• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہندوستان کی فلم انڈسٹری ’بالی ووڈ‘ مودی کے ہاتھوں تقسیم ہو کر رہ گئی

کراچی (رفیق مانگٹ) بھارت کی فلم انڈسٹری بالی ووڈ مودی کے حامی ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھو ں تقسیم ہوکررہ گئی۔مودی کے حامیوں نے پہلے صحافیوں اور میڈیا کو تقسیم کیا،اس کے بعد لبرلز رجحان رکھنے والی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا اب ان کا اگلا نشانہ بالی ووڈ اور اداکار ہیں۔

خان اور پڈوکون کو اسلامو فوبیا کے خلاف بولنے پر سزا دی گئی،شاہ رخ خاں کے بیٹے کی گرفتاری کی وجہ 2015میں گائے ذبح پر مسلمانوں کے قتل پر ان کابیان تھا۔

پڈوکون پرمنشیات کے الزام کی وجہ ان کی2019میں مسلم مخالف شہریت بل کے خلاف طلبا احتجاج میںشامل ہوناتھا۔اقلیتوں اور لبرل پر دباؤ ہے کہ وہ خاموشی سے ہندو قوم پرستوں کے امتیازی خیالات کو قبول کر لیں ۔ 

اداکاراب سیاسی فیصلوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔انڈسٹری کو منشیات کے اڈے کے طور پر بدنام کیا جا رہا ہے، اور ہندوستانی سنیما کی زبان تبدیل ہو رہی ہے۔ہندو جنگجو بادشاہوں کے بارے میں فلمیں بنانے کا ایک جنون ہے جنہوں نے مسلمان حکمرانوں کو للکارا تھا، مسلمانوں کو برائی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔

اب وکلاء اسکرپٹ کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ مرکزی حکومت کے خلاف نہ ہو۔امریکی جریدے’’فارن پالیسی‘‘ نے تفصیلی تجزیے میں لکھا کہ ہندو قوم پرستوں کے سامنے ہندوستان کی فلم انڈسٹری ’’بالی ووڈ‘‘پرگھٹنے ٹیکنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

گزشتہ ماہ سپرا سٹار بھارتی اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے کو منشیات کیس میںگرفتار کیا گیا تھا، دنیا بھر میں مشہور شخصیات کی خبریں عوام کیلئے دلچسپی لیے ہوتی ہیں۔

بھارت میں نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تفریق گہری ہو گئی ہے، شاہ رخ خان کے بیٹے کی گرفتاری نے بھارت کے بگڑے سماجی تانے بانے پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔

مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے حامی اس گرفتاری کو قانون کا معاملہ قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سے فلمی صنعت میں تنزلی کا پتہ چلتا ہے۔ لیکن بھارت کے آزادی پسندوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک دانستہ اقدام تھا جس کا مقصددائیں بازو کے ہندووں کو خوش کرنے کے لیے ایک مسلم بت کی شبیہ کو داغدار کرنا تھا۔

خان ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے اسٹار ہیں اور انہیں بڑے پیمانے پربالی ووڈ کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ وہ غربت سے اٹھ کر اس مقام تک پہنچا۔اکثر لوگوںکواپنی مشکلات کی کہانیاں بیان کرتا ہے جن کو انہوں نے برداشت کیا تھا، جس میں اسے اداکار بننے کی کوشش کرتے ممبئی کی سڑکوں پر سونا بھی شامل ہے۔ 

خان کی جدوجہد اور کامیابی کی کہانیوں نے مسلمانوں سمیت لاکھوں ہندوستانیوں کو متاثر کیا ہے۔ دائیں بازو کے ہندو کی مسلمانوں کے عروج سے ناراضگی کی تاریخ گہری ہے، خاص کر وہ جو ان سیاست کو چیلنج کرتے ہیں ،جس میں خان بھی شامل ہے۔ 

2015 میں خان نے گائے ذبح کرنے کے الزام میں ہندو کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل کے خلاف بات کی کہ لوگوں کی کھانے کی عادتیں کیسے ایک مسئلہ بن سکتی ہیں؟مذہبی عدم برداشت اور اس ملک میں سیکولر نہ ہونا بدترین قسم کا جرم ہے جو آپ ایک محب وطن کی حیثیت سے کر سکتے ہیں۔ 

دائیں بازو کی ناراضگی کا ایک نمونہ بالی ووڈ ستاروں پر مرکوز ہے۔ ایک سال قبل، بالی ووڈ اداکارہ دیپیکا پڈوکون پر منشیات کے نیٹ ورک کا حصہ ہونے کا الزام لگایا گیا اور نیشنل نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا۔ 

پڈوکون کا قصور یہ تھا کہ 2019 میں وہ مسلم مخالف شہریت قانون کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں شامل ہوئی۔ لبرلز کو شبہ ہے کہ خان اور پڈوکون کو اسلامو فوبیا کے خلاف بولنے پر سزا دی گئی، اور ان کے خلاف مقدمات بالی ووڈ سے وابستہ مسلمانوں اور لبرلز کو ڈرانے دھمکانے کی مہم کا حصہ ہیں۔ 

مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، اقلیتوں اور معاشرے کے تمام بااثر طبقوں میں لبرل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان پر دباؤ ہے کہ وہ خاموشی سے ہندو قوم پرستوں کے امتیازی خیالات کو قبول کر لیں کہ بھارت کو کیا ہونا چاہیے۔

سب سے پہلے، صحافیوں نے جبر کی شکایت کی کیونکہ سیلف سنسر کا دباؤ بڑھ گیا۔ زیادہ تر نیوز نیٹ ورکس نے ہار مان لی اور حکومتی پالیسیوں کے ترجمان بن گئے۔اس کے بعد بائیںبازو کی حامل یونیورسٹیوں اور اقلیتوں کا غلبہ رکھنے والی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 

ہندوستان کی فلم اور ٹیلی ویژن انڈسٹری، جس میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ ملازمت کرتے ہیں اور دنیا بھر میں اس کے مداح ہیں، بالی ووڈ اس کی تازہ مثال ہے۔

بالی ووڈ ہمیشہ سیاسی طاقتوں کو ناراض کرنے سے بچنے کے لیے احتیاط سے چلی، بالی ووڈ ایک سیکولر جگہ رہی جس نے کمیونٹی کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا اور ایک روادار معاشرے کی تعمیر میں تعمیری کردار ادا کیا۔ 

تاہم، گزشتہ چند برسوں میں، اداکاروں نے متنازع سیاسی فیصلوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خوف محسوس کیا ہے، انڈسٹری کو منشیات کے عادی افراد کے اڈے کے طور پر بدنام کیا جا رہا ہے، اور ہندوستانی سنیما کی زبان آہستہ آہستہ لیکن یقینی طور پر تبدیل ہو رہی ہے۔

’’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا‘‘جیسے گیت بقائے باہمی کے خیالات کو پھیلاتے ہیں۔ انہوں نے ہندوستانیوں کی نسلوں کے ذہنوں میں ہم آہنگی کی قدر کو بسایا۔ لیکن اب، مذہبی شاونزم گانوں اور کہانیوں میں بغیر کسی تعبیر کے گھل مل گیا ہے۔ 

ایسا لگتا ہے کہ ہندو جنگجو بادشاہوں کے بارے میں فلمیں بنانے کا ایک نیا جنون ہے جنہوں نے مسلمان حکمرانوں کو للکارا تھا- مسلمانوں کو ہمیشہ برائی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ہندو دیوتاؤں کی تعظیم کرتے ہوئے سینہے پرہاتھ مارنا ا ور تلوار چلانا صرف فخر ہی نہیں شاید احساس برتری کو جنم دینے کی کوشش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے تمام حکومتوں نے فلم انڈسٹری کو اپنے پیغامات کی تشہیر کے لیے استعمال کیالیکن اب یہ پہلے سے کہیں زیادہ دباؤ میں ہے۔اب وکلاء اسکرپٹ کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ مرکزی حکومت کے خلاف نہ ہو۔ 

یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے جس کا مقصد تاریخ کو دوبارہ لکھنا ہے۔ 2020 کے اوائل میں اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت ہوئی،پوسٹ مارٹم نے خودکشی کی تصدیق کی تھی۔

اہم خبریں سے مزید