• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی، نوجوان کی خودکشی، دلخراش مواد کی ابتک سوشل میڈیا پر گردش کیوں؟

کراچی(نیوز ڈیسک) کراچی میں راشد منہاس روڈ پر واقع ایک شاپنگ مال میں پولیس کی ابتدائی معلومات کے مطابق 28 سالہ زوہیر ولد ہاشم نے تیسری منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی۔اس واقعے کو پیش آئے 24 گھنٹے سے زیادہ ہو چکے ہیں اور تقریباً اتنی ہی دیر سے ان کے آخری لمحات کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر موجود ہے۔اس واقعے کی دردناک ویڈیو گزشتہ روز سے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کے ذریعے شیئر کی جا رہی ہے تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے اب تک اس ویڈیو کو ہٹانے سے متعلق کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آئے کیونکہ یہ اب بھی ٹوئٹر اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر موجود ہے۔ اس حوالے سے پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو ان کے علم میں ہے اور وہ اسے دیکھ رہے ہیں اور قانون کے مطابق متعلقہ حکام کو کارروائی کا کہا ہے۔ ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اگر یہ مواد کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم، جیسے فیس بک اور ٹوئٹر، پر موجود ہے تو اس حوالے سے متعلقہ کمپنیوں کو لکھا جائے گا۔کراچی کے علاقے انچولی کے رہائشی زوہیر کے تین بھائی اور ایک بہن ہیں جبکہ ان کے والد پندرہ سال قبل وفات پا گئے تھے۔ والدہ ٹیچر ہیں جنہوں نے ان کی پروش کی۔ متوفی کے چھوٹے بھائی کے مطابق زوہیر ریاضی میں گریجویٹ تھے۔ ان کے تین بھائیوں کے پاس ملازمت نہیں تھی مگر وہ خود انٹرینٹ کے ذریعے کام کرتے تھے اور بمشکل ماہانہ پانچ ہزار روپے کے قریب کما پاتے تھے۔ زوہیر کے ایک قریبی دوست کے مطابق15 روز قبل زوہیر کی ملازمت چلی گئی تھی۔ تاہم یہ نوکری کیا تھی انہیں اس کا علم نہیں۔ زوہیر ڈپریشن کے شکار تھا اور زیر علاج بھی تھا۔ وہ بیروزگاری کی وجہ سے پریشان رہتا تھا تاہم یہ معلوم نہیں ہوا کہ وہ شاپنگ مال کیوں گیا تھا۔ پولیس کے مطابق 28 سالہ زوہیر ڈپریشن کے شکار تھے اور انہوں نے بیروزگاری و گھریلو مسائل کی وجہ سے خودکشی کی۔

اہم خبریں سے مزید