• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی مارگیج فراڈ:سرکاری ملازم پر پاکستانی خاتون کی توہین کاالزام

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) سرکاری کاغذات کے مطابق سیریس فراڈ آفس کیلئے کام کرنے والے پراسیکیوشن کے ایک سینئر وکیل پر ایک برٹش پاکستانی خاتون وکیل کو کتے سے تشبیہ دے کر تذلیل کا نشانہ بنانے کا الزام سامنےآنے کے بعد ایک مسلمان پاکستانی فیملی کے خلاف برطانیہ کے سب سے بڑے مارگیج فراڈ کی انکوائری کے دوران اختیارات کے غلط استعمال اور تعصب برتنے کے الزامات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ شبانہ کوثر کے وکیل کی جانب سے دائر کردہ مقدمےکے مطابق سرکاری ملازم اور ایس ایف او کے پروسیڈس آف کرائم اینڈ انٹرنیشنل اسسٹنس ڈپارٹمنٹ کےمقدمے کے بڑے وکیل نے گزشتہ سال 28 فروری کو ویسٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں سماعت کے بعد مسلم برطانوی خاتون شبانہ کوثر کو مجرم کی محبوبہ قرار دے کر اس پر ذاتی حملہ کیا اوراس کی بے عزتی کی۔ ایس ایف او نے اس رپورٹر کو بتایا کہ قانونی وجوہات کی بنا پر سرکاری ملازم کا نام ظاہر نہیں کیا جاسکتا۔ اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے یہ حملہ برٹش پاکستانی تاجر نثار افضل کی سابقہ اہلیہ شبانہ کوثر پر کیا تھا۔ جیو نیوز نے گزشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ ایس ایف او نے 15سال کی تفتیش کے بعد نثار افضل کے خلاف 50 ملین پونڈ کے مبینہ مارگیج فراڈ کا مقدمہ ختم کردیا تھا اور ایس ایف او کی درخواست پر سائوتھ وارک کرائون عدالت نے نثار افضل کے خلاف ریسٹریننگ آرڈرز اور وارنٹ گرفتاری منسوخ کردیئے تھے۔ کاغذات کے مطابق شبانہ کوثر کے وکلا نے ایس ایف او میں مقدمے کے سینئر وکیل استغاثہ کے خلاف کئی سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ ایس ایف او نے سرکاری عہدیدار کو افضل فیملی کے ارکان کے خلاف اس مقدمے سے علیحدہ کردیا تھا لیکن کیس کا انچارج وکیل دوبارہ خاموشی سے اس مقدمے میں واپس آگیا تھا۔ شبانہ کوثر کے وکلا نے شکایت کی ہے کہ پراسیکیوشن ایجنسی کے ایک رکن کی جانب سے یہ انتہائی جارحانہ تبصرہ قطعی بلا جواز، غیر پیشہ ورانہ اور انتہائی قابل اعتراض ہے، جس میں ایک ایسی خاتون کو نشانہ بنایاگیا ہے جو غیض وغضب کا شکار تھی۔ شبانہ کوثر کے وکیل نے ایس ایف او کو اسی خط میں اسی سرکاری ملازم کے خلاف اس مقدمے سے متعلق ایک دوسری پروفیشنل خاتون پر حملہ کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ سرکاری عہدیدار نے ایک ٹرینی وکیل غسلین سینڈوول کو 20 اکتوبر کو ایک ای میل بھیجی، جس میں کہا گیا تھا کہ غسلین کو ابھی ٹریننگ کا کنٹریکٹ ملا ہے اور وہ صرف کتے کا جسم نہیں ہے۔ ایس ایف او سے کی گئی شکایت میں کہا گیا ہے کہ سرکاری عہدیدار کا یہ حملہ جارحانہ اور نامناسب ہے اور اس میں استعمال کی گئی زبان سے غسلین کو شدید دکھ پہنچا ہے اور یہ ایس آر اے کے اصول 2 اور 5 کے منافی ہے۔

اہم خبریں سے مزید