال کے موقف کی وضاحت بھی ان خطوط سے ہوتی ہے مہاراجہ کشن پرشاد کے ساتھ اقبال کی خط و کتابت میں ان کی زندگی اور معمولات کے بعد نئے پہلو سامنے آتے ہیں یہ خطوط 1916 سے 1926 کے درمیان لکھے گئے ان میں بعض باتیں بے ساختہ علامہ اقبال کے قلم سے نکلیں۔ مثلاً ایک خط میں لکھتے ہیں : سردی آ رہی ہے صبح چار بجے کبھی تین بجے اٹھتا ہوں پھر اس کے بعد نہیں سوتا سوائے اس کے کہ مصلے پر کبھی اونگھ جاؤں۔ کشن پرشاد کے نام ایک دوسرے خط میں لکھتے ہیں: بندہ رو سیاہ کبھی کبھی تہجد کے لیے اٹھتا ہے اور بعض وقت تمام رات بیداری میں گزر جاتی ہے اس وقت عبادت الہی میں بہت لذت حاصل ہوتی ہے۔

مولانا غلام قادر گرامی کے نام علامہ اقبال کے خطوط ان کی دوستانہ بے تکلفی کے مظہر ہیں گرامی علامہ اقبال سے تقریباً 20 سال عمر میں بڑے تھے ۔ مولانا گرامی جب بھی لاہور آتے تو علامہ اقبال کے پاس ٹھہرتے۔ علامہ اقبال ان کے آرام و آسائش کا ہر طرح سے خیال رکھتے ان کی ناز برداریاں کرتے ہیں شب و روز ان سے علمی گفتگو ہوتی اشعار کی باریکیوں پر بحث کی جاتی اور علامہ اقبال ان کا کلام سن کر محظوظ ہوتے اپنا کلام سنا کر ان کی تنقید سے فائدہ اٹھاتے بعض اوقات شعری مسائل پیش کرکے حل کے لیے بھی ان سے بحث و مباحثہ کرتے ۔

علامہ اقبال لاہور میں گرامی کے آنے کے منتظر رہتے ہیں کیوں کہ گرامی جیسی شخصیت کے ساتھ ان کی محفلیں ان کے لئے روحانی آسودگی کا سامان تھیں انہوں نے خود ایک خط میں لکھا : غرض یہ کہ لاہور میں آپ کی بڑی مانگ ہے باقی رہا میں تو میرے لئے آپ کا یہاں قیام کرنا تقویت روح کا باعث ہے خدا جانے زندگی کب تک ہے کچھ عرصے کے لئے آ جائیے تاکہ میں آپ کی صحبت سے مستفید ہو جاؤ یہ صحبتیں کسی زمانے میں تاریخ کے ورق بن جائیں گی۔

علامہ اقبال کی فکر کا سرچشمہ کیا تھا اس کا تذکرہ ہمیں ان کی تحریروں میں ملتا ہے لیکن انہوں نے مولانا غلام قادر گرامی کے نام ایک خط میں اپنے مطالعہ قرآن کا ذکر کرتے ہوئے اس فکری بصیرت کا انکشاف کیا جو بصیرت انہیں قرآن حکیم کی تلاوت اور قرآن حکیم پر تفکر سے حاصل ہوئی۔ اسرارو رموز کی تدوین کے بعد حیات مستقبلہ اسلامیہ کی تخلیقی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے علامہ اقبال نے گرامی کے نام خط میں لکھا کہ قرآن شریف سے مسلمانوں کی آئندہ تاریخ پر کیا روشنی پڑتی ہے اور جماعت اسلامیہ جس کی تاسیس دعوت ابراہیمی سے شروع ہوئی کیا کیا واقعات و حوادث آئندہ صدیوں میں دیکھنے والی ہے اور بالآخر ان واقعات و حوادث کا مقصود اور غایت کیا ہے میری سمجھ اور علم میں یہ تمام باتیں قرآن شریف میں موجود ہے اور استدلال ایسا صاف اور واضح ہے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تاویل سے کام لیا گیا ہے یہ اللہ تعالی کا خاص فضل و کرم ہے کہ اس نے قرآن شریف کا یہ مخفی علم مجھ کو عطا کیا ہے میں نے پندرہ سال تک قرآن مجید پڑھا ہے اور بعض آیتوں اور سورتوں پر مہینوں بلکہ برسوں غور کیا ہے اور اس اتنے طویل عرصہ کے بعد مندرجہ بالا نتیجہ پر پہنچا ہوں۔

الغرض علامہ اقبال کے خطوط ان کی شخصیت اور افکار کا ایسا آئینہ ہیں جس میں نظر آنے والے حقائق کو جھٹلا کر ان کی شخصیت کو مسخ یا ان کے مرتبے کوکم نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ ان کا ہر خط ان کی شخصی عظمت، علمی و فکری عبقریت اور ملی درد کا مظہر ہے۔