• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزادکشمیرمیں 25جولائی2021ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی تحریک انصاف کی آزادکشمیرمیں قائم حکومت کو100دن پورے ہوگئے ہیں۔ان 100دنوں میں کوئی خاطرخواہ کامیابی اس حکومت نے حاصل نہ کی۔بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سابق حکمران جماعتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی بارباریہ اعلان کررہی ہے کہ چھ ماہ کے اندر آزاد کشمیر کے اندر بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے اوراس کے لئے مئی 2022ء کااعلا ن بھی کیاگیاہے ۔مگرحسب سابق توقع یہی ہے کہ موجودہ حکومت بھی بلدیاتی انتخابات کروانے کے اعلان کووقت آنے پرملتوی کرتی رہے گی اوراپنی مدت شایدپوری کرلے گی۔

آزاد کشمیرمیں مئی1985ء کے انتخابات کے بعدباقاعدہ ہرسال پانچ سالوں کے بعدقانون سازاسمبلی کے انتخابات ہوتے ہیں۔مگرجب کبھی پارلیمانی روایات اورجمہوری طریقہ کارسے ہٹ کروزیراعظم کے عہدہ پرکسی اورکونامزد کردیاگیا جاتا ہے تونامزدہونے والے وزیراعظم بڑی مشکل سے نوماہ کاعرصہ پوراکرتے ہیں۔قبل ازیں مئی1990ء کے انتخابات ہوئے تھے ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے آزادکشمیرمیں ترقیاتی کاموں کی رفتارتیزکرنے کے لئے پانچ سوارب روپے کی خطیررقم دینے کااعلان کیا۔

اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کااجلاس بھی ہواجس کی صدارت وزیراعظم پاکستان نے کیااوراپنی نگرانی میں ایک کمیٹی قائم کی جواس خطیررقم کیلئے ترقیاتی منصوبہ جات کاپلان تیارکرکے اس پرعملدرآمدکروائے گی۔اس وقت آزاد کشمیرمیں حکومت سازی کے عملی اقدامات چیف سیکرٹری کے پاس ہیں۔ اگر یہ کہاجائے کہ وزیراعظم آزادکشمیرکی وہی حیثیت ہے جو پنجاب میں عثمان بزدارکی ہے توغلط نہ ہوگا اس تاثر کو دورکرنے کے لئے سردار عبدالقیوم نیازی کوعملی طور پر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ وہ آزاد کشمیر کے بااختیار وزیراعظم ہیں۔

کشمیرکونسل کی دونشستیں جن پریکم دسمبر2016ء کواس وقت کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سردارعبدالخالق وصی ایڈووکیٹ (پونچھ) اور محمد صدیق بڈلی (مہاجرین) سے منتخب ہوئے تھے ۔ان دونوں ممبران نے 29دسمبرکواپنے عہدہ کاحلف اٹھایا تھا۔ اس وقت وزیراعظم پاکستان بلحاظ عہدہ چیئرمین کشمیرکونسل وزیراعظم بھی تھے وزیراعظم آزادکشمیرنے مظفرآباد میں حلف بھی لیاتھا۔اب یہ دونشستیں خالی ہورہی ہیں ان پر انتخابات کیلئے نئے امیدواروں کی مشاورت شروع ہوگئی ہے ۔

آزاد کشمیرکی حکمران جماعت تحریک انصاف کے انتخاب ذمہ دارذرائع کاکہناہے کہ ضلع پونچھ میں سے جن امیدواروں کو25جولائی2021ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کے ٹکٹ جاری کئے تھے اوروہ انتخاب نہ جیت سکے۔ ان میں سے بعض ناموں پر کشمیر کونسل کیلئے غور کیاجارہا ہے کہا جارہا ہے کہ پونچھ کے حلقہ ہجیرہ سے سردارارزش خان حلقہ تین کھائی گلہ سے پارٹی کے امیدوارخطاب اعظم اورحلقہ نمبرچارسے پارٹی کے سردار نیئر ایوب کے علاوہ تحریک نوجوانان کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹرعرفان اشرف جنہوں نے حلقہ تین سے آزادامیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا تھا پانچ ہزار کے قریب ووٹ لیے تھے پر غور ہورہا ہے وفاقی وزارت امور کشمیرکے ذمہ داران کاکہنا ہے کہ کشمیرکونسل کی ان دونشستوں میں سے ایک نشست پرچیئرمین تحریک انصاف عمران خان اوروزیرامورکشمیرعلی آمین گنڈاپور کی خواہش اور کوشش ہے کہ جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے سردار اسد ابراہیم خان اگر راضی ہوجائیں توانہیں کشمیرکونسل کی ایک نشست دلائی جائے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید