• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال: میرا سوال مچھلیاں پکڑنے اور ان کے کاروبار کے متعلق ہے، فشری میں کچھ لوگ وہ ہیں جن کے پاس لانچیں ہیں، سرمایہ ہے۔ یہ لوگ جن کے پاس لانچیں اورسرمایہ ہے ، دوسرے لوگوں کو مچھلیاں پکڑنے کے لیے بھیجتے ہیں، انہیں اپنی لانچ دیتے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو مچھلیوں کاشکار کرتےہیں، وہ سمندر میں جاکر مچھلیاں پکڑسکتے ہیں، سمندر میں کئی کئی دن گزار سکتے ہیں، مگر ان کے پاس مچھلیا ں پکڑنے کے لیے لانچیں نہیں ہوتیں ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو گزر بسر کے لیے دوسروں کی لانچیں لے کر جاتے ہیں اور مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ یہ جب مچھلیاں پکڑ کر واپس آجاتے ہیں تو مچھلیاں فروخت کردی جاتی ہیں اورجو رقم حاصل ہوتی ہے ، وہ لانچ کا مالک اور یہ لوگ آدھی آدھی تقسیم کرلیتے ہیں۔ ازروئے شریعت کاروبار کی یہ صورت جائز ہے؟

جواب: شریعت کا قاعدہ ہے کہ مباح اَشیاء میں شرکت نہیں ہوسکتی ۔ سمندر میں مچھلیاں مباح ہوتی ہیں ، مباح ہونے کی وجہ سے ہر ایک کو ان کے پکڑنےکا حق ہوتا ہے اورجو انہیں پکڑ لیتا ہے وہی ان کا مالک ہوجاتا ہے۔ اس وجہ سے کاروبار کی یہ صورت ناجائز ہے۔ مچھلیاں صرف ان کاحق ہوں گی، جو اُنہیں پکڑلیں گے اور لانچ کے مالک کو بازار کے حساب سے لانچ کا کرایہ ملے گا۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

masail@janggroup.com.pk