• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آڈیو ٹیپ پر کسی قسم کے ٹروتھ کمیشن کی ضرورت نہیں، فرخ حبیب


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ پر کسی قسم کے ٹروتھ کمیشن کی ضرورت نہیں ہے،ن لیگ کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ٹروتھ کمیشن بنا کر جمہور ی حکومت کیخلاف سازش کرنے والوں کو سامنے لایا جائے، سابق رہائشی نسلہ ٹاور محمد علی نے کہا کہ نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو ابھی تک ایک روپیہ نہیں ملا ہے، وزیرمملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے کہا کہ ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ پر کسی قسم کے ٹروتھ کمیشن کی ضرورت نہیں ہے، ن لیگ اس آڈیو ٹیپ اور رانا شمیم کے بیان حلفی کو بطور ثبوت وہاں لے جائے جہاں ان کا کیس چل رہا ہے،جسٹس قیوم اور شہباز شریف کی ریکارڈنگ پیپلز پارٹی عدالت لے گئی تھی جہاں سے کیس ختم ہوگیا تھا، ن لیگ بھی میڈیا میڈیا اور ٹیپیں ٹیپیں کھیلنے کے بجائے آڈیو ٹیپ عدالت میں لے جاکر ثابت کرے،ن لیگ نے عرفان قادر کے توسط سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست جمع کروائی ہے۔ فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ بنیادی سوال لندن فلیٹس کی رسیدوں کا ہے جو اپنی جگہ قائم ہے، کیا یہ آڈیو ٹیپس انہو ں نے ہی تیار کی ہیں جنہوں نے قطری خط اور جعلی کیلبری فونٹ بنایا تھا، نواز شریف کو اداروں کا عمل دخل اس وقت یاد کیوں نہیں آیا جب جنرل جیلانی کی چوسنی لے کر اقتدار میں آرہے تھے، ہم جسٹس قیوم، جسٹس رمدے اور رفیق تارڑ کو نہیں بھول سکتے۔ فرخ حبیب نے کہا کہ تین سال ہوچکے ن لیگ اپنے کیسز کو میرٹ پر چلنے نہیں دے رہی ہے، مریم نواز کیس میں تاخیر کیلئے 16بار التواء لے چکی ہیں ،نواز شریف اور مریم نواز اپنی رسیدیں دیں ذرائع پیش کریں اور بری ہوجائیں، اپوزیشن نے کبھی ملک میں احتساب کو پھلنے پھولنے نہیں دیا آپس میں مک مکا کرتے رہے، کسی حاضر سروس جج پر الزام آئے تو سپریم جوڈیشل کونسل کا فورم موجود ہے، جسٹس شوکت صدیقی کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے جاچکا ہے۔فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے میڈیا کیلئے پسند ناپسند کا رویہ اختیار نہیں رکھا، ن لیگ حکومت نے ایک میڈیا گروپ کو 3ارب روپے کے اشتہار دیئے جبکہ ایک دوسرے میڈیا گروپ کو 22ویں نمبر پر رکھ کر ساڑھے 8کروڑ روپے کے اشتہارات کس ریٹنگ کی بنیاد پر دیئے تھے، مریم نواز کی پریس کانفرنس سے آزادیٴ اظہار سے متعلق ان کا منافقانہ رویہ سامنے آگیا، مریم نواز کس حیثیت سے وزیراعظم ہاؤس میں میڈیا سیل چلا رہی تھیں، چار بڑے میڈیا گروپس کے اشتہارات بند کر کے کارکنوں کو بے روزگار کرنا کیا آزادیٴ صحافت پر حملہ نہیں تھا، نواز شریف کے دور میں میڈیا کا بازو مروڑا جاتا رہا جسے آج مریم نواز نے خود قبول کیا، 2015-16ء میں کون سی انتخابی مہم چل رہی تھی جو پارٹیاں اشتہارات دے رہی ہوں۔ن لیگ کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آڈیو ٹیپ کا معاملہ اتناسادہ نہیں یہ ملک و قوم کے خلاف سازش ہے،ملک کے منتخب وزیراعظم اور حکومت کو ایک سازش کے تحت ہٹایا گیا، ملک کے منتخب وزیراعظم کیخلاف سازش کر کے ملک پر نااہل ٹولہ مسلط کیا گیا۔

اہم خبریں سے مزید