• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ پولیس میں روٹیشن پالیسی کے تحت 8 ڈی ی آئی جیزکے تبادلوں کے ضمن میں وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تنازع میں اس وقت مزید شدت پیدا ہو گئی، جب اتوار 28نومبر کو ماسوائے با اثر ڈی آئی جی ایس ایس یو مقصود میمن کے 7لاڈلے ڈی آئی جیزنے نوکری بچانے کے لیے بادل ناخواستہ چارج چھوڑکر پنجاب ،کے پی کے اور بلوچستان میں جوائننگ دے دی، لیکن دوسرے ہی روز پیر 29نومبر کو اس حوالے سے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی منظوری سے حکومت سندھ نے نیا حکم نامہ جاری کردیا ہے، جس کے مطابق وزیراعلی سندھ نے تبادلہ کیے گئے تمام ڈی آئی جیز اور پی اے ایس افسران کو چارج چھوڑنے سے روک دیا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ افسران اگلے حکم تک اپنے عہدوں پر بدستورکام کرتے رہیں گے ۔ حکم نامے میں گریڈ20کےان 11 افسران میں سید حسن نقوی،ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی، زاہد علی عباسی، خالد حیدر شاہ، محمد نعمان صدیقی ، جاوید اکبر ریاض، عبداللہ شیخ، ثاقب اسماعیل میمن، نعیم احمد شیخ، عمر شاہد حامد اور لیفٹنٹ ریٹائرڈ مقصود احمد میمن شامل ہیں۔ جس سے صاف ظاہر ہو تا ہے کہ یہ حکم نامہ صرف اور صرف ڈی آئی جی مقصود احمد میمن کو رکوانے ایک حربہ ہے ۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سب سے پہلے ڈی آئی جی عمر شاہد حامد چارج چھوڑ کر بلوچستان میں جوائننگ دی اور بعد ازاں ڈی آئی جی عبداللہ شیخ بھی جوائننگ دے چکے ہیں ۔ واضح رہے کہ قبل ازیں وزیر اعلی سندھ نے ڈی آئی جیز کے روٹیشن کے تبادلے رکوانے کے لیے نہ صرف دھواں دھار پریس کانفرنس کی، بلکہ وزیراعظم کو خط بھی لکھا جو بے سود رہا ۔ سندھ سے پنجاب ،خیبر پختون خواہ اور بلوچستان تبادلہ کیے جانے والے ڈی آئی جیز نے تبادلے سے بچنے اور روٹیشن پالیسی کو سبوتاژکرنے کے کئی حربے آزمائے۔

کسی نے ایف آئی میں ریکوزیشن بھیجی تو کسی نے جے ٹی آئی ٹی کو بہانہ بنایا۔ وزیر اعلی سندھ اورصدر پاکستان کارڈبھی استعمال کر کے بھی ناکام رہے۔ دوسر ی جانب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تبادلوں کے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنیوالے افسران کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 روز کے اندر جواب طلب کرکے واضح کردیاتھاکہ چارج نہ چھوڑنے کی صور ت میں ان کےخلاف سخت محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی، جس کے بعد مذکورہ ڈی آئی جیز کو ایک ہی راستے کا انتخاب کر نا تھا یا تو وہ چارج چھوڑیں یا نوکری سے ہاتھ دھوبیٹھیں ۔

باخبر ذرائع کے مطابق مذ کورہ ڈی آ ئی جیز نے چارج چھوڑنے کا فیصلہ ڈی آئی جی ساوتھ کے دفتر میں ایک ملاقات رکھ کر کیا تھا، جس میں ڈی آئی جی سی آئی اے نعمان صدیقی ، ڈی آئی جی ایسٹ ثاقب اسماعیل میمن اور ڈی آئی جی نعیم شیخ نے بحث و مباحثے کے بعد جوائننگ دینے کا طے کیا، ملاقات میں ڈی آئی جی عمر شاہد حامد نےکوئٹہ سے بذریعہ ٹیلی فون شرکت کی ۔ 

 باخبر ذرائع کے مطابق تبادلہ کیے جانے والے افسران نےکراچی پولیس چیف عمران یعقوب منہاس اور آئی جی سندھ مشتاق مہر سے رابطہ کیا اور روٹیشن پالیسی سے اپنی پریشانی اور بادل نخواستہ چارج چھوڑنے کے فیصلے سے آگاہ کیا ۔ 

ذرائع کایہ بھی کہنا ہے کہ آئی جی سندھ مشتاق مہر نے تمام افسران کو آئی جی ہاوس مدعوکر کے ان کے اعزاز میں پر تکلف ضیافت کا اہتمام بھی کیا۔ بعد ازاں جمعہ 26 نومبر کومذکورہ افسران نےآئی جی سندھ مشتاق مہرکی قیادت میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے الواداعی ملاقات کی ۔اطلاعات یہ بھی ہیں کہ پنجاب اور خیبر پختون خواہ سے تبادلہ کیے جانے والے ڈی آئی جیز نے بھی سندھ آمد کا فیصلہ کر لیا،اس حوالے کے پی کے ڈی آئی جی غفور آفریدی نے بھی جمعے کو عہدے کاچارج دیا۔ 

ان کے اعزاز میں کے پی کے میں ضیافت کااہتمام کیا گیا۔ پیر29نومبرکو کراچی پہنچنے پر یہاں ان کا استقبال کیا گیا۔ عوامی حلقوں کہنا ہے کہ روٹیشن پالیسی کے تحت برسوں سے سندھ اور کراچی میں براجمان ان افسران کے تبادلوں سےنہ صرف سندھ پولیس کا قبلہ درست ہو گا، بلکہ مثبت نتائج ملنے کی بھی توقع ہے ۔ 

سوال یہ پیدا ہو تا ہے حکومت سندھ کی جانب سے جاری نئے حکمنامے کے بعد دیکھنایہ ہے کہ کیا وہ پوسٹنگ لینے میں بھی کام یاب ہوجائیں گے۔ شہری حلقوں کا یہ بھی کہنا ہےبااصول ،ایمان دار اور بے باک سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ افضل لطیف بغیر کسی سیاسی دباؤ ایسا کارنامہ ہے، جو پولیس کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھاجائے گا۔ 

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایس ایس یوکے ڈی آئی جی مقصود میمن شاید کسی کی با اثر شخصیت کی آشیرباد کی بنا پراپنی سلطنت چھوڑنےکو تیار نہیں ہیں، لیکن انھیں بھی ایک دن سندھ کو خیربادکہنا ہی ہو گا۔ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی مقصود میمن نے اپنا عہد ہ چھوڑنے کے لیے یہ شرط بھی رکھی ہے کہ ڈی آئی جی ایس ایس یو کے عہدے پریا میرے تجویز کردہ افسرکو تعینات کیا جائے یا عارضی تعیناتی کی جائے گی، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ڈی آئی جی سائوتھ جاوید اکبر ریاض جاتے جاتے ڈی آئی جی ساؤتھ آفس میں تزئین و آرائش اور ترقیاتی کام کے نام اپنے ہی نام کی تختی کی نصب کر کےجمعہ 26نومبر کو کراچی پولیس چیف عمران یعقوب منہاس کے ہاتھوں اس کی نقاب کشائی بھی کرا دی۔ 

اس موقع پر ڈی آئی جی اسپیشل برانچ نعیم شیخ، ڈی آئی جی ایسٹ ثاقب اسماعیل میمن اور ڈی آئی جی نعمان صدیقی بھی موجود تھے، ہم یہاں اس بات کی وضاحت بھی کرتے چلیں کہ روٹیشن پالیسی کی بنیاد سابق وزیر اعظم شہید محترمہ بے نظیربھٹو نے وفاق اورصوبوں میں ہم آہنگی کو مدِ نظررکھتےہو ئے اس لیے ڈالی تھی ایک ہی صوبے میں طویل عرصے رہنے کے باعث افسران مکس اپ ہو جاتے ہیں، جس کا اثر ان کی کارکرگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ روٹیشن پالیسی کے تحت تبا دلےکوئی نئی بات نہیں ہے ،جب کہ قبل ازیں بھی اسی پالیسی کے تحت ایک صوبےسے دوسرے صوبے میں افسران کے تبادلوں کا عمل جاری ہے ۔

سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اس مرتبہ بھی 8ڈی آئی جیزکےتبادلے روٹیشن پالیسی کے تحت ہی عمل لائے گئے ہیں تواس پر شور مچانا ہماری سمجھ سے بالاتر اور کسی خاص مقصد کی نشاندہی ضرور کررہا ہے ۔ واضح رہے کہ آئندہ ماہ روٹیشن پا لیسی کے تیسرے مرحلے میں بھی عرصہ دراز سے سندھ میں براجمان کئی افسران جن میں ڈی آئی جی پیر محمد شاہ ، ڈی آئی جی ناصر آفتاب ، ڈی آئی جی شرجیل کھرل ،ڈی آئی جی عاصم قائم خانی اور دیگر کے تبادلوں کی نوید سنادی جائے گی۔

اطلاعات یہ بھی ہیں کہ چند افسران تو تبادلے رکوانے کے لیے اسلام آباد کے چکر کاٹ کرآچکے ہیں ،اور وہ ایف آئی اے میں تعیناتی کے لیےسرگرداں نظر آرہے ہیں۔ عوامی حلقوں کی جانب سے وفاق کی روٹیشن پالیسی کے تحت افسران کے تبادلے پر ردعمل کا اظہار کرتےہوئے کہنا ہے کہ روٹیشن پالیسی کے تحت تبادلے کوئی انہونی بات نہیں ہے ۔ 

قبل ازیں بھی اسی پالیسی کے تحت افسران کے تبادلے ہوتے رہے ہیں، لیکن جب عرصہ دراز سے سندھ پولیس میں تعینات اپنے لاڈلوں کا نمبر آیا تو سندھ حکومت کا اس پر سخت ردعمل اور واویلاکر نے سے سندھ پولیس کے مذکورہ افسران پرسیاسی بھرتیوں کے الزام کو مزید تقویت بخشے گی ۔اب دیکھنا یہ ہے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید