امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری نئی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ بدنامِ زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے امریکی کینیڈین میڈیا اور رئیل اسٹیٹ ارب پتی شخصیت مورٹیمر زکرمین کو مبینہ ذہنی کمزوری کے باعث اپنے مالی معاملات کا کنٹرول چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے دستاویزات کے مطابق اکتوبر 2015ء میں ناروے کے سفارتکار تیجے روڈ لارسن کے ساتھ ملاقات کے بعد ایپسٹین نے زکرمین کو ای میل لکھ کر کہا کہ ان کی ذہنی صلاحیت خطرناک حد تک متاثر ہو رہی ہے اور ان کی مالی و ذاتی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ایپسٹین نے تجویز دی کہ زکرمین اپنے بھتیجوں، تیجے روڈ لارسن یا کسی قابل اعتماد شخص کو سرپرستی (گارڈین شپ) یا قانونی نگرانی کا اختیار دے دیں تاکہ مستقبل میں عدالتی مداخلت سے بچا جا سکے۔
ای میل میں جیفری ایپسٹین نے دعویٰ کیا کہ زکرمین بعض باتیں بار بار دہرا رہے تھے اور ملاقاتوں کی تفصیلات یاد نہیں رکھ پا رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق زکرمین نے ایپسٹین کی بات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ایسے معاملات کے ماہر وکیل کی سفارش بھی طلب کی تاہم یہ واضح نہیں کہ انہوں نے واقعی اپنے مالی اختیارات کسی اور کے حوالے کیے یا نہیں۔
اس خط و کتابت کے تقریباً 6 ماہ بعد زکرمین نے امریکی رئیل اسٹیٹ کمپنی بوسٹن پراپرٹیز کے چیئرمین کے عہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تاہم اس وقت اِن کی صحت سے متعلق کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
دستاویزات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایپسٹین زکرمین کے ذاتی اور مالی معاملات تک غیر معمولی رسائی رکھتا تھا اور اس نے زکرمین کے رشتہ دار ایرک گرٹلر کو اثاثے فروخت کرنے سمیت مختلف مالی اقدامات کا مشورہ دیا تھا۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین 2019ء میں جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کے دوران جیل میں مردہ پایا گیا تھا، ایسپٹین ماضی میں زکرمین کے ساتھ کاروباری منصوبوں میں بھی شریک رہا جن میں نیویارک میگزین خریدنے کی ناکام کوشش اور ریڈار میگزین میں سرمایہ کاری شامل تھی۔
زکرمین یا ان کے اداروں کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔