• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تُو بولے گی، منہ کھولے گی تو زمانہ بدلے گا

"Nightmare" انگریزی زبان کے اس لفظ کی وضاحت لغت میں کچھ اس طرح ملتی ہے۔

“A dreadful dream accompanied with pressure on the breast and feeling of power lessons to move and speak ’’

یعنی ایک ڈراؤنا خواب، جو سینے پر اپنا دباؤ اور گھٹن ڈال دے، جس کی وجہ سے حرکت کرنے اور بولنے کی قوت گھٹ جائے۔ چند ماہ قبل خواتین کے بہیمانہ قتل، اغوا، تشدد اور ان کی خرید و فروخت کی خبریں پڑھنے اور سننے کو ملیں، جو بلاشبہ ’’نائٹ میئر‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کہتے ہیں ناں کہ لفظ جب تک ہوا میں گردش کرتے ہیں، ہوا کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ لوگ چاہیں تو ہوائی قلعے بنا لیں لیکن جب پرنٹ پر جاتے ہیں تو ان کالے حرفوں کی توقیر، معنی اور جہتیں نظر آنے لگتی ہیں۔ 

گویا ان کالے حرفوں میں بیرومیٹر کی سی خصوصیات ہوتی ہیں۔ یہی کچھ ہوا جب اسلام آباد میں مقیم نور مقدم پر بہیمانہ تشدد کے بعد اس کا سر قلم کئے جانے کی خبر ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز کا حصہ بنی تو دیکھنے والوں کی آنکھیں ساکت ہوگئیں۔ دوسرے دن نور مقدم کی خبر اس کی تصویر کے ساتھ اور جلی سرخیوں کے ساتھ مختلف اخبارات میں شائع ہوئی تو شور مچ گیا۔ اس شور میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب 25؍سالہ نسیم پر تشدد کے بعد اس کی گردن ہی دھڑ سے جدا کردی گئی جو کسی اور نے نہیں، اس کے شوہر نے کی تھی لیکن یہ قصہ چند دن بعد ہی اس وقت پس منظر میں چلا گیا جب ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کی دل دہلا دینے والی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ 

اس نے تیزاب سے جھلسے چہرے پر باریک کپڑا ڈالا ہوا تھا، جس سے اس کے چہرے کے ادھورے نقش جھلک رہے تھے لیکن اس کے لب و لہجے، اندازگفتگو سے مایوسی کا کوئی ایسا سراغ نظر نہیں آرہا تھا جو اس کے اذیت ناک ماضی کی نقاب کشائی کرتا یا ان کرب انگیز حالات کی گواہی دیتا جس کا شکار وہ ہوچکی تھی۔ پراعتماد لہجے میں وہ اپنی بپتا سنا رہی تھی۔ اپنا تعارف کراتے ہوئے اس نے کہا۔ مجھے عفت کہتے ہیں میں تقریباً بارہ سال سے گھر کے ایک کمرے میں قید ہوں۔ خود سے تیز آواز میں باتیں کرتی اور اپنی آواز کو دیواروں کے مساموں سے پار جاتے ہوئے اپنا آپ پہچانتی ہوں۔ 

وقت لوہے کے جال کی طرح میرے پائوں میں اس طرح جکڑا ہوا ہے کہ اپنے ہی پاؤں کی آہٹ سے ڈر جاتی ہوں اور تنہا اپنی نظر کی دھندلی لپیٹ میں اٹکل سے کھڑکی پٹ وا کرکے باغیچے میں لگے ان بڑے بڑے پیڑوں کی سرسراہٹ سنتی اور انہیں دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں، جن کے سائے میں کبھی بیٹھ کر گھنٹوں اپنی دوستوں اور گرلز سے باتیں کرتی تھی، اب تو وہ میرے سائے سے بھی بھاگتی ہیں۔ میرا چہرہ ہی اتنا ہی بتناک ہوگیا ہے جسے دیکھ کر غیر تو غیر اپنے ہی ڈر جاتے ہیں، خیر ڈری تو میں بھی تھی جب میں نے حادثے کے بعد پہلی مرتبہ اپنا چہرہ دیکھا تھا۔ اس ڈر نے مجھے دیوار گیر شیشے کی کرچیاں کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ 

عفت الفاظ کا چنائو نپے تلے انداز میں سنبھل سنبھل کر اس طرح کررہی تھی کہ ہم دم بخود بیٹھے اس کے بھپرے وجود کو دیکھ رہے تھے۔ اپنی بیتی سناتے ہوئے کئی بار اس کے جھلسے چہرے پر بھی غصے کی پرچھائیاں نظر آئیں، آنکھیں بھی چھلکیں مگر وہ بھٹکتی سانسوں کو سنبھالتی اپنی داستان سناتی رہی جو اس کے ذہن میں ایک ڈرائونے خواب کی طرح محفوظ تھی۔ کبھی کبھی غم ناک لہجے میں اس کی آواز گہرے کنویں سے آتی محسوس ہورہی تھی۔ 

وہ اکھڑے اکھڑے لہجے میں کہہ رہی تھی میرا چہرہ ہی نہیں پورا جسم تیزاب کے زخموں سے چور چور ہوکر رستا رہتا ہے لیکن میں پھر بھی جی رہی ہوں۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ مجھے علم ہی نہیں کہ مجھے کس جرم کی پاداش میں یہ ظلم سہنا پڑا۔ میری پیدائش کے دو ماہ بعد ابو کا انتقال ہوگیا تھا میں نے ان کا چہرہ البم میں لگی تصویروں میں دیکھا اور اسے اپنے دماغ میں فٹ کرلیا۔ ہوش سنبھالا تو امی، ممنانی، خالہ، ماموں کو اپنے اردگرد دیکھا۔ زندگی کے 16؍ویں سال میں تھی کالج میں قدم رکھا ہی تھا کہ امی بھی اس دنیا سے چلی گئیں۔ 

نانی کی زبانی مجھے پتا چلا کہ ابو کے انتقال کے بعد دادا، دادی نے مجھے اور میری ماں کو اپنے گھر میں رکھنا پسند نہیں کیا۔ ان کے خیال میں ہم منحوس تھے۔ نانو اور ماموں نے میری تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ کراچی یونیورسٹی سے اردو ادب میں ماسٹر کیا ہی تھا کہ میرے ہم جماعت سے رشتہ طے ہوگیا لیکن شادی سے ایک دن قبل مہندی کی رات کسی نے اتنی مہارت سے میرے چہرے پر تیزاب کا اسپرے کیا کہ میں سمجھ سکی اور نہ میرے اردگرد بیٹھی میری ہم جولیاں…! میں نے تکلیف سے سر جھکایا تو میری کمر پر تیزاب کا دوسرا وار کردیا گیا، اب میں اپنی چیخوں کو روکنے میں ناکام رہی۔ 

جب سر اٹھا کر دھاڑیں مارمار کر روئی تو میری آواز کے ساتھ وہ ساری آوازیں شامل ہوگئیں جو میری خوشی میں شریک تھیں۔ اس بھیانک حقیقت کا اس وقت پتا چلا جب ڈھولک کی تھاپ پر شادی کے گیت گانے والی میری ہم جولیوں نے میرے چہرے سے آنسو پونچھے تو کھال بھی صاف ہوگئی۔ کون ایسی لڑکی سے شادی کرتا جس کا حسن میک اپ سے دو چند کرنے کے بجائے تیزاب سے مسخ کردیا گیا ہو۔ اب کتابیں میری ساتھی ہیں پہلے خاموش رہتی تھی، اب دوستوں سے باتیں کرلیتی ہوں لیکن کس جرم کی پاداش میں اتنی بھیانک سزا ملی؟ یہ میں نہ جان سکی۔ 

جانتی بھی کیسے جب کسی کا سامنا کرنے کے قابل ہی نہیں رہی ہاں ماموں نے بتایا۔ بیٹا! تمہارے تایا، دادا نے یہ جرم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے عفت ہمارا خون ہے رشتہ کرنے سے قبل ہم سے پوچھنا چاہئے تھا۔ اب بتائیں جن لوگوں نے باپ کے مرنے کے بعد ہمیں بے یارومددگار چھوڑ دیا تھا، ان کے خون نے جوش بھی کب مارا جب میرا بیاہ ہورہا تھا۔ گرچہ اس حادثے کو کئی سال بیت گئے ہیں اخبارات میں میری کہانی شائع ہوئی تھی۔ لیکن اب بتانے کامیرا مقصد صرف اتنا ہے کہ میں بند کمرے میں مقید نہیں رہ سکتی، اسی نامکمل چہرے کے ساتھ عملی زندگی میں قدم رکھنے کا سوچ رہی ہوں تاکہ مجھے دیکھ کر ان مظلوم خواتین کے حوصلے بھی بلند ہوں جو اپنے چہرے کھو بیٹھی ہیں۔

میں نے کتابوں سے بھی خوب دوستی کرلی ہے اب چپ بھی نہیں رہوں گی، اسی چہرے کے ساتھ ان سگے خونی رشتوں سے بھی ملوں گی جو میرے سگے ہوتے ہوئے میرے اپنے نہ ہوسکے۔ ان کی داستان ظلم سنانے کیلئے ان کے چہرے بھی سامنے لائوں گی بس کسی طرح مجھے تایا، دادا کی تصاویر مل جائیں۔ آخر میں عفت نے کہا۔ میری ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ مجھ جیسی خواتین اگر اسے دیکھیں تو وہ بھی گھٹ گھٹ کر جینےکے بجائے قید خانے سے باہر آئیں، اپنے لب وا کریں اور کچھ کام کریں۔

اپنے اوپر ہونے والے ظلم اور ناانصافیوں کے خلاف عورت بہت کم بولتی ہے لیکن وہ جو بھی کہتی ہے، اس کے دل میں اس سے کہیں زیادہ کہنے کو ہوتا ہے۔ اس کا چہرہ بہت کچھ بتا رہا ہوتا ہے۔ خاموش لہجے اندر سے خالی نہیں ہوتے ان میں باتوں کی گہرائی، سمندروں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے بس ضبط کے عادی ہوجاتے ہیں، جس کا اندازہ عفت کی ویڈیو دیکھ کر بخوبی ہوتا ہے۔ نور مقدم تو کچھ کہے بنا ہی دنیا سے چلی گئی کہ سفاک ملزم نے اسے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا۔حقیقت تو یہی ہے کہ اب ان کی زندگی خدشات سے گزر کر خطرات کے دائروں میں سمٹتی جارہی ہے۔

خواتین پر تشدد کو ایک عالم گیر رجحان بتایا جاتا ہے حالانکہ یہ کب عالم گیر نہیں رہا،تاریخ کے اوراق الٹیں تو یہ حقیقت ہر حساس دل رکھنے والے کو کرب میں مبتلا کردیتی ہے کہ اپنے اپنے دور کی عظیم ترین سلطنتیں اور متمدن ترین قومیں صنف نازک کے معاملے میں انتہائی بے رحم، متعصب اور تنگ نظر تھیں مثلاً ایتھنز کے باشندے جو عہد قدیم کی اقوام میں سب سے زیادہ مہذب سمجھے جاتے تھے، اپنی بیویوں کو محض ایک قابل فروخت تجارتی اثاثہ سمجھتے تھے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ وہ بیویوں کو وصیتاً بھی دوسروں کو دے سکتے ہیں۔ یہودی قبائل کا مزاج بھی وحشیانہ تھا۔ یہودی باپ کا بیٹیوں کو فروخت کرنا، ایک ایسا عمل تھا جس کی نہ صرف انہیں اجازت تھی بلکہ وہاں کی قبائلی روایات اس عمل کی بھرپوی تائید کرتی تھیں۔

جب تشدد کے رجحان کو انسانی سرشت کا مادر کہا جاتا ہے تو جہاں جہاں انسان ہوں گے، ان کے بنائے ہوئے ٹیڑھے میڑھے معاشرے بھی ہوں گے اور وہاں وہاں تشدد کے مظاہرے بھی ہوں گے لہٰذا تشدد ایک عالم گیر طاقت ہمیشہ رہی ہے البتہ اب اس حقیقت کا زیادہ ادراک یوں ہورہا ہے کہ ابلاغی اور مواصلاتی ذرائع نے بے کراں اور نامعلوم وسعتوں والی دنیا کو سمیٹ کر ایک گائوں میں بدل ڈالا۔ 

پہلے ہر سو ہونے والے تشدد کے مظاہر جب ہماری نظروں سے اوجھل ہوتے تھے تو تشدد ہمیں محض مقامی نظر آتا تھا، جب تشدد خصوصاً خواتین پر کم کم ہی ہوتا تھا، اب پوری دنیا چھوٹے سے گائوں کی صورت میں ہماری نظروں کے سامنے ہے اور ہم ٹی وی اسکرین کے آئینہ جہاں نما میں ایک نظر میں پوری دنیا کے احوال سے آگاہ ہوجاتے ہیں تو تشدد ہمیں اچانک عالم گیر رجحان کی صورت میں پھیلتا نظر آنے لگا ہے لیکن اب تشدد کے طریقے بدل گئے ہیں۔ پہلے ان پر گھر کی چہار دیواری میں تشدد ہوتا ہے۔ باپ، بھائی، شوہر سب ہی کے ہاتھوں وہ مار کھاتیں اور ماری بھی جاتیں، اب ان پر سرراہ بھی تشدد ہوتا ہے۔ انھیں اغوا بھی کیا جاتا ہے اور بیچا بھی جاتا ہے، تیزاب کے وار بھی کئے جاتے ہیں اور بیٹی ہونے کی صورت میں طنز کے وار کئے جاتے ہیں کہ وہ خود ہی اپنی زندگی ختم کرلیتی ہے۔

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ناآسودگیوں، سماجی تضادات، معاشی محرومیوں ،عقائد و نظریات کی گھٹن، عدم برداشت اور جہالت کے اندھیروں میں تشدد تیزی سے پھلتا پھولتا اور پھیلتا ہے۔ آسودگی اور انصاف کے ساتھ جینے کی آسانیاں نہ ہوں تو ناآسودہ لوگ تشدد کو بہتر زندگی کیلئے اپنا دفاعی ہتھیار بنا لیتے ہیں اور پھر اس دلدل میں پھنس کر اپنی مظلومیت کو بھول جاتے اور ظالم کا کردار اپنا لیتے ہیں۔

ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کی ایک رپورٹ میں درج ہے کہ جنوبی ایشیا میں ثقافتوں کی بنیاد ہی صنفی تشدد پر رکھی گئی ہے۔ مرد کی بالا دستی کا دائرہ عورت کے مکمل کردار تک پھیل گیا ہے، جس میں اس کی حرکات و سکنات اور بول چال تک کا انداز شامل ہے۔ عورت کی کسی بھی بات میں خلاف ورزی مرد کی غیرت کو پامال کر دیتی ہے۔ اور پھر وہی کچھ ہوتا ہے جسکی مرد سے توقع کی جاتی ہے یعنی مارنا پیٹنا اور مختلف بھیانک طریقوں سے تشدد کرنا، رپورٹ کے مطابق، صنف کی بنیاد پر بدسلوکی کے بیش تر واقعات خاندانوں میں ہوتے ہیں۔ 

ان کے خلاف تشدد کی جڑیں غیرت اور عزت سے جڑی ان روایات میں پیوست ہیں، جو دیہی علاقوں،جاگیرداروں اور قبائلی خاندانوں میں رائج ہیں۔ افسو سناک بات یہ کہ اب خواتین پر تشدد گھروں سے نکل کر گلیوں، بازاروں میں بھی ہونے لگا ہے اس کی ایک مثال حال ہی میں دہلی میں ہونے والا واقعہ ہے کہ ایک راہ گیر نے بس اسٹاپ پر کھڑی چھ طالبات پر سرنج میں بھر کر تیزاب اس طرح پھینکاکہ ان کی آنکھیں رہیں نہ ہی چہرہ۔

2018میں نیویارک ٹائمز میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی، جس میں درج تھا کہ خواتین پر تشدد کی نئی نئی لہریں اٹھ رہی ہیں۔ پہلے مرد کے ہاتھ مار پٹائی ، مکوں، لاتوں تک محدود تھے، پھر ان کا قتل ہونے لگا، تیزاب پھینک کر ان کی شخصیت کو ہی مسخ کر دیا جاتا، اب ان پر ملازمت ،تعلیم کے دروازے بھی بند ہونے لگے ہیں۔

یہ صورتحال تیسری دنیا میں کچھ زیادہ ہی خوف ناک ہے۔رپورٹ کے مطابق ان ممالک میں ایسی نظر آنے اور نہ نظر آنے والی رکاوٹیں ہیں جو عورتوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں حصہ نہ لینے دیتیں۔ ان ممالک میں تشدد، خواہ گھر میں ہو یا باہر، طاقت کے ان ڈھانچوں کی عکاسی کرتا ہے جن کے تحت عورتوں کو مردوں سے کم تر مقام دیا گیا ہے، اسی لئے تشدد اس خطے کی ہر عورت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

غیر معمولی تبدیلیاں دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں لیکن مردوں کی فطرت بدل کر نہیں دے رہی۔ خواتین پر تشدد کی لہر میں کچھ زیادہ ہی تیزی آگئی ہے۔ اس کی وجہ خواتین کی خود مختاری، ہر میدان میں ان کے بڑھتے قدم بتائے جاتے ہیں۔انسانی فطرت ہے کہ جب تک وہ خود کسی ظلم کا شکار نہ ہو اسے ظلم کے نتیجے میں ہونے والے درد کا احساس نہیں ہوتا۔ ظلم کو خبر کے طور پر پڑھنے سے اتنا درد محسوس کرلیں کہ مارپیٹ اور تشدد سے جتنا درد ایک مرد کو ہوتا ہے اتنا ہی عورت کو بھی ہوتا ہے تو شاید ان کے ہاتھ ظلم کرنے سے رک جائیں۔

میں ماں بننا نہیں چاہتی

مصر کی ادیبہ لیلیٰ بغلتی

مصر کی مشہور ادیبہ لیلیٰ بلغلتی نے شادی کے بعد اپنے جیون ساتھی سے کہا، میں آپ کو اولاد کی خوشی نہیں دے سکتی کیونکہ میں ماں بننا نہیں چاہتی۔ یہ سن کر شوہر نے شکی نگاہوں سے بیوی کوچند ثانیے دیکھا پھر حیرت سے پوچھا۔ ’’ماں کا رتبہ حاصل کرنا تو ہر عورت کا خواب ہوتا ہے، تم انکار کررہی ہو؟‘‘ لیلیٰ نے کہا۔ ’’عورت بھی ماں کا رتبہ حاصل کرنا چاہتی ہے وہ بھی چاہتی ہے کہ اس کی گود میں بچہ ہو، وہ اسے لوریاں سنائے، اس سے باتیں کرے، بچہ تو میرے دل کی پکار ہے اس کے بغیر میں ادھوری رہوں گی۔‘‘

بیوی کی باتیں سن کر پھر شوہر نے کہا۔ ’’پھر کیا وجہ ہے ماں نہ بننے کی؟‘‘ لیلیٰ نے افسردہ لہجے میں کہا۔ ’’جب اس دنیا میں رہنا میرے لئے عذاب ہے تو اپنے بچے کیلئے اس عذاب کا انتخاب کیسے کرسکتی ہوں۔ بیٹی ہو تو دوسرا عذاب، بیٹا ہو تو دوسرا…! یہ دنیا جس میں عدم تحفظ اور طاقت کے بے رحم استعمال کی روایت کسی قانون کی طرح چل پڑی ہے، اس میں اپنی جان سے عزیز بچے کو کیوں لائوں، یہ مجھ سے نہیں ہوگا، البتہ اس مسئلے کا ایک حل ہے کہ ہم چاند پر چلتے ہیں وحشی درندے نما انسانوں سے بھری دنیا میں اب رہنے کا کیا جواز!‘‘ شوہر، بیوی کو دیکھتا رہا بولا کچھ نہیں۔

لیلیٰ نے جب یہ فیصلہ کیا اس وقت خواتین پر تشدد کے پے درپے ایسے وار ہورہے تھے کہ دنیا حیران تھی اسی دور میں مختلف ممالک نے خواتین پر تشدد کے خلاف قوانین بھی نافذ کئے تھے۔

خواتین پناہ گاہوں کی تاریخ

مظلوم خواتین کیلئے پناہ گاہوں کا تصور نیا نہیں ہے۔ جاپان میں جب جاگیرداری نظام نافذ تھا، اس وقت وہاںکے بعض بودھ معابد کو عبادت گاہ کہا جاتا تھا، جہاں شوہر سے علیحدگی سے قبل ظلم و ستم کی شکار خواتین کو یہاں پناہ لینا ضروری ہوتا تھا۔ مغربی ممالک میں 1964ء میں کسی ہنگامی صورتحال میں پناہ حاصل کرنے کیلئے رہائش گاہیں تعمیر کی گئیں۔ جدید ترین پناہ گاہ ’’روزز پیلس، بوسٹن‘‘ میں تعمیر کی گئی۔ 

اس کا افتتاح 1974ء میں ’’کیپ ٹیرین‘‘ نے کیا۔ برطانیہ میں اس نوعیت کی پہلی پناہ گاہ ادارہ گارڈف کی جانب سے ’’ولز‘‘ میں قائم ہوئی۔ یہ ادارہ 1972ء میں آئرن پنیری کی جانب سے پناہ لینے کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ لیکن مظلوم خواتین کیلئے قائم ہونے والی پناہ گاہیں ہمیشہ غیر متنازع رہی ہیں۔ 

چارلس ای کورلے نے “equal justice foundation trust “ کی سائٹ پر لکھا۔ ’’مظلوم عورتوں کیلئے قائم کئے جانے والے شیلٹرز خاندانی تشدد کو روکنے کی مہم ہیں، تاہم یہ مراکز صرف خواتین پر بیہمانہ تشدد کی روک تھام کیلئے مختص کردینے چاہیں۔‘‘ 2011ء میں واشنگٹن کے گورنر، کریٹن گریگ نے ایک بجٹ تجویز پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ گھریلو تشدد اور خواتین شیلٹرز سے متعلق تمام فنڈز واشنگٹن کی حد تک دیگر فنڈز سے علیحدہ کردیئے جائیں۔

1970ء کی دہائی تک امریکا میں خواتین پر تشدد سے متعلق معاملات نہ تو شائع کئے جاتے تھے اور نہ ان حوالے سے کسی قسم کا بحث و مباحثہ ہوتا تھا۔ خواتین کی تحریک کی بے داری کے بعد سے اب تک امریکا میں 1500؍شیلٹرز قائم ہوئے ہیں جہاں گھریلو تشدد کی شکار عورتوں اور بچوں کو رکھا جاتا ہے۔ناروے میں مظلوم عورتوں کیلئے شیلٹرز قائم کرنے کی تحریک کا آغاز 1970ء میں ہوا جب خواتین نے تشدد کے خلاف ایک ٹریبونل میں شرکت کی بعدازاں خواتین نے بھی فنڈنگ کے ذریعے ’’شیلٹرز مہم‘‘ کا آغاز کیا۔ 1977ء میں مظلوم عورتوں کی آواز کی گواہی کیلئے پہلی منفرد ٹیلیفون لائن ’’اوسلو‘‘ میں قائم کی گئی۔ 

اسی سال ناروے میں پہلی بار خواتین پر ہونے والے مظالم کے مسئلے کو بحث کیلئے منظور کرنے کا فیصلہ کیا گیا اسے سیاسی ایجنڈے میں بھی شامل کیا گیا۔ آج ناروے اور آسٹریلیا میں 50؍شیلٹرز اور 5؍کرائسس ٹیلیفون ہیں۔ سڈنی میں 1974ء میں گھریلو تشدد کی شکار خواتین کیلئے پہلا شیلٹر ہوم قائم کیا گیا۔1970ء کے مقابلے میں آج مظلوم عورتوں کیلئے قائم اداروں کی اہمیت کا احساس بڑھ گیا ہے۔ خواتین کی کئی تحریکوں نے بھی اسے آگے بڑھایا ہے۔

خواتین کی تجارت :خاموش تشدد

عالمی تاریخ میں انسانوں کی اسمگلنگ نے اس وقت جنم لیا جب قرون وسطٰی میں بر طانوی بردہ فروشوںنے افریقا پر ہلا بولا اور وہاں انسانوں کی خریدو فروخت کے مذموم کا روبار کی بنیاد رکھی ۔ان غلاموں کی نسلیں آج بھی امریکا ،یورپ سے لے کر ایشا تک پھیلی ہوئی ہیں ۔دو صدی قبل بر طانیہ میں شاہی رضا مندی حاصل کرتے ہوئے انسانی تجارت کے خاتمے کے لیے ایک قانون منظور کیا گیا تھا ،جسے مارچ 2021ء کو 224 سال مکمل ہوگئے لیکن وقت کے ساتھ انسانی اسمگلنگ میں صرف خواتین کی تجارت ہورہی ہے،جو پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔

خلیج ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ،’’پوپی پروجیکٹ ،لندن سیف ہائوس اسکیم‘‘ میں چار ممالک اسمگل شدہ خواتین ان کے بڑے ذرائع سمجھے جاتے ہیں ۔ان میں لیتھوپیا ،البانیہ ،نائیجیریا اور تھائی لینڈ شامل ہیں ۔خواتین کو یہاں پر چھ سے آٹھ ہزار پائونڈ میں فر وخت کیا جاتا ہے ۔یہ وہ صنف ہے ،جس سے مجرموں کا نیٹ ورک بہت وسیع پیمانے پر کام کررہا ہے ۔عالمی ذرائع ابلاغ کی مختلف رپورٹوں کے مطابق اس جرم میں والدین ،رشتے دار ،خاندان اور کمیونٹی ،خواتین کی اسمگلنگ کے عمل میں شریک کار ہوتے ہیں ۔اسے دنیا بھر میں منشیات کے بعد دوسرا بڑا غیر قانونی کاروبار ہے۔

چند سال قبل اقوام متحدہ نے اس حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ،جس میں بتایا گیا کہ 2017 ء میں انسانی اسمگلروں نے ڈیڑھ بلین ڈالر سے زیادہ کمایا ،جو بڑھ کر 2019 ء کے وسط تک نوبلین ڈالر سالانہ تک جاپہنچا ۔متذکرہ رپورٹ میں درج ہے کہ 127 ممالک ایک سال میں تقریباً،2.5 ملین لوگوں کو بین الاقوامی سر حدیں پار کرواتے ہیں ،جن میں ساٹھ سے ستر فی صد عورتیں اور بچیاں ہوتی ہیں ،اس تعداد میں جنوب مشرقی ایشا شامل نہیں ہے۔ ان میں عموماًوہ خواتین ہوتی ہیں ،جن پر گھریلو تشدد ہوتا ہے ۔وہ گھروں سے بھاگ جاتی ہیں یا پھر ان کے شوہر ،باپ ،بھائی انہیں بیچ دیتے ہیں ۔

مشرق سے مغرب تک تیزاب کی مار ہر جگہ

بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے ہونے والی بحث کے موضوعات تبدیل ہو گئے ہیں۔ سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کی قیام امن کارروائیوں میں عورتوں کی حیثیت اور ضروریات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پر تشدد تنازعات اور امن قائم رکھنے کیلئے جو بھی کوششیں کی جائیں ان میں عورتوں کو بھی شامل کیا جائے اور ہر ملک اب تشدد کی اطلاعات پوشیدہ نہ رکھے،اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اطلاعات عام کی جاتیں تو آج یہ سب کچھ نہ ہو رہا ہوتا۔ 

سلامتی کونسل نے تیزاب کے بڑھتے تیزی سے وار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہر ملک سے قوانین بنانے اور ان پر عملدرآمدکا کہا ۔لیکن پھر ہوا کیا، قوانین بنے، نافذ بھی ہوئے لیکن تیزابی وار میں کمی نہ آسکی ۔

بنگلہ دیش اور پاکستان میں’’ایسڈ سپروائزر فائونڈیشن ‘‘(ASF) کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ادارے متاثرہ خواتین کا طبی اور نفسیاتی علاج کرتے ہیں۔ کمبوڈیا، یوگنڈا، اور افریقا میں کمبالا کے مقام پر تیزاب سے متاثرہ خواتین کیلئے ادارے قائم ہیں۔ جو متاثرین کی امداد اور معلومات کے حوالے سے ایک دوسرے سے تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔ 

ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقا میںجنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش میں ناکامی پر تیزاب سے جلایا جانا عام بات ہے، جبکہ بھارت میں کم جہیز لائے اور شادی سے انکار کی صورت میں بھی تیزاب پھینک دیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں گھریلو تنازعات پر تیزاب پھینکنا عام بات ہے۔

نیشنل جیو گرافکس میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ،مشرق سے مغرب تک خواتین خصوصاً ان کے چہروں پر تیزاب سے حملے کر کے انہیں زندہ در گور کر دیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمبوڈیا، بھارت اور بنگلہ دیش میں خواتین اپنے شوہروں کی گرل فرینڈز پر تیزاب پھینک دیتی ہیں، شاید ایسا کر کے وہ شوہروں سے بدلہ لیتی ہیں اور پھر مطمئن ہو جاتی ہیں۔

نیو یارک ٹائمز کے صحافی نکولس کرسٹوف کی ایک رپورٹ کے مطابق ایشیا میں بنگلہ دیش پہلے، بھارت ،دوسرے اور پاکستان تیسرے نمبر پر ہے، جہاں خواتین پر تیزاب کے وار کئے جاتے ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر خواتین اس بہیمانہ عمل کا نشانہ بنتی ہیں جن کے بارے میں ان کے شوہروں کو شبہ ہوتا ہے کہ وہ ان سے بےوفائی کی مرتکب ہوئی ہیں، بھارت میں بھی اس جرم کی شرح بڑھتی جا رہی ہے جہاں کرناٹک میں یہ واقعات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔

خلیج ٹائم کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں کئی بے پردہ خواتین کو اس بناء پر تیزاب ڈال کر نابینا کر دیا گیا کہ انہوں نے مناسب لباس اور حجاب نہیں پہنا ہوا تھا۔1978-79میں ایران میں آیت اللہ خمینی کے اسلامی انقلاب کے دور میں بےحجاب خواتین اور داڑھی نہ رکھنے والے مردوں پر تیزاب پھینکا گیا۔ غرض اس وقت مشرق سے مغرب تک خواتین پر تیزاب پھینک کر انہیں زندہ درگور کیا جارہا ہے۔

یہ ہے ہماری دنیا ہوش ربا،اعداد و شمار، سوچیں تو سہی 

آبزرور کی ایک رپورٹ کے مطابق مردوں کی نسبت عورتوں کو 13 گنا زیادہ مرتبہ ان زخموں کے علاج کے لیے ڈاکٹروں سےرجوع کرنا پڑتا ہے جو گھریلو تشدد کے نتیجے میں لگتے ہیں۔ امریکا میں ہر سال 25 لاکھ خواتین گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہے بھارت میں 97 فی صد خواتین کو گھریلو تشدد کا سامنا رہتا ہے، جب کہ برطانیہ میں ہر چار میں سے ایک خاتون گھریلو تشدد سے دوچار ہوتی ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق خواتین کے تحفظ اور انہیں حقوق دینے کے لیے طرح طرح کے قوانین نافذ کیے جارہے ہیں لیکن یہ قوانین بھی خواتین کو ظلم و جبر سے بچانے میں بے بس نظر آتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ اور جنوب مغربی ایشیا کے ممالک میں ہر سال 20 ہزار خواتین غیرت کے نام پر قتل کردی جاتی ہیں۔ زیادہ تر یہ واقعات مصر،اردن، لبنان، مراکش، شام، ترکی، یمن، فرانس، بھارت، یوگنڈا اور پاکستان میں ہوتے ہیں۔ تین برس قبل جاری ہونے والی ایک سروے رپورٹ نے مغربی اقوام کو حیرت زدہ کردیا کہ برطانیہ میں غیرت کے نام پر جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کےاعداد و شمار 2012کے مطابق دنیا میں ہر سال کم از کم دو لاکھ 50 ہزار خواتین اور لڑکیاں جنسی درندگی کا شکار ہوتی ہیں یہ اعداد و شمار پولیس ریکارڈز کے مطابق ہیں جب کہ ایسے بہت سے واقعات درج ہی نہیں ہوتے، بالاخصوص تیسری دنیا کے ممالک میں۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال امریکا میں ایک تہائی خواتین اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں قتل ہوتی ہیں۔ 

جنوبی افریقا میں ہر چھ گھنٹے بعد ایک خاتون اپنے ساتھی کے ہاتھوں ہلاک ہوجاتی ہے۔ گوئٹے مالا میں ہر روز چھ سے دس خواتین انتقام کی آگ میں جلا دی جاتی ہیں۔ ہر سال تقریباً 8 لاکھ خواتین انسانی اسمگلروں کےہاتھے چڑھتی ہیں۔ دنیا میں 6 کروڑ لڑکیوں کی کم سنی یا 18 برس کی عمر سے پہلے ہی شادی کردی جاتی ہے۔ کم سنی کی زیادہ شادیاں جنوبی ایشیا اور افریقا کے جنوبی صحرائی خطے میں ہوتی ہیں۔

تیزاب پھینکنے کے واقعات زیادہ تو کمبوڈیا، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان میں ہوتے ہیں لیکن اس ظلم کا آغاز یورپ سے ہوا تھا۔ آج دنیا بھر میں موجود 15 سے 44 برس کی 70 فی صد خواتین زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر مردوں کے ہاتھوں جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بن رہی ہیں جب کہ گھروں میں شوہر کے ہاتھوں بدترین تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔