• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فکر فردا … راجہ اکبردادخان
بیرسٹر صبغت اللہ قادری پہلے مسلمان کیوسی کا چند روز قبل انتقال ہوا، جہاں ایک کامیاب قانون دان کی حیثیت میں جانے جاتے رہے، وہاں پاکستانی کمیونٹیز کیلئےان کی خدمات کے حوالے سے ان کا نام دیگر سے بہت پہلے مقام پر موجود ملتا ہے، بات پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے حوالہ سے ہو یا فلسطینیوں اور کشمیر کے حق خودارادیت کی ہو، وہ اکثر جلسے اور جلوسوں کی قیادت کرنے والوں کے درمیان پائے جاتے ،ان دو معاملات پر باالخصوص اور تیسری دنیا میں پائے جانے والے مسائل پر ان کی تقاریر سامعین کیلئے حوصلہ کا سبب بنتی رہیں،بیماری کے آخری مرحلہ میں بھی دوستوں سے گفتگو کا وہی معیار رہا جو ان کا خاصہ تھا اور بیماری میں ٹی وی انٹرویوز چلتے رہے، اس سے زیادہ کیا انفرادیت ہوسکتی ہے، نا انصافی کے خلاف ڈٹ جانا ان کی طبیعت کا وہ پہلو تھاجو طالب علمی کے زمانہ ہی میں واضح ہوگیا تھا، صدر ایوب خان مرحوم کے خلاف تحریک میں اپنی حراست کے خلاف کراچی ہائیکورٹ میں رہائی کی درخواست انہوں نے خود تحریر کی اور انہیں رہائی مل گئی، بیرسٹر بننے کے تعلیمی مراحل میں بھی وہ طلبہ سیاست میں سرگرم رہے اور اپنی ان کاوشوں سے غیر انگریز طالب علموں کے لئے وہ سہولتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جو اس وقت تک صرف انگریزوں کو حاصل تھیں۔11کنگز بنچ واک سے اپنی پریکٹس شروع کرنے کے بعد 1978ء میں جج نیل مکینن سے اس وقت کی نسل پرست تنظیم نیشنل فرنٹ کے قائد کو جیوری سے بری کروا دیا کہ نسل پرست گالیاں دینا کوئی جرم نہیں، صبغت قادری کیلئے یہ ایک ناقابل قبول واقعہ تھا جس پر انہوں نے بھرپور احتجاج کیا اور اس وقت کے برٹش پریس نے اس احتجاج کو بھرپور کوریج دی، اس واقعہ کے نتیجے میں ایفرو کریبین لائرز فورم بنا، اس فورم نے اعلان کیا کہ اس تنظیم سے منسلک بیرسٹرز میں سے کوئی بھی جج مکینن کے سامنے پیش نہیں ہوگا جس پر بار کونسل نے صبغت قادری اور ان کے ساتھیوں سے باز پُرس کی، اس بات چیت کی ناکامی کے بعد قانونی شعبہ سے نسل پرست رجحانات روکنے پر بحث و مباحثہ زور پکڑتا گیا اور یہیں کہیں سے آج کی مضبوط تنظیم سوسائٹی آف بلیک لائرز وجود میں آئی۔80ء کی دہائی میں برسٹل میں فسادات میں بدامنی پھیلانے کے جرم میں کئی مقدمات قائم ہوئے اورنوجوانوں کے ایک گروہ کے دفاع کی ذمہ داری قادری اور ان کے ساتھیوں پر آن پڑی، ایک طویل ٹرائل کے بعد سبھی لوگ بری ہوگئے،صبغت قادری اور ان کی ٹیم جس میں اکثر اوقات مائیکل مین فیلڈ کیوسی بھی موجود ہوتے، نے بریڈ فورڈ 12کیس بھی جیتا۔ یہ وہ دور تھا جب ان کی شہرت عروج پر پہنچ چکی تھی اور انہی کیسز سے کچھ عرصہ بعد انہیں QC بنا دیا گیا۔ صبغت اللہ جہاں لیگل فیلڈ میں نسل پرستی کے ماحول کے خلاف جنگ کررہے تھے، انہیں سکن ہیڈ غنڈوں کی طرف سے پاکستانی لوگوں کو ٹارگٹ بناکر تشدد کا نشانہ بنانے پر بھی شدید غم وغصہ تھا لہٰذا انہوں نے ملک بھر میں اپنے جاننے والوں کو تنظیم سازی پر نہ صرف راضی کرلیا بلکہ بہت جلد ایک وقت میں 50تنظیموں کی نمائندہ جماعت کھڑی کردی اور اس طرح ’’سکوپو‘‘ STANDING CONFRENC OF PAKISTANI ORGANISATIONوجود میں آئی۔ اس کے ایک سالانہ ڈنر میں شہزادی این تشریف لائیں، صبغت اللہ طویل عرصہ تک اس کے صدر اور جنرل سیکرٹری رہے، پیٹربرو، نوٹنگھم، برمنگھم، لوٹن، اسکاٹ لینڈ، نارتھ ایسٹ اور ویسٹ سے کئی اہم کمیونٹی رہنما کم و بیش 30برس تک اس تنظیم کے جھنڈے تلے کمیونٹی خدمت میں پیش پیش رہے، آج اسی جذبہ کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے، صبعغت قادری مرحوم شہرت کی بلندیوں پر پیشہ ورانہ مہارت اور ایک اعلیٰ درجہ کے گفتگو کرنے والے فرد کے طور پہنچے۔ وکالت کے ساتھ وہ بی بی سی کی اردو سروس کیلئے بھی کام کرتے رہے جہاں ایشائی امور پر ان کے تبصروں کو عزت کا مقام حاصل تھا۔1949ء میں بھارت سے متوسط طبقہ کا یہ خاندان جب پاکستان آگیا تو انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر یہ خاندان برطانیہ آگیا، بیرسٹری کی تعلیم کے دوران صبغت اللہ قادری کو معمولی نوکریاں کرنی پڑیں مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور بالآخر کیوسی اور ایک کامیاب وکیل بن گئے، ان کی بیوی کریٹا فن لینڈ سے برطانیہ آئیں اور یہاں دونوں کی شادی ہوگئی، ان کا بیٹا بھی بیرسٹر ہے، صبغت اللہ بیک وقت ایک وکیل ، عوامی امور پر ایک سینئر تجزیہ کار، بی بی سی سے جڑے ایک نیوز کاسٹر، نسلی مساوات کے علمبردار تھے، انہیں ہمہ جہت شخصیت کہنا ہی ان سے انصاف ہے۔مرحوم اگرچہ باضابطہ طور پر کسی بھی پاکستانی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں رہے تاہم اکثر امور پر ان کا موقف پیپلزپارٹی کے زیادہ قریب دیکھا گیا اور اس جماعت سمیت کئی دیگر اہم سیاسی رہنمائوں سے ان کے ذاتی تعلقات تھے، مہمان نوازی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور جب تک ان کی صحت اچھی رہی دعوتوں کا سلسلہ چلتا رہا، ان کی وفات پر لنکنزان کا پرچم سرنگوں رہا اور شنید ہے تعمیراتی کام ختم ہو جانے کے بعد 11کنگز بینج واک جہاں سے انہوں نے بیرسٹری شروع کی تھی وہاں ان کی تصویر لگا دی جائے گی، قابل تعریف فیصلہ ہے جس سے نسلی مساوات کے اس اہم قانونی رہنما کی شمولیت کو تسلیم کرلیا جائے گا، صبغت قادری کے مطابق آج قانونی شعبہ کے حالات بہت بہتر ہیں۔ نسلی مساوات کے نظریہ اور اس کی درستگی پر آج اتفاق رائے موجود ہے۔ نسلی اقلیتوں سے کئی درجن وکیل اور بیرسٹر قانونی میدان میں کام کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں نسلی مساوات کی اہمیت کو زیادہ اچھے انداز میں سمجھا جارہاہے۔ پاکستانی کمیونٹی کیلئے درد رکھنے والے بیرسٹر صبغت اللہ قادری کیوسی 2نومبر کو اس دنیا سے رحلت کرگئے اور اپنے پیچھے سیکڑوں سوگواران چھوڑ گئے۔ اللہ مرحوم کے اقرابا کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی قبر کی منازل کو آسان فرمائے۔
یورپ سے سے مزید