• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی معاملات کون چلا رہا ہے، بین الاقوامی ادارے یا بڑی طاقتیں یا پھر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر دنیا پر اثر انداز ہو رہے ہیں، پاکستان کو اس کا بخوبی اندازہ ہے۔ کیوں کہ وہ گزشتہ تین برسوں میں ایک کے بعد دوسرے بحران سے گزرا ہے۔یہ بحران اقتصادی ہوں یا صحت سے متعلق یا پھر کسی اور نوعیت کے، ان میں عالمی ادارے نظر آتے ہیں اور بڑی طاقتوں کا کردار بھی نمایاں رہا ہے۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے پاکستان قرضوں کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات کرتا رہا، جو آخرکار تکمیل کو پہنچے اور ایک ارب ڈالرز سے زاید کی قسط ملی۔ یہ چھے ارب ڈالرز قرضے کی ایک اور قسط ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام میں طے ہوا تھا۔ عالمی ادارے کی جن شرائط پر عمل درآمد کیا گیا، اُن سے عام افراد کی زندگی مشکل سے مشکل تر بن گئی، جب کہ ماہرین کے مطابق، نئی شراط کے نفاذ کے بعد عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، تاہم یوں لگتا ہے کہ عوام بھی اب اِس طرح کے معاملات کے عادی ہوچُکے ہیں۔ 

ٹی وی تبصروں اور ٹاک شوز دیکھ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں اور پھر لمبی تان کر سو جاتے ہیں کہ کل کی کل دیکھی جائے گی۔دنیا میں ایف اے ٹی ایف کی شکل میں بھی ایک تجربہ ہو رہا ہے، جس کا پاکستان آج کل نشانہ بنا ہوا ہے۔ ہر چھے ماہ بعد ادارے کی جانب سے پہلے کچھ تعریفی کلمات کہے جاتے ہیں، جس پر ہمارے ہاں خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ دیکھو، ہمارے اقدامات کو بین الاقوامی قبولیت کی سند مل گئی، لیکن اگلی ہی سانس میں ایف اے ٹی ایف کی جانب سے مزید اہداف کی فہرست تھما دی جاتی ہے۔ 

یہ تو اِن دو عالمی اداروں کے تلخ تجربات ہیں، لیکن دوسری طرف، عالمی ادارۂ صحت کا کردار دیکھا جائے، تو حوصلہ بڑھتا ہے کہ اس نے کووِڈ۔19 سے نمٹنے میں جس طرح مدد کی، وہ قابلِ تحسین ہے۔ اِس وقت افغانستان جس انسانی المیے سے گزر رہا ہے، اُس میں یہی وہ واحد ادارہ ہے، جو کُھل کر وہاں کے عوام کی مدد کر رہا ہے، حالاں کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک نے تو امدادی کاموں سے ہاتھ اُٹھا لیے ہیں کہ جب امریکا اور چین جیسے طاقت وَر مُلک خاموش ہیں، تو ہمیں افغانستان میں دخل دینے کی کیا ضرورت پڑی ہے۔

درحقیقت دنیا میں طاقت کا منبع بڑی طاقتیں، امریکا اور چین ہی ہیں۔ ان دونوں میں مخاصمت بھی ہے اور مفاہمت بھی۔وہ براہِ راست ایک دوسرے کو فوجی طاقت کی دھمکیاں دیتے ہیں لیکن دوسری طرف، ان کے سربراہ تین گھنٹوں سے زاید ہونے والی بات چیت میں اُن علاقوں کا تعیّن بھی کرتے ہیں، جہاں تصادم سے گریز اور مفاہمت ممکن ہے۔ امریکا، چین،جاپان، بھارت اور جنوبی کوریا تیل قیمتوں کے معاملے پر جس طرح اوپیک کا توڑ کرنے کے لیے مارکیٹ میں ایک ساتھ تیل لائے، یہ بڑی طاقتوں کے اتحاد کی ایک واضح مثال ہے۔

زیادہ تر عالمی ادارے، عالمی جنگوں کے بعد وجود میں آئے، کیوں کہ دنیا جنگوں میں ہونے والی بربادی کے بعد ایسے فورمز کے قیام کی ضرورت محسوس کر رہی تھی، جہاں ہر مُلک کی نمائندگی ہو، قطع نظر اس کے کہ وہ چھوٹا ہے یا بڑا۔جہاں رنگ، نسل اور مذہب کی بھی کوئی تفریق نہ ہو۔اقوامِ متحدہ اپنے ذیلی اداروں کے ساتھ اس کی بہترین مثال ہے، جہاں ہر سال اس کے200 کے قریب رُکن ممالک کو اپنی اپنی بات بلا روک ٹوک کہنے کا موقع ملتا ہے۔نیز، سالانہ اجلاس میں یہ بھی غور کیا جاتا ہے کہ اِس عالمی فورم کو کیسے مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے، جب کہ اجلاس کے دَوران متحارب ممالک کی قیادت کو پیچیدہ معاملات پر باہمی بات چیت کا بھی موقع ملتا ہے۔

جب ایران کے صدر روحانی، امریکا اور عالمی طاقتوں سے ڈیل کرنے بڑھے، تو نیویارک ہی اُن کا میزبان شہر تھا۔ عالمی مالیاتی فنڈ، یعنی آئی ایم ایف اور عالمی بینک دو ایسے ادارے ہیں، جو دنیا کی مالیاتی پالیسیز کی مانیٹرنگ کرتے ہیں اور جہاں ضرورت ہو، کم زور معیشتوں کو سہارا بھی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔قرض دینے کے سبب اِن کی تعریف کی جاتی ہے،تو اِسی بنا پر اُنھیں تنقید کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ دونوں ادارے گزشتہ صدی میں قائم ہوئے، جب کہ 40 ارکان پر مشتمل ایف اے ٹی ایف حال ہی میں وجود میں آئی، جو دہشت گردی اور شدّت پسندی سے متعلق معاملات کی مانیٹرنگ کرتی ہے۔علاوہ ازیں، اقوامِ متحدہ کے اہم ترین ادارے، سلامتی کاؤنسل کی بھی عالمی سطح پر انتہائی اہمیت ہے، جس کی بنیادی ذمّے داری دنیا میں امن برقرار رکھنا ہے، خاص طور پر جنگیں روکنا اس کا اہم فریضہ ہے۔امریکا،برطانیہ، چین، فرانس اور روس اس کے پانچ مستقل ارکان ہیں، جن کے پاس ویٹو پاور بھی ہے، یعنی وہ کوئی بھی قرار داد مسترد کرسکتے ہیں۔

ویٹو پاور کے حق پر بہت تنقید ہوتی ہے کیوں کہ اِس طرح بہت سے اہم معاملات کسی خاص طاقت کی مرضی بغیر آگے نہیں بڑھ پاتے اور سلامتی کاؤنسل ناکام ہوجاتی ہے، جس پر عوام اور ممالک، اقوامِ متحدہ کو ایک غیر مؤثر ادارہ کہنے لگے ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگ کی صُورت میں یہی ادارہ آگے بڑھ کر سیز فائر کروا کے خون ریزی بند کرواتا اور بات چیت کی راہ ہم وار کرتا ہے۔ پاکستان کو ہر جنگ اور تنازعے میں اِس کا تجربہ ہوا۔ حالیہ زمانے میں شام کا بحران ایک تکلیف دہ مثال ہے، جہاں پانچ لاکھ شہری ہلاک اور ایک کروڑ سے زاید بے گھر ہوئے، لیکن سلامتی کاؤنسل خانہ جنگی رکوانے میں ناکام رہی۔ فوجی قوّت کی جیت ہوئی اور عوام ہار گئے، امن قائم ہوا، لیکن کس قیمت پر، یہ سوال آج بھی عالمی ضمیر کو کچوکے لگاتا ہے۔ 

اس کی بڑی وجہ ویٹو پاور کا استعمال تھا، جو روس اور چین کی طرف سے کئی مرتبہ استعمال کی گئی تاکہ اسد فوج فتح یاب ہو۔اِسی طرح غزہ کی حالیہ لڑائی پر بھی اسرائیل کی سرزنش نہ ہوسکی کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ویٹو پاور سے اس کے خلاف آنے والی تمام قراردادیں مسترد کردیں۔ایسے مواقع پر پتا چلتا ہے کہ انسانی جان عالمی طاقتوں کے مفادات کے سامنے کس قدر ارزاں ہے۔تاہم، پھر بھی یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ جب بھی کوئی عالمی بحران سامنے آتا ہے، چاہے وہ کسی قسم کا ہو، دنیا کی نظریں اسی سلامتی کاؤنسل کی جانب اُٹھتی ہیں۔

آئی ایم ایف کے حوالے سے ہمارے تجربات خاصے تلخ ہیں۔ اس کی کڑی شرائط اور ہماری کم زور معیشت نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ حکومت ان تمام ٹیکسز کی ذمّے دار آئی ایم ایف کو ٹھہراتی ہے،جو عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن چُکے ہیں۔تاہم، ایک نقطۂ نظر یہ بھی ہے کہ آخر ہمارے ہاں کیسی حکم رانی ہوتی ہے کہ مُلک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا اور اس نے عالمی اداروں اور دوست ممالک کی منّت سماجت کر کے اس بحران پر قابو پایا۔یہ حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف نے عالمی اقتصادی بحران میں اور پھر دنیا کو کورونا کی تباہ کاریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس نے پاکستان کو ویکسینز کے لیے دو برسوں میں 2 ارب 40لاکھ ڈالرز سے زاید دیے۔اگر ایف اے ٹی ایف کی بات کریں، تو وہ یقیناً سیاسی دبائو میں آتا ہوگا، تاہم اُس میں بھی دنیا کے تمام خطّوں کے ممالک شامل ہیں۔ پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈلوانے کی بھارتی کوششں ملائیشیا، تُرکی اور چین ناکام بناتے رہے ہیں۔ اِسی طرح ،عالمی ادارۂ صحت نے کورونا وائرس جیسی عالمی وبا کا مقابلہ کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔

صحت کی حفاظتی تدابیر عام کرنے سے لے کر ویکسین کی غریب ممالک کو فراہمی تک ، اس کا مثالی کردار رہا۔خود ہمارے مُلک کو اس کے ویکسین پروگرام کے تحت 2 کروڑ ویکسینز ڈوزز مفت ملیں۔اقوامِ متحدہ کے ریلیف کا ذیلی ادارہ، اِس وقت واحد عالمی ادارہ ہے، جو افغانستان میں خوراک، ادویہ اور دیگر بنیادی اشیاء پہنچانے میں پیش پیش ہے۔جہاں مختلف ممالک اپنے مفادات کے سبب انسانی امداد سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں، وہاں اقوامِ متحدہ کے ادارے کام کرتے رہتے ہیں۔ شام کے بحران میں اقوامِ متحدہ ہی کے دبائو پر یورپ نے لاکھوں بے گھر شامی مہاجرین کو قبول کیا، وگرنہ ان کی کوئی مدد کرنے کو تیار نہ تھا۔

بلاشبہ اِن اداروں پر عالمی طاقتوں کے اثرات ہیں اور وہ بہت سے فیصلے اپنی مرضی سے کروا لیتی ہیں یا پھر فیصلوں کے نفاذ میں رکاوٹیں ڈالتی ہیں اور یہیں سے عالمی اداروں پر نہ صرف تنقید شروع ہو جاتی ہے، بلکہ چھوٹے ممالک کا ان پر اعتماد بھی متزلزل ہونے لگتا ہے۔لوگ کُھلے عام کہتے ہیں کہ یہ ادارے بھی’’ جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس‘‘ کے اصول پر کام کرتے ہیں۔اہم سوال یہ ہے کہ کیا اِن اداروں کو بڑی طاقتوں کے دبائو سے مکمل طور پر آزاد کروانا ممکن ہے؟ دراصل اِس سوال کا جواب بڑی طاقتوں کی بجائے چھوٹے ممالک ہی کے گرد گھومتا ہے۔

اُنھیں غور کرنا چاہیے کہ اُنہوں نے خود کو عالمی امور میں کس طرح شامل کر رکھا ہے؟دیکھیے، جہاں تک انسانی مدد کے معاملات ہیں، تو ان میں عالمی اداروں کا کردار خاصا تسلّی بخش ہے،لیکن جہاں بات سیاست اور مفادات کی ہو، تو وہاں عالمی طاقتوں کا کردار سامنے آجاتا ہے اور ان میں زیادہ تر وہ تنازعات ہیں، جنھیں چھوٹے ممالک باہمی یا علاقائی طور پر حل کرنے میں ناکام رہے۔جو ممالک تنازعات میں گِھرے ہیں، وہ معاشی طور پر بھی کم زور ہیں۔ وہ اپنی قومی دولت کا زیادہ حصّہ سیکوریٹی امور پر خرچ کرتے ہیں۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا فائدہ بڑی طاقتوں ہی کو ہوگا، دھڑا دھڑ اسلحہ خریدتے ہیں۔شمالی کوریا اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ 

وہ معاشی طور پر دیوالیہ ہو چُکا ہےاور عوام بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، لیکن اُس پر فوجی قوّت بننے کا بھوت سوار ہے۔ بس یہیں سے بڑی طاقتوں کی عالمی معاملات پر اجارہ داری قائم ہوتی ہے۔ اگر کل یہ اجارہ داری سوویت یونین، امریکا اور یورپ کے پاس تھی، تو آج یہ چین، امریکا اور یورپ کے پاس جاچُکی ہے، گو اس میں اب کئی اور ممالک بھی اپنی اقتصادی مضبوطی اور بڑی آبادی کی وجہ سے شامل ہونے کے درخواست گزار ہیں۔دوسرے الفاظ میں، اگر ملٹی پولر دنیا بھی وجود میں آجائے، تب بھی طاقت کا توازن اور فیصلے کرنے کی قوّت چند ممالک ہی کے ہاتھ میں رہے گی۔ 

ظاہر ہے، اگر آج مالیاتی ادارے اور اقوامِ متحدہ پانچ ممالک کے زیرِ اثر ہیں، تو کل یہ 8یا9ممالک کے زیرِ اثر ہوں گے۔ پس،ثابت یہ ہوا کہ اُن چھوٹے ممالک کو پھر بھی کچھ نہیں ملے گا، جو ہر وقت عالمی اداروں کی ناکامی کا رونا روتے ہیں اور اُن کے طاقت ور لابیز کے ہاتھوں بِک جانے کی شکایت کرتے ہیں۔عالمی اداروں کا کردار بھی اُسی وقت متنازع ہوتا ہے، جب چھوٹےممالک اپنے دو طرفہ تنازعات حل نہیں کر پاتے اور اپنی خود ساختہ اَنا کو زندگی و موت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔

تنازعات تو اُس وقت سے چلے آرہے ہیں، جب سے قومیں یا مُلک وجود میں آئے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ عالمی جنگوں نے انسانیت کو کچھ سبق دیے تھے، جن میں سب سے اہم یہ تھا کہ جنگ ،دنیا کے لیے موت اور تباہی ہے۔اس کے بعد جس مُلک نے اِس سبق پر عمل کیا، وہ آج طاقت وَر ہے۔وہی اقوام ترقّی کر رہی ہیں اور وہاں کے عوام خوش حال بھی ہیں۔یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر ایک دوسرے سے نفرت کرنے والی اقوام کے لوگ وہاں جا کر آباد ہونا کیوں پسند کرتے ہیں، جہاں اُنھیں خوش حالی میّسر ہو اور معیارِ زندگی بلند ہو؟

اُن کے ہم قوم اُنھیں حسرت سے دیکھتے ہیں اور اُنھیں خوش قسمت کہتے ہیں۔ نظریے اور مذاہب کا اختلاف بھی اُنہیں اُن خوش حال ممالک کی طرف منتقل ہونے سے نہیں روک پاتا۔اِس سوال کا جواب کس کے پاس ہے کہ بہت سے ایسے افراد جو امریکا اور یورپ کو بُرا بھلا کہتے ہیں، لیکن وہاں اپنے خاندانوں کے ساتھ آباد ہونے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی کام یابی سمجھتے ہیں۔ اِس’’ مشن‘‘ میں اُن کے لیے اپنا مُلک اور نظریہ چھوڑنا بھی مشکل نہیں ہوتا۔ 

بڑے بڑے انقلابیوں کو دیکھا گیا کہ وہ ان خوش حال ممالک میں آباد ہونے کے بعد سب کچھ بھول کر اچھی زندگی کا درس دیتے ہیں۔ وہاں بیٹھ کر اپنے غریب ہم وطنوں کو کام یابی اور حبّ الوطنی کے اسباق پڑھاتے ہیں۔ ظاہر ہے، یہ بڑی طاقتیں فوری طور پر فنا نہیں ہو جائیں گی اور نہ ہی مستقبل قریب میں عالمی ادارے ختم ہوجائیں گے۔ دونوں کے اثرات اسی طرح برقرار رہیں گے، جیسے آج ہیں۔ کون اِس بات کی ضماتت دے سکتا ہے کہ اگر ان پانچ کی جگہ 8 یا 9 بڑی طاقتیں سامنے آجائیں، تو عالمی ادارے زیادہ انصاف پسند ہوجائیں گے اور دنیا ایک بہتر جگہ بن پائے گی؟

پھر حل کیا ہے؟سب سے اہم بات تو یہی ہے کہ ممالک اور لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اُنہیں اِسی دنیا میں رہنا ہے، اِس لیے ایک دوسرے کے لیے برداشت پیدا کرنی ہوگی۔اِس ضمن میں’’ جیو اور جینے دو‘‘کی پالیسی آج بھی تیر بہدف نسخہ ہے۔ مِٹنے، مٹانے کی باتوں کا وقت گزر گیا، اب ساتھ رہنے یا کم ازکم ورکنگ ریلیشنز قائم کرنے کا دَور آگیا ہے۔ یہ اِس لیے بھی اہم ہے کہ ٹیکنالوجی کی غیر معمولی ترقّی نے سب کے ہاتھ ،ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیے ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ کی ہر بال پر دونوں طرف سے بیک وقت ردّ ِعمل سوشل میڈیا پر دیکھا جاسکتا ہے۔

اسی طرح بحرین میں بیٹھا شخص برازیل کے گائوں میں موجود اپنے بیٹے سے بات کر لیتا ہے اور خیریت معلوم کرکے چین کی نیند سو جاتا ہے۔اسی ٹیکنالوجی کے سبب لاک ڈائونز بھی لوگوں کو ایک دوسرے سے جُدا نہ کرسکے۔اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ گلگت یا بلوچستان جیسے پس ماندہ علاقوں میں رہنے والا نوجوان اب انٹرنیٹ پر امریکا جیسے ترقّی یافتہ مُلک سے ڈالرز کما رہا ہے۔

تو کیا اِن ممالک کے سیاست دانوں اور اہلِ دانش کی ذمّے داری نہیں کہ وہ ان تنازعات کا حل نکالیں، جو جونک کی طرح اُن کی توانائی اور سرمایہ چاٹ رہے ہیں۔تنازعات کے حل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ عالمی طاقتوں کے پاس وہ ایشوز ہی نہیں رہیں گے، جن پر وہ اپنی سیاست چمکا سکیں۔پھر عالمی اداروں کو بھی زیادہ بہتر طور پر استعمال کرنے کا موقع مل سکے گا اور وہ عالمی سیاست کے اُلجھائو سے پاک ہوکر ترقّی پذیر ممالک کے کام آسکیں گے۔

سنڈے میگزین سے مزید