• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرئیلی جاسوس سافٹ ویئر سے امریکی وزارت خارجہ کا فون ہیک

واشنگٹن ( نیوز ڈیسک) امریکی صدر جو بائیڈن کی حکومت کے ایک سینئر عہدے دار نے کہا ہے کہ بیرون ملک کام کرنے والے امریکی سفارتکاروں کو لاحق خطرات کے تناظر میں حکومت این ایس او جیسی اسرائیلی کمپنیوں کے خلاف کارروائی پر غور کررہی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق امریکی انتظامیہ کے 4عہدے داروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے ملازمین کے 9 موبائل فون اسرائیلی کمپنی کے تیار کردہ سافٹ وئیر کی مدد سے نامعلوم افراد نے ہیک کیے ہیں۔ چندماہ کے دوران کی جانے والی ہیکنگ کی ان کارروائیوں میں افریقی ملک یوگنڈا میں تعینات امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنایاگیا۔امریکی حکام پر یہ حملے اسرائیلی ٹیکنالوجی کے استعمال سے امریکا کونشانہ بنانے کی سب سے بڑی کارروائیاں ہیں۔ اس سے قبل امریکی عہدیداروں سمیت دیگرکئی ممکنہ اہداف میڈیامیں سامنے آئے تھے ،تاہم اس موقع پریہ واضح نہیں ہو سکا تھا کہ ہیکنگ کی کارروائیاں کامیاب ہوئی تھی یا نہیں۔ ادھر اسرائیلی گروپ این ایس او نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ اسے ہیکنگ کی سرگرمیوں میں اپنی ٹیکنالوجی کے استعمال کی کوئی اطلاع نہیں ہے ،تاہم متعلقہ اکائونٹ کومعطل کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ این ایس او کے ترجمان کے مطابق اگر ہماری تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ ہماری ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہیکنگ کی گئی ہے تو ہیکنگ کرنے والے صارف سے مستقل طور پر تعلق ختم کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔اسرائیلی کمپنی نے اس سے قبل بھی بتایا تھا کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کو فروخت کرتی ہے تاکہ وہ سیکورٹی خطرات پر نظر رکھ سکیں۔ کمپنی کے مطابق وہ خفیہ نگرانی کے کسی آپریشن کا حصہ نہیں بنتی۔
یورپ سے سے مزید