• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکومت میں آئے تو وزیر اعظم عمران خان سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات اور قطر گئے، عمران خان نے کہا تھا کبھی کسی سے نہیں مانگوں گا لیکن مانگا، قرضے دینے کیلئے 28 ارب ڈالرز لانے تھے۔

شوکت ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرضے دینے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، آئی ایم ایف کی اسٹیمپ لگ جائے تو دیگر بینک آپ کو قرضہ دینے لگتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ کم ترقی یافتہ صوبوں کیلئے لڑتا رہا ہوں، میرا شناختی کارڈ مردان سے ہے اور ووٹ صرف مردان میں رجسٹرڈ ہے۔

مشیر خزانہ نے کہا ہے کہ یہاں سے سینیٹر منتخب ہوا تو پہلے کی طرح کے پی کیلئے کام کروں گا، کراچی میں میرا ووٹ رجسٹرڈ ہی نہیں تھا، میرا ووٹ پہلے لاہور میں اور اب مردان میں رجسٹرڈ ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سینیٹر منتخب ہوکر اپنی کارکردگی برقرار رکھوں گا، قرضہ لے کر اسٹیٹ بینک کے ریزرو میں ڈال رہے ہیں، جب حکومت آئی تو 2018 میں 8 ارب ڈالر ریزرو تھے، اب 20 ارب ڈالر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے سینٹ الیکشن اس لئے لڑ رہا ہوں کہ یہاں میرا سسرال ہے، میری جماعت نے مجھے خیبرپختونخوا میں سینٹ کی نشست پر سپورٹ کیا۔

مشیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی صرف روپے کی قدر میں کمی وجہ سے نہیں ہوئی، اسحاق ڈار نے روپے کو پکڑ کر رکھا ہوا تھا، مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں، پوری دنیا میں ہے، امریکا میں مہنگائی میں ساڑھے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے، معیشت میں بہتری آرہی ہے، تین چار ماہ میں کوئلہ، اسٹیل اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔

قومی خبریں سے مزید