• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ میں ٹیچنگ تین انتہائی قابل احترام کیریئرز میں سے ایک قرار، کام کا مناسب کریڈٹ نہیں دیا جاتا، سروے

لندن (پی اے) برطانیہ میں ٹیچنگ کو انتہائی قابل احترام کیریئرز میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ ایک سروے میں 42فیصد نے ٹیچنگ کو تین انتہائی قابل احترام کیریئرز میں سے ایک قرار دیا جبکہ 45 فیصد نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ٹیچرز کو ان کے کام پر وہ خاص کریڈٹ نہیں دیا جاتا جس کے وہ مستحق ہیں۔ ماٹلڈا کی مس ہنی کو برطانیہ کی فیورٹ فکشنل ٹیچر قرار دیا گیا۔ کورونا وائرس کوویڈ 19پینڈامک کے دوران ٹیچنگ کی اہمیت اجاگر ہوئی اور ہمارے اساتذہ کی اس انداز میں پذیرائی کی گئی جو پہلے کبھی نہیں کی گئی۔ ایجوکیشن چیرٹی ٹیچ فرسٹ کے مطابق ٹیچنگ کو برطانیہ کے معتبر ترین کیریئرز میں سے ایک کیریئر ایسے وقت قرار دیا گیا جب کورونا وائرس کوویڈ 19کے دوران اساتذہ کی اہمیت کا شدت سے احساس ہوا۔ یہ چیرٹی اساتذہ کو ریکروٹ کرنے، تربیت اور پسماندہ کمیونٹیز کے سکولز میں خدمات کیلئے تربیتی ٹیچرز کیلئے جگہوں کا انتظام کرتی ہے۔ سروے میں انتہائی قابل احترام کیریئرز میں ڈاکٹرز کو 62 فیصد ووٹ اور ٹیچرز کو 42فیصد ووٹ ملے۔ چیرٹی کا کہنا ہے کہ ہمارے اساتذہ کیلئے محبت اور احترام کی ترجمانی فلموں میں کی گئی ہے۔ ماٹلڈا کی مس ہنی کو 23 فیصد ووٹ کے ساتھ برطانیہ کی نمبر ون فکشنل ٹیچر قرار دیا گیا جبکہ کراٹے کڈز مسٹر میاگی 21فیصد ووٹ کےساتھ دوسرے اور ووپی گولڈبرگ کی سسٹر ایکٹ کیریکٹر سسٹر میری کلارنس 17فیصد ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔ اس ریسرچ میں تقریباً نصف (45 فیصد) جواب دہندگان نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اساتذہ کو ان کے کام پر خاطر خواہ کریڈٹ نہیں دیا جاتا اور 47 فیصد کا کہنا تھا کہ بچین پر کسی استاد کے پڑنے والے اثرات کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ زیادہ تعداد میں لوگ اس پروفیشن میں آنے کے بارے میں سوچیں۔ سروے کے نتائج کے مطابق 36 فیصد جواب دہندگان نے ٹیچنگ میں دل چسپی کا اظہار کیا ہے اور مزید 16 فیصد کی حوصلہ افزائی کیلئے مواقع دیکھ رہے ہیں۔ سروے میں 31فیصد برطانویوں نے تسلیم کیا کہ کورونا پینڈامک نے انہیں دوبارہ یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اساتذہ ہماری لوکل کمیونٹیز کیلئے اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیچرز اپنے مقامی علاقوں میں اہمیت رکھتے ہیں اور ان کے بچوں پر خاصے اثرات ہوتے ہیں۔ 42 فیصد والدین یہ احساس کرتے ہیں کہ ٹیچرز کو اپنے طلبہ کو سپورٹ کرنے کیلئے مزید وقت کی ضرورت ہے جبکہ 34 فیصد جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ ان کو اپنے لوکل ایریاز کے سکولز میں خدمات کیلئے زیادہ ادائیگی کی جانی چاہئے۔ 33 فیصد نے بہتر لرننگ ریسورسز کی ضرورت پر زور دیا۔ اپنے سکولز ریکوری منشور کے حصے کے طور پر چیرٹی ٹیچ فرسٹ نے پسماندہ کمیونٹیز میں کام کرنے والےسکولز کیلئے اگلے پانچ برسوں کے دوران فنڈنگ سپورٹ میں خاصا اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی عدم مساوات سے نمٹا جا سکے۔ ریجنل ٹیچرز اپنے ٹیچر کی حیثیت سے جاری پروگرام کے حوالے سے اپنے تجربات اور فائدوں پر مزید بات کرنے کیلئے دستیاب ہیں۔

یورپ سے سے مزید