• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم کینسر کے مریض وزیراعلٰی سندھ سے مودبانہ گزارش کرتے ہیں کہ ہماری دوائیں سندھ حکومت سے ملتی تھیں لیکن چار ماہ سے بون میرو کی دوائیں پہلے کووڈکی وجہ سے کم آرہی تھیں پھر جب دوائیں آگئیں تو جناح والوں نے بلایا، دوبارہ رجسٹریشن کی اور کاغذات بھی جمع کروائے ، آخر میں بیت المال کے فارم جمع کروائے اور کافی بار چکر بھی لگوائے، جب دوائی کمپنی والوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت، دوائی کمپنی اور بیت المال کا مسئلہ چل رہا ہے ابھی اور وقت لگے گا، اگر آپ کو پیسے سے دوائی لینی ہے تو ایک لاکھ 20ہزار جمع کروائیں اور کاغذات بھی جمع کروائیں تو دوائی ملتی رہے گی ورنہ جب یہ مسئلہ حل ہوگا تو پہلے کی طرح سول اسپتال سے دوائی ملنا شروع ہو جائے گی۔ ہم سندھ حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ کینسر کے مریضوں کو دوائی فوراً دلوائیں۔ یہ مریض پورے سندھ اور بلوچستان سے آکر دوائیں لیتے ہیں، دوا بہت مہنگی ہے، جوعام لوگوں کی دسترس سے باہر ہے۔ حکومت کی ذرا سی توجہ اور عنایت سے لاکھوں لوگوں کی زندگی بچ سکتی ہے۔

(نورمحمد۔کراچی)